settings icon
share icon
سوال

خدا کی حضوری میں ہونے سے کیا مراد ہے ؟

جواب


گناہ میں پڑنے سے پہلے آدم اور حوّا خدا کی حضوری میں اُس کے ساتھ گہری رفاقت رکھتے تھے (پیدایش 3باب8آیت)۔ اُس وقت سے گناہ نے خدا کی حقیقی حضوری میں جانے کی ہماری صلاحیت کو روک دیا ہے (خروج 33باب 20آیت)۔ اب صرف پاک اور بے گناہ فرشتے ہی خُدا کی حقیقی حضوری میں ہیں (لوقا 1باب 19آیت)۔ لیکن خدا کے رُوح القدس کی موجود گی کے وسیلہ سے مسیحی اپنے اندر خُدا کی حضوری رکھتے ہیں (یوحنا 14 باب 16-17، 23آیات؛ 15باب 4آیت؛ 1کرنتھیوں 2باب 10-16آیات؛ افسیوں 1باب 13-14آیات) اور رُوح القدس کی یہ موجودگی صرف خُداوند یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے آتی ہے ۔

ہم اُس کے کلام کی فرمانبرداری کرنے کے وسیلہ سے اُسکی موجودگی/حضوری کی حقیقت سے واقف ہوتے ہیں۔ ہم "ایک برگزِیدہ نسل۔ شاہی کاہنوں کافرقہ۔ مُقدس قوم اور اَیسی اُمّت (ہیں) جو خُدا کی خاص ملکیت ہے تاکہ اُس کی خُوبِیاں ظاہر (کریں) جس نے (ہمیں )تارِیکی سے اپنی عجیب رَوشنی میں بُلایا ہے" (1پطرس 2باب 9آیت)۔ پطرس کہتا ہے کہ ہم "ایک برگریدہ نسل ۔۔۔۔۔۔ خدا کی خاص ملکیت "ہیں ۔ اگر ہم اُس کے لوگ ہیں تو کیا وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہوگا؟ ہم خدا کی موجودگی کی حقیقت کو کبھی نہیں کھوتے ہیں، چاہے ہم کتنی ہی بُری طرح ناکام کیوں نہیں ہوتے ؛ ہم کبھی بھی اتنے گنہگار نہیں ہوتے کہ نجات کا دروازہ ہمارے لیے بند ہو جائے ۔ ہم کبھی بھی اس حد تک زوال پذیر نہیں ہوتے کہ رُوح القدس ہم سے جُدا ہو جائے ۔ اپنے گناہ کی وجہ سے ہم خُدا کو ناراض کر سکتے ہیں لیکن حقیقی ایماندار کبھی بھی رُوح القدس کی موجودگی سے محروم نہیں ہوتے۔ اگرچہ ہم کبھی بھی خدا کی موجودگی کی حقیقت سے محروم نہیں ہوں گےمگر ہم اُس کی موجودگی/حضوری کا "احساس" کھو سکتے ہیں۔

خدا کا ہر فرزندمستقل طور پر وقتاً فوقتاً خدا کی حضوری کو کھونے کے اس احساس کا تجربہ کرتا ہے جیسے کہ ایک زمیندار اپنا گھر چھوڑ کر کچھ عرصے کے لیے کاروبار پر چلا گیا ہو۔ ایسا کرنے والے زمیندار نے گھر کو بالکل خالی نہیں کر دیا ہوتا کیونکہ اگر وہ ایسا کرتا تو وہ اپنا سارا سامان ساتھ لے جاتا۔ لیکن چونکہ اُس نے اپنا سارا فرنیچر اور سامان اُس گھر میں چھوڑ دیا ہے لہذا کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوبارہ لوٹ آئے گا؟ ہر ایک ایماندار جانتا ہے کہ رُوحانی کمزوری کے اوقات آتے ہیں جب ممکنہ طور خدا وند ہمارے ایمان کو جانچنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ کیا وہ ہمیں مصیبت کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں اِس لیے نہیں ڈالتا تاکہ ہم اور بھی زیادہ خالص ہو جائیں (ایوب 23باب 10آیت؛ 1پطرس 1باب 7آیت)؟

خدا کی حضوری میں ہونے کا عملی نتیجہ خوشی ہے! بہت سے مسیحی اداس اور مایوس نظر آتے ہیں کیونکہ اُن میں خدا کی حضوری کا احساس نہیں ہے۔ رفاقت اُن لوگوں کے لیے تسکین بخش چیز ہے جو فرمانبرداری اور ایمان کے ساتھ خداوند کے ساتھ چلتے ہیں۔ لیکن وہ تسکین بخش رفاقت جو خداوند کی فرمانبرداری اور اُس پر بھروسے سے حاصل ہوتی ہے وہ ایک وقتی احساس نہیں ہے ۔ یہ ہمیں بالخصوص آزمائشوں کے دوران قائم رکھتا ہے کیونکہ "خُداوند کی شادمانی تمہاری پناہ گاہ ہے"(نحمیاہ 8باب 10آیت)۔ خُداوند کا بھائی یعقوب لکھتا ہےکہ " اَے میرے بھائیو! جب تم طرح طرح کی آزمایشوں میں پڑو۔ تو اِس کو یہ جان کر کمال خُوشی کی بات سمجھنا کہ تمہارے اِیمان کی آزمایش صبر پَیدا کرتی ہے"(یعقوب 1باب 2-3آیات)۔ جب ہم آزمائشوں کے دوران ثابت قدم رہتے ہیں اور اپنے آپ اور دوسروں پر ثابت کرتے ہیں کہ ہمارا ایمان حقیقی ہےتو خُدا کی موجودگی کا ہمارا احساس گہرا ہوتا جاتا ہے اور اس طرح ہماری خوشی بھی بڑھتی جاتی ہے ۔

داؤد ایک ایسی خوشی کی بات کرتا ہے جسے صرف راست باز ہی جان سکتا ہے (16زبور 11آیت) – ایک ایسی خوشی جو اُس عظیم اور ابدی خوشی کی پیشین گوئی ہے جب ہم آنے والے جلال میں خداوند کےمُقدس چہرے کو دیکھیں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خدا کی حضوری میں ہونے سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries