settings icon
share icon
سوال

شادی سے پہلے جنسی تعلقات/مباشرت - مسیحی اس کے اتنے سخت خلاف کیوں ہیں؟

جواب


شادی سے پہلے جنسی تعلقات ایسے کسی بھی طرح کے جنسی رابطے پر مشتمل ہوتا ہے جو قانونی شادی کے رشتے میں بندھنے سے پہلے قائم کیا جاتا ہے۔ اس کی متعدد وجوہات ہیں کہ کلامِ مقدس اور روایتی مسیحیت اس کی کیوں مخالفت کرتے ہیں ۔ جنسی تعلقات کو خدا نے اس طور سے قائم کیا ہے کہ اس سے ایک مرد اور ایک عورت وقف شدہ ازدواجی رشتے میں لطف اندوز ہو سکیں ۔ اسے اس سیاق و سباق سے ہٹانا اس کے استعمال کو بگاڑنااور اس کے لطف کو سختی سے محدود کرنا ہے۔ جنسی تعلق قربت کا وہ درجہ ہوتا ہے جس کا تجربہ کسی اورانسانی رشتے میں نہیں ہوتا ۔ جب خُدا نے آدم اور حوّا کو شادی کے بندھن میں متحد کیا تو اُس نے اُن کے درمیان "ایک جسم"ہونے کا رشتہ قائم کیا۔ پیدایش 2باب 24آیت ہمیں بتاتی ہے کہ آدمی اپنے خاندان کو چھوڑ دے گا، اپنی بیوی سے ملا رہے گا اور اُس کے ساتھ " ایک جسم" ہوگا۔

یہ تصور تمام نئے عہد نامے میں بھی پیش کیا گیا ہے؛ ہم اِسے متی 19باب 5آیت اور مرقس 10باب 7آیت میں خُداوند یسوع کے الفاظ میں دیکھتے ہیں۔ پولس رسول اس خیال کی وضاحت 1 کرنتھیوں 6باب 12-20آیات میں ہمارے بدنوں اور ہماری رُوحوں پر خُدا کی حاکمیت کے بارے میں اپنی بحث میں کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب کوئی مرد کسی کسبی کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو وہ " ایک جسم " ہو جاتے ہیں (16آیت )۔ یہ پوری طرح واضح ہے کہ جنسی تعلق خاص ہے۔ جنسی تعلقات میں کوئی بھی شخص عدم تحفظ کے ایک ایسے مقام کا تجربہ کرتا ہے جو صرف اور صرف ایک وقف شدہ، پُراعتماد، ازدواجی اتحاد کے اندر پایا جانا چاہیے۔

شادی سے پہلے جنسی تعلقات کے پیچھے عام طور پر دو سیاق و سباق ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ "ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہیں لیکن شادی ہونے کا انتظار نہیں کرنا چاہتے" اور دوسرا "بے ضابطہ جنسی ملاپ " ہوتا ہے۔ پہلے معاملے میں اکثر اس خیال کے ساتھ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ جوڑا یقیناً بعد میں شادی کر لے گا، لہذااب ازدواجی تعلقات میں ملوث ہونے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ تاہم یہ چیز بے صبری اور اپنے آپ کے ساتھ ساتھ دوسرے شخص کے لیے بھی بے قدری کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ عمل رشتے کی خاص فطرت کو اُس کے اصل نمونے سے ہٹا دیتا ہے اوریہ اِس خیال کو کم کر دے گا کہ اصل میں ایک نمونہ موجود ہے۔ اگر ہم اس رویے کو قبول کرتے ہیں تو زیادہ دیر نہیں لگے گی کہ ہم شادی سے پہلے کسی بھی جنسی تعلق کو قابل قبول سمجھیں گے۔ اپنے ہونے والے جیون ساتھی کو یہ بتانا کہ آپ انتظار کرنے کے قابل ہیں تعلقات کو مضبوط کرتا اور وابستگی کے درجے کو بُلند کو کرتا ہے۔

بہت سے معاشروں میں بے ضابطہ جنسی تعلق بکثرت پایا جاتا ہے ۔ درحقیقت، جنسی تعلقات میں شامل قربت کی گہرائی کے باعث " بے ضابطہ" جنسی تعلق جیسی کوئی چیز موجود نہیں ہے ۔ ایک تمثیل اس حوالے سے سبق آموز ہے۔ اگر ہم کسی چیز کو گوند کے ساتھ دوسری چیز سے چپکاتے ہیں تو وہ اُس سے چپک جائے گی ۔ اگر ہم اسے ہٹاتے ہیں تو یہ اپنے پیچھے کچھ باقیات چھوڑ جائے گی ؛یہ جتنی زیادہ دیر تک چپکی رہے گی یہ اُتنی ہی زیادہ باقیات چھوڑے گی ۔ اگر ہم اس گوند لگی چیز کو مزید کئی اور چیزوں سے بار بار چپکاتے رہتے ہیں تو یہ ہر اُس چیز کے ساتھ اپنی باقیات چھوڑتی جائے گی جس جس سے ہم نے اُسے چپکایا تھا اور آخر کار یہ کسی بھی چیز سے چپکنے کی اپنی صلاحیت کھو دے گی۔ جب ہم "بے ضابطہ " جنسی تعلقات میں ملوث ہوتے ہیں تو ہمارے ساتھ بڑی حد تک ایسا ہی ہوتا ہے ۔ ہر بار جب ہم کسی جنسی تعلق کو ترک کرتے ہیں تو ہم اپنی ذات کا ایک حصہ پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ جب ہم ایک ساتھی کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف بڑھ جاتے ہیں تو ہم ہر بار اپنی ذات کے ایک چھوٹے سے حصہ کوکھوتے رہتے ہیں اور بالآخر ہم ایک دیرپا جنسی تعلق قائم کرنے کی اپنی صلاحیت کو کھو سکتے ہیں۔ جنسی تعلق اتنا مضبوط اور اتنا گہرا ہے کہ ہم بے ضابطہ طور پر اس میں داخل نہیں ہو سکتے، چاہے یہ کتنا ہی آسان نظر کیوں نہ آئے ۔

تو کیا کوئی اُمید ہے؟ جب کو ئی مسیحی شادی سے پہلے جنسی تعلقات میں ملوث ہوتا /ہوتی ہے یا جب کوئی ایسا شخص جو اپنا کنوار پن کھو چکا ہو مسیح کے پاس آتا ہے تو رُوح القدس اِس گناہ کے لیے اُسے مُورِ الزام ٹھہرائے گا اور اُس پر افسوس کرے گا۔ تاہم یہ یاد رکھنا بہت اہم –حتیٰ کہ ناگزیر ہے کہ کوئی بھی گناہ خداوند یسوع کے خون کی قدرت سے باہر نہیں ہے۔ اگر ہم اقرار کرتے ہیں تو وہ نہ صرف ہمیں معاف کرے گا بلکہ ہمیں " ساری ناراستی" سے پاک بھی کرے گا (1 یوحنا 1باب 9آیت )۔ مزید برآں، معافی (جو اپنے آپ میں شاندار ہے)کے علاوہ خدا بحالی بھی بخشتا ہے۔ یوایل 2 باب 25 آیت میں خُدا اسرائیل سے فرماتا ہے کہ وہ اُن سالوں کی کمی کو پورا کر دے گا جو ٹڈیوں کی نظر ہو گئے تھے۔ گوکہ یہ آج کل کے مسیحیوں سے براہِ راست وعدہ نہیں ہے لیکن یہ خدا کے بحال کرنے والے کردار کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شادی سے پہلے جنسی تعلق ایک ٹڈی کی طرح ہے جو ہماری خود شناسی، ہماری خود اعتمادی اور ہمارے معافی کے تصور کو چٹ کر جاتا ہے۔ لیکن خدا اِن سب چیزوں کو بحال کر سکتا ہے۔ کلامِ مقدس ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ جب ہم مسیح کے پاس آتے ہیں تو ہم نیا مخلوق بن جاتے ہیں (2 کرنتھیوں 5باب 17) لہٰذا جو شخص مسیحی ایمان میں آنے سے قبل شادی سے پہلے جنسی تعلق میں ملوث رہا ہےاُس کو خدا کی طرف سے ایک نئی انسانیت میں دوبارہ تخلیق کیا جاتا ہے؛ پرانی انسانیت جاتی رہی اور نئی قائم ہو چکی ہے ۔

آخر میں، ہم جانتے ہیں کہ بحیثیت مسیحی جب ہم خُداوند یسوع کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں توہمیں رُوح القدس کے وسیلے ہر زور نیا بنایا جا رہا ہے۔ کلسیوں 3باب 10آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ہماری نئی انسانیت کو دن بدن اپنے خالق کی صورت پر نیا بنایا جا رہا ہے۔ ایسا کوئی گناہ نہیں جس کے لیے معانی کی کوئی اُمید نہ ہو۔ انجیل کی قوت اُن تمام لوگوں کے لیے میسر ہے جو معافی کے لیے خدا وند یسوع پر بھروسہ رکھتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

شادی سے پہلے جنسی تعلقات/مباشرت - مسیحی اس کے اتنے سخت خلاف کیوں ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries