settings icon
share icon
سوال

کیادُعا میں کلامِ مقدس کے حوالہ جات کا استعمال کرنادیگر سادہ دُعاؤں سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ؟

جواب


کچھ لوگوں نے پایا ہے کہ اپنی دُعاؤں میں بائبل کی آیات کا استعمال کرنا دُعا کرنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ "دُعا میں کلامِ مقدس کو خدا کے حضور دہرانا" ذہن کوایک جگہ پر مرکوز کرنے اور اِس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتا ہے کہ دُعا کا موضوع خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے ۔

یعقوب 5باب 16آیت فرماتی ہے کہ "راست باز کی دُعا کے اثر سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔" 1 یوحنا 5باب 14-15آیات کا کہنا ہے کہ " ہمیں جو اُس کے سامنے دِلیری ہے اُس کا سبب یہ ہے کہ اگر اُس کی مرضی کے مُوافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم مانگتے ہیں وہ ہماری سُنتا ہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کُچھ ہم نے اُس سے مانگا ہے وہ پایا ہے"۔ اردو ترجمے کی نسبت انگریزی ترجمے میں راست باز کی دُعا کے تعلق سے دو الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جن سے مراد موثر /اثرانگیز اور پُر جوش ہے ۔ لفظ مؤثر /اثرانگیزکا مطلب"مطلوبہ نتیجہ پیدا کرنے کے لیے کافی ہونا" ہے ۔ جبکہ لفظ پُر جوش سے مراد "مسلسل، مستعد اور سرگرم" ہے۔ یعقوب اور یوحنا رسول دونوں ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہماری دُعاؤں کے مؤثر ہونے کے لیے اُن کا پُرجوش، بامعنی اور خُدا کی مرضی کے مطابق ہونا ضروری ہے ۔

آیا ہماری دُعائیں خُدا کی مرضی کے مطابق ہیں، یہ جاننے کا ایک طریقہ اُن مخصوص حوالہ جات کو دُعا میں شامل کرنا ہے جو اُن باتوں کا اظہار کرتے ہیں جو ہمارے دِلوں میں ہیں ۔ کلامِ مقدس کی آیات کو بِنا کچھ سوچے سمجھے، یہ خیال کرتے ہوئے کہ الفاظ میں بذاتِ خود طاقت ہے ، یا کسی قسم کے جادوئی وِرد کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے ۔ دُعا کی قوت خدا کی طرف سے صرف ایک ایسے دل میں آتی ہے جو پُرجوش ہے۔ لیکن جب ہم کوئی ایسا حکم یا وعدہ پاتے ہیں جو ہمارے دِلوں میں موجود باتوں کا اظہار کرتا ہے تو ہم جانتے ہیں کہ جب ہم اُسے دُعا کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم خُدا سے متفق ہیں۔ کیونکہ یہ اُس کا کلام ہے۔ ہم جتنا زیادہ بائبل کو یاد کرتے اور اس پر دھیان گیان کرتے ہیں یہ اُتنی ہی زیادہ ہماری ذات کا حصہ بنتی جاتی ہے۔ جب ہم دُعا کر رہے ہوتے ہیں تو وہ سچائی جس کو ہم نے ذہن نشین کیا ہوتا ہے ہمارے ذہن میں آتی اور اکثر اُن سوالات کا جواب دیتی ہے جن کے ہم متلاشی ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات جب ہم نہیں جانتے کہ کیا دُعا کریں تو کلام ِ مقدس ہمیں دُعا کے لیے الفاظ مہیا کر سکتا ہے۔ زبور کی کتاب میں سینکڑوں دُعائیں ہیں اور اِن میں سے بہت سے زبوروں نے ہمارے خیالات کو پہلے ہی الفاظ کی صورت دے دی ہے ۔

خداوند یسوع ہمیں مؤثر دُعا کا بہترین نمونہ عطا کرتا ہے۔ اُس کی قلمبند شُدہ سب سے طویل دُعا اُس کی " اعلیٰ کہانتی دُعا" ہے جو کہ یوحنا 17باب میں موجود ہے۔ وہ پہلی چیز جس پر ہم غور کرتے ہیں رُوح کی یگانگت ہے جو خداوند یسوع باپ کے ساتھ رکھتا ہے۔ وہ اِن الفاظ کے ساتھ شروع کرتا ہے کہ "باپ! وہ گھڑی آپہنچی"۔ خداوند یسوع باپ کو کسی ایسی بات کے بارے میں آگاہ نہیں کر رہا تھا جسےباپ نہیں جانتا تھا۔ بلکہ خداوند یسوع تسلیم کر رہا تھا کہ وہ متفق ہیں ۔ اُس نے پُرجوش دُعا میں اتنا وقت گزارا کہ وہ باپ کے دل کو جانتا تھا ۔ مؤثر دُعا کا مقصد خدا کے دل کو سمجھنا اور اپنی مرضی کو اُس کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے ۔ موثر دُعا کی کلید یہ ہے کہ چاہے یہ اپنے الفاظ یا دو ہزار سال پہلے قلمبند کئے گئے الفاظ کے استعمال کے وسیلہ سے کی جائے یہ دل سے نکلتی ہے اور خدا کی مرضی کو تلاش کرتی ہے۔

شخصی وابستگی کے عمل کے طور پر کلام مقدس کو دُعا میں شامل کرنا یہ جاننے کا ایک بہترین طریقہ ہے کہ ہم مؤثر طریقے سے دُعا کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم گلتیوں 2باب 20آیت کو لے سکتے اور اِسے تقدیس کی دُعا کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسی دُعا کچھ یوں ہو سکتی ہے: "اے باپ، آج مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں۔ اب میں زندہ نہیں رہا بلکہ مسیح مجھ میں بستا ہے۔ یہ زندگی جو مَیں آج بسر کر رہا ہوں خدا کے بیٹے پر ایمان کے ساتھ بسر کروں گا جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میری خاطر دے دیا ہے۔ " اس طرح دُعا کرتے ہوئے ہم خدا کی مرضی کو اختیار کرتے اور اسے اپنا مقصد بناتے ہیں۔ الفاظ میں کوئی جادو نہیں لیکن جب ہم اُس کے کلام کو اپنے نمونے کے طور پر استعمال کرتے ہیں تو ہم جان سکتے ہیں کہ ہم خدا کی مرضی کے مطابق دُعا کر رہے ہیں۔

ہمیں اس لحاظ سے محتاط رہنا چاہیے کہ ہم کلامِ مقدس کے ہر حوالے کو اس طرح استعمال نہ کریں گویا ہر حوالہ بالخصوص ہمارے حالات کے پیشِ نظر لکھا گیا ہے۔ ہم آیات کو سیاق و سباق سےمحض اس لیے جُد ا نہیں کر سکتے کہ ہم انہیں اپنے لیے سچا بنانا چاہتے ہیں۔ مثال کے طور پر خدا نے 2 تواریخ 1باب 11-12آیات میں سلیمان سے " دولت اور مال اور عزت " کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ہم اس آیت کو دُعا میں اس طرح استعمال نہیں کر سکتے گویا خدا نے ہم سے اِن چیزوں کا وعدہ کیا تھا۔ ہم اُن مخصوص آیات کی تلاش نہیں کر سکتے جو ایسی باتیں بیان کرتی ہیں جو ہم اپنے لیے چاہتے ہیں اور پھر اُن کا "دعویٰ" کریں۔ تاہم بعض ایسے اوقات ہوتے ہیں جب خُدا ہمارے لیے اپنے ذاتی پیغام کے طور پر کسی خاص آیت کو ہمارے دِلوں میں عیاں کر تا ہے اور ہم اُس کے بارے میں دُعا کر سکتے ہیں اور ہمیں کرنی چاہیے ۔

اگر ہم ہر آیت کا اس طورسے اطلاق کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے کہ اُس نے براہ راست ہماری زندگیوں کو متاثر کیا ہےتو ہمیں 1 سموئیل 15باب 3آیت جیسی آیات کے ساتھ مسائل کا سامنا ہو گا: " سو اب تُو جا اور عمالیق کو مار اور جو کچھ اُن کا ہے سب کو بِالکُل نابُود کر دے ۔" ہمیں کلام مقدس کو ہمیشہ اُس کے سیاق و سباق کی روشنی میں پڑھنا چاہیے اور اُن اصولوں کی مدد سے خدا کے بارے میں مزید جاننا چاہیے جو ہم بائبل میں پاتے ہیں۔ خدا اِس حوالے کو ہماری زندگیوں میں دنیاداری کو ختم کرنے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑنے کے بارے میں ہم سے ہمکلام ہونے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اِس صورت میں ہم دُعا کر سکتے ہیں " اے خداوند، جس طرح تُو نے بنی اسرائیل سے ہر اُس چیز کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے کہا تھا جو عمالیقیوں کی بدی کو پیش کرتی ہے اُسی طرح مَیں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں سے ہر جھوٹے معبود کو نکال پھینکوں اور تیرے سوا کچھ نہ چھوڑوں ۔ میرے دل کو پاک کردے جیسے انہوں نے اپنے ملک کو پاک کیا تھا ۔"

مؤثر اور پُرجوش دُعا کلام مقدس سے یا ہمارے اپنے دلوں کی گہرائیوں سے ہو سکتی ہے۔ ہم جیسے جیسے ایمان میں بڑھتے جاتے ہیں ہمارا مقصد اِن دونوں کا امتزاج بنانا ہے ۔ حتی ٰ کہ صلیب کی شدید تکلیف کی حالت میں بھی خداوند یسوع نے 22 زبور میں سے الفاظ ادا کئے تھے : "میرے خدا! میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" بہت سے عالمین کا خیال ہے کہ جب وہ صلیب پر لٹکا ہوا تھا تو موت کی اس حالت میں بھی وہ اس پورے حوالے کو دُہراتے ہوئے عبادت کے طور پر خدا سے دُعا کر رہا تھا۔ ہم جتنا زیادہ کلام کو سیکھیں گے اور اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گےہماری دُعائیں اتنی ہی زیادہ خُدا کی مرضی کی عکاسی کریں گی اور اتنی ہی زیادہ مؤثر ہوں گی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیادُعا میں کلامِ مقدس کے حوالہ جات کا استعمال کرنادیگر سادہ دُعاؤں سے زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries