settings icon
share icon
سوال

کیا کلامِ مُقدس کے تحفظ کا عقیدہ بائبلی ہے؟

جواب


کلامِ مُقدس کے تعلق سے تحفظ کے عقیدے سے مراد یہ ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو اُس کے اصل معنی کے مطابق محفوظ رکھا ہواہے ۔ تحفظ کا عام مطلب یہ ہے کہ ہم صحائف پر بھروسہ کر سکتے ہیں اس لیے کہ کئی صدیوں سے جاری کلام ِ مقدس کی نسل در نسل منتقلی/ترسیل کے عمل کی خود خدا نے نگرانی کی ہے۔

اِسی اثناء میں ہمیں اس بات سے بھی آگاہ ہونا چاہیے کہ ہمارے پاس اصل مسودات/ہاتھ سے لکھی تحریریں موجود نہیں ہیں ۔ مگر ہمارے پاس ہزاروں نسخے/نقول موجود ہیں جن سے اصل تصانیف کی تصدیق کی جا سکتی ہے ۔ ان نسخوں کی مکمل جانچ پڑتال اور موازنے کے ذریعے سے یہ طے کیا جاتا ہے کہ اصل مسودات کیا بیان کرتے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ نسخوں/نقول کے درمیان میں بالکل کوئی اختلافات موجود نہیں ہے۔لیکن یہ اختلافات انتہائی چھوٹے اور معمولی درجے کے ہیں اور کسی بھی طرح سے خدا کے کلام کی بنیادی تعلیمات یا معنی پر اثر انداز نہیں ہوتے ۔ یہ اختلافات ہجوں میں معمولی فرق کی صورت میں ہیں ۔ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس سے کلام ِ مقدس کی درستگی پر کچھ اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا نے اپنے کلام کو محفوظ نہیں رکھا ہے ۔ خدا نے مافوق الفطرت انداز میں اپنے کلام کو محفوظ یا قائم رکھا ہوا ہے ۔

ابتدائی نقل نویس جن کا کام کلام ِ مقدس کے درست نسخے تیار کرنا تھا اس نقل نویسی کے عمل میں بے حد محتاط تھے ۔ درستگی کے پیشِ نظر اُن کی انتھک محنت کی ایک مثال یہ ہے کہ وہ مطلوبہ کتاب کے حروف کی گنتی کرتے اور اس کے درمیانی حرف تک کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے اور اُس پر غور کرتے تھے۔ اس کے بعد وہ نقل کے بالکل درست اور مماثل ہونے کو یقنیی بنانے کےلیے نقل کے ساتھ بھی اسی عمل کو دُہراتے ۔ وہ درستگی کو یقینی بنانے کےلیے ایسے مشکل طریقوں کا استعمال کرتے تھے جن میں بے حد محنت اور وقت درکا ر ہوتا تھا ۔

اس کے علاوہ ہم مندرجہ ذیل ان آیات پر بھی غورو خوص کر سکتے ہیں جو اپنے کلام کو محفوظ رکھنے کےلیے خدا کے منصوبے کی وضاحت کرتی ہیں ۔ متی 5باب 18آیت میں یسوع نے فرمایا ہے " کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتاہوں کہ جب تک آسمان اورزمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پُورا نہ ہو جائے۔" اس آیت میں یسوع اعلان کرتا ہے کہ عبرانی حروف کا ایک نقطہ بھی اُس وقت تک نہیں ٹلے گا جب تک تمام باتوں کی تکمیل نہ ہو جائے ۔ یسوع اُس وقت تک یہ وعدہ نہیں کر سکتا تھا جب تک اُسے یہ یقین نہ ہو تا کہ خدا اپنے کلام کو محفوظ رکھے گا ۔ یسوع نے یہ بھی فرمایا ہے "آسمان اور زمین ٹل جائیں گے لیکن میری باتیں ہرگز نہ ٹلیں گی" ( متی 24باب 35آیت؛ مرقس 13باب 31آیت؛ لوقا 21باب 33آیت)۔ یسوع ایک بار پھر تصدیق کرتا ہے کہ خدا کا کلام ہرگز نہ ٹلے گا۔ خدا کا کلام قائم رہے گا اور اُن باتوں کی تکمیل کرے گا جو خدا کے منصوبے میں شا مل ہیں ۔

یسعیاہ نبی نے رُوح القدس کی تحریک کے وسیلہ سے فرمایا ہے کہ خدا کا کلام ہمیشہ رہے گا ۔ "ہاں گھاس مُرجھاتی ہے ۔ پھول کملاتا ہے پر ہمارے خُدا کا کلام ابد تک قائم ہے"(یسعیاہ 40باب 8آیت)۔ اس بات کی دوبارہ تصدیق اُس وقت ہو تی ہے جب پطرس رسول نئے عہد نامے میں اسی حوالے کا ذکر کرتا ہے اور اِسے " خوشخبری کے کلام " ( 1پطرس 1باب 24-25آیات) کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ خدا کی طرف سے بائبل مقدس کی حفاظت کےتصور کو سمجھے بغیر نہ تو یسعیاہ نبی اور نہ ہی پطرس رسول ایسے دلائل دے سکتا تھا ۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب بائبل خدا کے کلام کے ہمیشہ قائم رہنے کے بارےمیں بیان کرتی ہے تو وہ کلامِ مُقدس کوئی ایسا تصور پیش نہیں کر رہی جس کے مطابق کلامِ مُقدس آسمان پر کسی خاص مقام پر چھپایا گیا ہو۔ خدا کا کلام خصوصی طور پر بنی نو ع انسان کےلیے دیا گیا تھا اور اگر یہ ہمارے لیے دستیاب نہ ہوتا تو اس نے اپنا مقصد پورا نہیں کرنا تھا ۔ "کیونکہ جتنی باتیں پہلے لکھی گئیں وہ ہماری تعلیم کےلیے لکھی گئیں تاکہ صبر سے اور کِتابِ مُقدس کی تسلی سے اُمید رکھیں" ( رومیوں 15باب 4آیت)۔ یہ بھی قابلِ غور بات ہے کہ کوئی شخص خدا کے کلام میں درج انجیل کے پیغام کےبغیر نجات نہیں پا سکتا ( 1کرنتھیوں 15باب 3-4آیات)۔ لہذا انجیل کے پیغام کی " زمین کی انتہا" ( اعمال 13باب 47آیت) تک منادی کرنے کےلیے کلام کی سچائیوں اور عقائد کو محفوظ رکھنا ضروری ہے ۔ اگر کلام ِ مقدس کو غیر فطری طور پر محفوظ نہیں کیا گیا تھا تو اُس میں موجود پیغام کی ہم آہنگی کی یقین دہانی کرنے کےلیے کوئی راستہ نہیں ہو گا ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا کلامِ مُقدس کے تحفظ کا عقیدہ بائبلی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries