settings icon
share icon
سوال

غیر/بیگانہ زبانوں میں دُعا کرنے سے کیا مُراد ہے؟کیا غیر/بیگانہ زبان خُدا اور انسان کے درمیان خاص دُعائیہ زبان ہے؟

جواب


غیر زبانوں میں دُعا کرنے کے بارے میں کلامِ مقدس کے یہ چار اہم ترین حوالہ جات ثبوت کے طور پیش کئے جاتے ہیں: رومیوں 8باب 26آیت؛ 1کرنتھیوں 14باب 4-17آیات؛ افسیوں 6باب 18آیت؛ اور یہوداہ 20آیت۔ افسیوں 6باب 18آیت اور یہوداہ 20آیت " رُوح میں دُعا" کرنے کا ذکر کرتی ہیں ۔ بہرحال غیر زبانوں کو دعائیہ زبان کے طور پر سمجھنا " رُوح میں دُعا" کرنے کی ممکنہ تشریح نہیں ہے ۔

رومیوں 8باب 26 آیت ہمیں سکھاتی ہے " اور اِسی طرح رُوح بھی ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے کیونکہ جس طور سے ہم کو دُعا کرنا چاہیے ہم نہیں جانتے مگر رُوح خود ایسی آہیں بھر بھر کر ہماری شفاعت کرتا ہے جن کا بیان نہیں ہو سکتا"۔ یہاں پر دو اہم نکات ہیں جو اِس خیال کو نا قابلِ یقین بناتے ہیں کہ رومیوں 8باب 26آیت غیر زبانوں کو دعائیہ زبان کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ پہلا، رومیوں 8باب 26آیت بیان کرتی ہے کہ یہ رُوح ہے جو " آہیں بھر بھر کر " دُعا /شفاعت کرتاہے نہ کہ ایماندار ۔ دوسرا، رومیوں 8باب 26آیت بیان کرتی ہے کہ رُوح کی " آہیں " الفاظ کی صورت میں بیان نہیں کی جا سکتیں۔ مگر غیر زبان میں بولنے کے عمل کی بنیاد تو الفاظ کی ادائیگی پر ہے ۔

اب ہم 1کرنتھیوں 14با ب 4-17آیات کی طرف آتے ہیں ۔ 14آیت بیان کرتی ہے " اگر مَیں کسی بیگانہ زُبان میں دُعا کروں تو میری رُوح تو دُعا کرتی ہے مگر میری عقل بیکار ہے"۔1کرنتھیوں 14باب 14آیت واضح طور پر " بیگانہ زُبان میں دُعا " کرنے کا ذکر کرتی ہے ۔ لہذا اس سے کیا مراد ہے ؟ سب سے پہلےتو اِس آیت کے سیاق و سباق کا مطالعہ ضروری ہے ۔ 1کرنتھیوں 14باب بنیادی طور پر غیر زبانوں میں دُعا کرنے کی نعمت اور نبوت کی نعمت کے درمیان موازنہ ہے ۔ 2-5آیات اس بات کو واضح کر تی ہیں کہ پولس کے نزدیک نبوت کی نعمت غیر زبانوں کی نعمت سے زیادہ افضل ہے ۔ اِس کے ساتھ ساتھ پولس رسول غیر زبانوں کی اہمیت بھی بیان کرتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ وہ کسی بھی اور انسان کی نسبت زیادہ زبانیں بولتا ہے اور وہ اِس بات سے خوش ہے ۔

اعمال 2باب غیر زبانوں کی نعمت کے پہلی بار نازل ہونے کے بارے میں بیان کرتا ہے ۔ عیدِ پنتِکست کے دن رسول غیر زبانیں بولنے لگے ۔ اعمال 2باب صاف طور پر پیش کرتا ہے کہ رسول ایک انسانی زبان بول رہے تھے ( اعمال 2باب 6-8آیات)۔ اعمال 2باب اور 1کرنتھیوں 14باب میں جس لفظ کا ترجمہ " زبانیں" کیا گیا ہے وہ لفظ اصل میں "گلوسا"( glossa) ہے جس کے معنی "زبان" ہے ۔ اور اسی لفظ سے انگریزی زبان کا لفظ "گلوسری"( glossary) ماخوذ ہے ۔ غیر/بیگانہ زبانوں میں میں بولنے سے مراد ایک ایسی زبان بولنے کی صلاحیت تھی جسے بولنے والاپہلے سے نہیں جانتا تھا مگر انجیل کے پیغام کو سنانے کےلیےوہ زبان ایسے کسی شخص کے ساتھ بولی جاتی تھی جسے وہ سننے والا شخص جانتا اور سمجھتا تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ کرنتھس کے کثیر ثقافتی شہر میں غیر زبانوں کی نعمت بڑی قابلِ قدر اور نمایاں تھی۔ غیر زبانوں کی نعمت کے باعث کرنتھس کی کلیسیا کے ایمان دار زیادہ بہتر طور پر انجیل کے پیغام اور خدا کےکلام کو سُنانے کے قابل تھے ۔ تاہم پولس رسول نے متعد دبار اس بات کو واضح کیا ہے کہ جب غیر زبانوں کا استعمال کیا جائے تو اُن کا ترجمہ بھی کیا جائے ( 1کرنتھیوں 14باب 27،13آیت )۔ کرنتھس کی کلیسیا کاکوئی بھی ایماندار خدا کے کلام کو بانٹنے کےلیے ایسے کسی شخص کے ساتھ غیر زبان بول سکتا تھا جو اُس زبان کو سمجھتا تھا اور اِس کے بعد وہ ایماندار یا کلیسیا کا کوئی اور ایماندار غیر زبان میں بولے گئے الفاظ کا ترجمہ کرتا تاکہ باقی جماعت بھی ان باتوں کو سمجھ سکے ۔

لہذا غیر زبانوں میں دعا کرنا کیا ہے اور یہ عمل غیر زبانیں بولنےسے مختلف کیسے ہے ؟ 1کرنتھیوں 14باب 13-17آیات اِس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ غیر زبانوں میں کی جانے والی د عا کا بھی ترجمہ کیا جانا چاہیے ۔ اس لحاظ سے ایسا لگتا ہے کہ غیر زبانوں میں دُعا کرنا خدا کے حضور دُعا کرنا تھا ۔ یہ دُعا اُس شخص کےلیےتو مدد گار تھی جو اُس زبان کو بول سکتا تھا مگر اس کے باوجود ایسی دُعا کا ترجمہ کیا جانا ضروری تھا تاکہ تمام کلیسیا کی ترقی ہو سکے ۔

ایسے لوگ جو غیر زبانوں میں دعا کرنے کو دعائیہ زبان کے طور پر لیتے ہیں وہ اس تشریح سے متفق نہیں ہوتے ۔ اِس متبادل مفہوم کا خلاصہ کچھ اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے : غیر زبانوں میں دُعا کرنا ایماندار اور خدا کے درمیان ایک شخصی دعائیہ زبان ہے ( 1کرنتھیوں 14باب 2آیت) جسے ایماندار اپنی ترقی کےلیے استعمال کرتا ہے ( 1کرنتھیوں 14 باب 4آیت)۔ یہ تشریح مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر بائبل سے متفق نہیں ہے :

‌أ. اگر اِس دُعا کا ترجمہ کیا جانا ضروری ہے تو پھر غیر زبانوں میں دُعا کرنا شخصی دعائیہ زبان کیسے ہو سکتاہے؟ ( 1کرنتھیوں 14باب 13-17آیات)

‌ب. جب کلام ِ مقدس بیان کرتا ہے کہ رُوحانی نعمتیں کلیسیا کی ترقی کےلیے ہیں نہ کہ شخصی ترقی کےلیے تو پھر غیر زبانوں میں دُعا کرنا شخصی ترقی کےلیے کیسے ہو سکتاہے ؟ ( 1کرنتھیوں 12باب 7آیت)

‌ج. جب غیر زبانوں کی نعمت " بے ایمانوں کےلیے نشان ہے " تو پھر غیر زبان میں دُعا کرنا شخصی دُعائیہ زبان کیسے ہو سکتی ہے؟ ( 1کرنتھیوں 14باب 22آیت)

‌د. بائبل اس بات کو واضح کرتی ہے کہ ہر شخص کو غیر زبانیں بولنے کی نعمت حاصل نہیں ہوتی ( 1کرنتھیوں 12باب 28،11-30آیات)۔ اگر غیر زبانیں بولنے کی نعمت ہر ایماندار کو حاصل نہیں ہو سکتی تو یہ نعمت شخصی ترقی کےلیے کیسے ہو سکتی ہے ؟ کیا ہم سب کو ترقی کرنے کی ضرورت نہیں ؟

کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ غیر زبانوں میں دُعا کرنا " خفیہ زبان" میں دُعا کرنا ہے کیونکہ یہ عمل شیطان اور اُس کی بد ارواح کو ہماری دُعا کو سمجھنے اور اِس کے نتیجے میں ہم پر غالب آنے سے روکتا ہے ۔ یہ تشریح بھی مندرجہ ذیل وجوہات کی بناء پر بائبل کے مطابق نہیں ہے :

‌أ. نیا عہد نامہ مستقل طور پر غیر زبانوں کو انسانی زبان(عام بولی جانے والی زبان) کے طور پر بیان کرتا ہے اور شیطان اور اُس کی بد ارواح انسانی زبان کو بہتر طور پر سمجھنے کے قابل ہیں۔

‌ب. بائبل بے شما ر ایسے واقعا ت کو قلمبند کرتی ہے جس میں ایماندار اپنی دُعا کے تعلق سے شیطان کے بارے میں فکر مند ہوئے بغیر اپنی زبان میں بلند آواز سے دُعا کرتے ہیں ۔ حتیٰ کہ ا گر شیطان اور اُس کی بد ارواح ہماری دُعا ؤں کو سُن اور سمجھ بھی لیں تو اِس کے باوجود اُن کے پاس قطعی کوئی طاقت نہیں کہ وہ خدا کو اپنی مرضی کے مطابق ہماری دُعاؤں کا جواب دینے سے روک سکیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا ہماری دُعاؤں کو سُنتا ہے اِس حقیقت کے پیشِ نظر اگر شیطان اور اُس کی بد ارواح ہماری دُعائیں سُن اور سمجھ بھی لیں تو اِس سے کچھ فرق نہیں پڑا۔

لہذا ہم اُن مسیحیوں کے بارے میں کیا کہیں جو غیر زبانوں میں دعا کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں او راِس عمل کو شخصی ترقی کےلیے مفید سمجھتے ہیں ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ایمان اور اعمال کی بنیاد تجربات کی بجائے کلامِ مقد س پر ہونی چاہیے ۔ ہمیں اپنے تجربات کو کلام ِمقدس کی روشنی میں پرکھنا چاہیے نہ کہ کلامِ مقدس کو تجربات کی روشنی میں پرکھا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت سی بدعات اور عالمی مذاہب غیر زبانوں کے بولے جانے / غیر زبانوں میں دعا کرنے کا ذکر کرتے ہیں ۔ لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بد ارواح غیر زبانوں میں بولنے کی نعمت کی نقل کرنے کے قابل ہیں ۔ اس وجہ سے ہمیں اپنے تجربات کواور زیادہ احتیاط کے ساتھ کلام کی روشنی میں پرکھنا چاہیے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ غیر زبانوں میں دُعا کرنا/ بولنا باقاعدہ طور پر سیکھا گیا عمل بھی ہو سکتا ہے ۔ دوسرے لوگوں کو غیر زبانیں بولتے ہوئے سُن کر اور اُن کے مشاہدے سے بھی ایک انسان لا شعوری طور پر ا ِس طریقہ کار کو سیکھ سکتا ہے۔ یہ مسیحیوں کے درمیان پائی جانے والی ایسی اکثریت کےلیے ایک وضاحت ہو سکتی ہے جو غیر زبانوں میں بولتی/دُعا کرتی ہے ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اس عمل کے دوران " شخصی ترقی" کا احساس ہونا ایک قدرتی تاثر ہے ۔ کیونکہ انسانی جسم جب کوئی نئی ، پرجوش ، جذباتی چیز کا تجربہ کر تا ہے اور /یا منطقی سوچ سے منقطع ہوتا ہے تو وہ خون میں ایڈرنالین (adrenaline – وہ ہارمون مادہ جو گردوی غدود کے مغز سے رستا ہے ) اور اینڈورفینز (endorphins –جسم کے اندر موجود افیونی مادے)خارج کر تا ہے ۔

غیر زبانوں میں دُعا کرنا واقعی ایک ایسا معاملہ ہے جس کے تعلق سے مسیحی احترام اور محبت کے ساتھ متفق اور غیر متفق ہو سکتے ہیں ۔ غیر زبانوں میں دُعا کرنا نجات یافتہ ہونےکا تعین یا تصدیق نہیں کرتا ہے ۔ غیر زبانوں میں دُعا کرنا ایک پختہ اورنا پختہ ایماندار میں فرق کرنے کی بنیاد پیش نہیں کرتا ہے ۔ چاہے ایسی کسی چیز کا وجود ہے یا نہیں لیکن غیر زبانوں میں دُعا کرنا ایک شخصی دعائیہ زبان کی حیثیت سے مسیحی ایمان کا بنیادی جُز نہیں ہے ۔ لہذا جب ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ غیر زبانوں میں دُعا کرنے کے بارے میں بائبل کی تشریح ہمیں شخصی دعائیہ زبان کے تصور کی اجازت نہیں دیتی تو ہمیں یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ اِس عمل میں مشغول لوگ مسیح میں ہمارے بھائی اور بہنیں ہیں اور ہماری طرف سے عزت اور محبت کے مستحق ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

غیر/بیگانہ زبانوں میں دُعا کرنے سے کیا مُراد ہے؟کیا غیر/بیگانہ زبان خُدا اور انسان کے درمیان خاص دُعائیہ زبان ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries