settings icon
share icon
سوال

کیا بائبل فرشتوں سے دُعا کرنے کے عمل کو فروغ دیتی ہے یا پھر اِس سے منع کرتی ہے؟

جواب


اگر چہ بائبل میں ایسی کوئی آیت موجود نہیں ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہو کہ " تم فرشتوں سے دُعا نہ کرنا " مگر یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ہمیں فرشتوں سے دُعا نہیں کرنی چاہیے ۔ بنیادی طور پر دُعا ایک عبادتی عمل ہے ۔ اور جس طرح فر شتےاِس بات کو نا پسند کرتے ہیں کہ ہم اُنکی پرستش کریں ( مکاشفہ 22باب 8-9آیات) اسی طرح جب ہم اُن سے دُعا کریں گے تو وہ ہماری دُعاؤں کو بھی مسترد کر دیں گے ۔ خدا کے علاوہ کسی اور ہستی کی عبادت کرنا یا اُس سے دُعا مانگنا بُت پرستی ہے ۔

فرشتوں سے دُعا کرنا غلط کیوں ہے اس بارے میں دیگر کئی طرح کی عملی اور الہیاتی وجوہات پائی جاتی ہیں ۔ مسیح یسو ع نے خود خدا باپ کے علاوہ کسی اور سے کبھی دُعا نہیں کی تھی ۔ جب اُس کے شاگردوں نے اُس سے کہا کہ وہ اُنہیں دُعا کرنا سکھائے تو یسوع نے اُنہیں حکم دیا کہ " پس تم اِس طرح دُعا کیا کرو کہ اَے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے ۔۔۔۔۔۔۔" ( متی 6باب 9آیت؛ لوقا 11باب 2آیت)۔ اگریسوع کے شاگرد ہوتے ہوئے ہمارے لیے فرشتوں سے دُعا کرنا ضروری عمل ہوتا تو اس موقع پر یسوع نے ہمیں بتا دینا تھا ۔ بے شک ہم صرف خدا سے دُعا کرتے ہیں ۔ یہ بات متی 11باب 25-26آیات جیسے حوالہ جات میں بھی واضح ہے جہاں مسیح یسوع کی دُعا کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے " اَے باپ آسمان اور زمین کے خُداوند مَیں تیری حمد کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔" یسوع اپنی دعاؤں کا آغاز نہ صرف خداباپ سے مخاطب ہونے کے ذریعے کرتا ہے بلکہ اُس کے دُعائیہ الفاظ میں عام طور ایسی مدد کے لیے التجا پائی جاتی ہے جو ایک ایسی ہستی کی طرف سے ہی فراہم جا سکتی ہے جو قادرِ مطلق، علیم ِ کل اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہو ۔ فرشتوں سے دُعا کرنا غیر موثر ہے کیونکہ وہ مخلوق ہیں اور اُن کے پاس ایسے اختیارات نہیں ہیں ۔

فرشتوں سے دُعا مانگنے کے معاملے کے خلاف یوحنا 17باب 1-26آیات کا جائزہ پیش کرنے کے ذریعے سے بھی دلیل دی جا سکتی ہے جہاں یسوع اپنے پیروکاروں کی خاطر خدا باپ سے اُنہیں بہت سی برکتیں بخشنے کی دُعا کرتا ہے جن میں مقدسین کی تقدیس، جلال اور استحکام بھی شامل ہیں ۔ یہ تینوں برکات صرف اُسی حقیقی سرچشمے کی طرف سے نازل ہو سکتی ہیں جس کے پاس وہ موجودہیں اور ایک بار پھر فرشتوں کے پاس یہ اختیار بالکل نہیں ہے ۔ فرشتے ہماری تقدیس نہیں کر سکتے ، وہ ہمیں جلالی حالت میں نہیں پہنچا سکتے اور وہ مسیح میں ہماری میراث کی ضمانت بھی نہیں دے سکتے ( افسیوں 1باب 13-14آیات)۔

دوسری بات، یوحنا 14باب13آیت میں مسیح یسوع خود ایمانداروں سے کہتا ہے کہ ہم اُس کے نام سے سے جو کچھ چاہیں گے وہ ہو جائے گا کیونکہ وہ باپ سے براہ راست التجا کرتا ہے ۔ فرشتوں سے دُعا کرنا غیر مؤثر ہے اور یہ دعا سے متعلق بائبلی تعلیمات سے خالی بھی ہو گا ۔ ایک اور بیان جہاں یسوع اس بات کا ذکر کرتا ہے کہ دُعا صرف اُسی کے نام سے کی جانی چاہیے یوحنا 16باب 26آیت میں درج ہے ۔ اس آیت میں یہ پیغام ملتا ہے کہ مسیح کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد وہ تمام ایمانداروں کےلیے باپ سے شفاعت کرنے کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ باپ سے شفا عت کرنے والے کی حیثیت سے نہ تو فرشتوں کی اور نہ ہی کبھی کسی اور مخلوق کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ صرف بیٹا اور رُوح القدس ( رومیوں 8باب 26آیت) ہی باپ کے حضور شفاعت کر سکتے ہیں ۔

آخر ی بات ، 1تھسلنیکیوں 5باب 17آیت ایمانداروں کو باقاعدگی سے دُعا کرنے کےلیے کہتی ہے ۔ یہ تب ہی ممکن ہو گا جب ایک ایماندار کی اُس خدا تک رسائی ہو جو ایک ہی وقت پر ہر ایماندار کی دُعا کو سُننے کےلیے ہمیشہ حاضر و ناظر ہوتا ہے ۔ فرشتے یہ قابلیت نہیں رکھتے – وہ ہر جگہ حاضرو ناظر یا قادرِمطلق نہیں ہیں – اور اس وجہ سے وہ ہماری دُعاؤں کو قبول کرنے کے لیے نا اہل ہیں ۔ مسیح کے وسیلے سے خدا باپ سے دعا کرنا ہی وہ اہم اور موثر ذریعہ ہے جس کی بدولت ہم خدا باپ کے ساتھ رفاقت رکھ سکتے ہیں۔ یقیناً فرشتوں سے دعا کرنا بائبلی تعلیمات پر مبنی تصور نہیں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا بائبل فرشتوں سے دُعا کرنے کے عمل کو فروغ دیتی ہے یا پھر اِس سے منع کرتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries