settings icon
share icon
سوال

بائبل مُردوں کے لیے دعا کرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


مرنے والوں کے لئے دعا کرنا ایک غیر بائبلی تصور ہے۔ جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو ہماری دعاؤں کا اُس پر کچھ اثر نہیں ہوتا ۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی شخص کی ابدی منزل کا فیصلہ موت کے وقت ہی ہو جاتا ہے۔ یا تو وہ مسیح پر ایمان کے وسیلہ سے نجات پا تااور فردوس میں جاتا ہے جہاں وہ خدا کی حضوری میں راحت اور خوشی سے لطف اندوز ہو رہا ہوتا ہے یا پھر وہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ امیر آدمی اور غریب لعزر کی کہانی ہمارے سامنے اس حقیقت کی واضح مثال پیش کرتی ہے۔ یسوع مسیح نے اس کہانی کو صاف طور پر یہ سکھانے کےلیے استعمال کیا تھا کہ مرنے کے بعد ناراست لوگ ہمیشہ کےلیے خدا سے دُور ہو جاتے ہیں، وہ اپنی طرف سے انجیل کو قبول کرنے سے انکار کو یاد کرتے ہیں، وہ عذاب میں مبتلا ہیں اور اُن کی اِس حالت کا کسی طور پر کوئی ازالہ نہیں کیا جا سکتا (لوقا 16باب 19-31آیات)۔

اکثر جن لوگوں نے اپنے کسی عزیز کو کھودیا ہوتا ہے اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ انتقال کرنے والے شخص اور اپنے لواحقین کے لیے دُعا کریں۔ یقیناً ہمیں ان غمگین زندگیوں کے لیے دُعا کرنی چاہیے مگر مرنے والے کے لیے نہیں ۔ اور نہ کسی شخص کو کبھی یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ کوئی شخص اُس مرنے والے کے لیے دُعا کرنے کے قابل ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں اُس کے مرنے کے بعد کسی طرح کے مثبت نتائج مرتب ہوں گے ۔ بائبل تعلیم دیتی کہ بنی نو ع انسان کی ابدی حالت کا تعین زمینی زندگی کے دوران ہمارے اعمال سے ہوتا ہے ۔"جو جان گناہ کرتی ہے وہی مَرے گی۔ بیٹا باپ کے گناہ کا بوجھ نہ اُٹھائے گا اور نہ باپ بیٹے کے گناہ کا بوجھ۔ صادِق کی صداقت اُسی کے لئے ہو گی اور شرِیر کی شرارت شرِیر کے لئے" ( حزقی ایل 18 باب 20آیت)۔

عبرانیوں کامصنف ہمیں بتاتا ہے کہ " جس طرح آدمیوں کے لئے ایک بار مَرنا اور اُس کے بعد عدالت کا ہونا مُقرّر ہے" ( عبرانیوں 9باب 27آیت)۔ اس آیت سے ہم یہ جان پاتے ہیں کہ کسی شخص کی موت کے بعد اُس کی رُوحانی حالت میں کسی طرح کی تبدیلی نہیں کی جا سکتی- نہ تو اُس کی اپنی طرف سے اور نہ ہی دوسرے لوگوں کی کوششوں سے ۔ وہ لوگ جو ایسے گناہ کر رہے ہیں "جس کا نتیجہ موت" ہے ( 1یوحنا 5باب 16آیت)یعنی جو خدا کی معافی کے بغیر مسلسل گناہ میں مبتلا ہیں اگر اُن زندہ لوگوں کے لیے دُعا کرنا بیکار ہے تو اُن لوگوں کےلیےکیسے دُعا کی جا سکتی ہے جو پہلے ہی مر چکے ہیں؛ اس لیے کہ موت کے بعد نجات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ۔

اصل نقطہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کے پاس زندگی کا صرف ایک موقع ہے اور اس زندگی کو ہم کس طرح گذارتے ہیں اس کے لئے ہم ذمہ دار ہیں۔ دوسرے لوگ ہمارے فیصلوں کو متاثر کرسکتے ہیں لیکن آخر میں ہم اُن فیصلوں کےلیے جوابدہ ہوں گے جو ہم نے خود کئے ہیں ۔ جب ایک بار زندگی ختم ہوجاتی ہے تو ہمارے پاس مزید فیصلہ کرنے کا کوئی موقع نہیں ہوتا؛ پھر ہمارے پاس عدالت کا سامنا کرنے کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ دوسروں لوگوں کی دُعائیں اُن کی خواہشات کا اظہار ہو سکتی ہیں لیکن وہ انجام کو تبدیل نہیں کرپائیں گی۔ کسی فرد کے لئے صرف اُسکی زندگی کے دوران ہی دُعا کی جا سکتی ہے کیونکہ اُس کے دل ، رویوں اور طرز عمل میں تبدیلی آنے کا اُس وقت کے دوران ہی امکان موجود ہوتا ہے (رومیوں2باب 3-9آیات)۔

درد ، تکلیف اور اپنے پیاروں اور دوستوں کے کھو جانے کے موقع پر دعا کرنے کی خواہش رکھنا ایک فطری بات ہے لیکن ہم بائبل میں عیاں کردہ صحیح دعا کی حدود کو جانتے ہیں۔ بائبل دعا کا واحد باضابطہ دستور العمل ہے اور یہ سکھاتی ہے کہ مرنے والوں کے لئے دعا کرنا بیکار ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم کچھ "مسیحی ممالک " کے خاص علاقوں میں مرنے والوں کے لیے دُعا کرنے کے عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر رومن کیتھولک علم ِ الہیات نہ صرف مُردوں کے لیے بلکہ اُن کی خاطر دُعائیں کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ حتی ٰ کہ رومن کیتھولک احکام بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ بائبل کی مستندچھیاسٹھ کتب میں مرنے والوں کی خاطر دُعا کرنے کےلیے کوئی واضح اجازت موجود نہیں ہے ۔ اس کے بجائے اس عمل کے دفاع کے لیے وہ اسفارِ محرفہ/اپاکرفا (2مکابیین 12باب 46آیت)، کلیسیائی روایت اور مجلسِ ٹرینٹ کے فرمان وغیر ہ کی مدد لیتے ہیں ۔

بائبل سکھاتی ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے خودکو نجات دہندہ کی مرضی کے تابع کیا ہے ( عبرانیوں 5باب 8-9آیات) موت کے بعدفو راً خداوند کی حضوری میں داخل ہوتے ہیں ( لوقا 23باب 43آیت؛ فلپیوں 1باب 23آیت؛ 2کرنتھیوں 5باب 6، 8آیات)۔ پھر انہیں زمین پر موجود لوگوں کی دعاؤں کی کیا ضرورت ہے ؟ "جب ہم اُن لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ " دیکھو اب قبولیّت کا وقت ہے۔ دیکھو یہ نجات کا دِن ہے "( 2کرنتھیوں 6باب 2آیت)۔ اگرچہ اس آیت کا سیاق و سباق مجموعی طور پر انجیل کے زمانہ کی طرف اشارہ کرتا ہے مگر یہ آیت ایسے کسی بھی شخص کےلیے موزوں ہے جو ناگزیر موت اور اُس کے بعد ہونے والی عدالت کا سامنا کرنے کےلیے تیار نہیں ہے (رومیوں 5باب 12آیت؛ 1کرنتھیوں 15باب 26آیت؛ عبرانیوں 9باب 27آیت)۔ موت حتمی ہے اور اس کے بعد دُعا مانگنے سے کسی شخص کو وہ نجات نہیں ملے گی جسے اُس نے زمینی زندگی میں مسترد کر دیا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل مُردوں کے لیے دعا کرنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries