settings icon
share icon
سوال

ہمیں غیر ایمانداروں کے لیے کس قسم کی دُعا کرنی چاہیے ؟

جواب


ہم خُداوند یسوع کی طرف سے کی گئی دعاؤں کو نمونہ بنا کر یہ سیکھ سکتے ہیں کہ غیر ایمانداروں کے لیے کیسے دعا کریں۔ یوحنا 17باب تحریری حالت میں خُداوند یسوع کی سب سے طویل دُعا ہے اور یہ باب ہم پر واضح کرتاہے کہ اُس نے کیسے دعا کی تھی ۔ 3آیت فرماتی ہے کہ "ہمیشہ کی زِندگی یہ ہے کہ وہ تجھ خُدایِ واحِد اور برحق کو اور یسُوع مسیح کو جسے تُو نے بھیجا ہے جانیں۔" اُس نے دعا کی کہ لوگ خدا باپ کو جانیں۔ اور وہ ذریعہ جس سے وہ خدا کو جان سکتے تھے وہ خدا کا بیٹا مسیح ہے (یوحنا 14باب 6آیت ؛ 3باب 15-18آیات)۔ اگر یہ خُداوند یسوع کی خواہش تھی تو ہم جانتے ہیں کہ جب ہم ا ُس کی ہدایت کے مطابق یا اُس کی اپنی دُعا کی طرح دُعا کرتے ہیں تو ہم صحیح ہیں۔ کوئی بھی دُعا جو خُدا کی مرضی سے متفق ہو ایک مؤثر دعا ہے (یعقوب 5باب 16آیت ؛ 1 یوحنا 5باب 14آیت)۔

2 پطرس 3باب 9آیت ہمیں غیر ایمانداروں کے لیے خدا کی مرضی کی ایک جھلک بھی دکھاتی ہے۔ یہ بیان کرتی ہے کہ " خُداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جَیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اِس لئے کہ کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی تَوبہ تک نَوبت پہنچے"۔ خدا نہیں چاہتا ہے کہ کوئی بھی انسان ابدیت اُس کی حضوری سے دُور گزارے (رومیوں 6باب 23آیت )۔ خُداوند یسوع نے خود ہمیں فصل کے مالک سے یہ دعا کرنے کو کہا ہے کہ وہ اپنی فصل کی کٹائی کے لیے مزدور بھیجے (متی 9باب 38آیت)۔ جب ہم غیر ایمانداروں کی زندگیوں میں توبہ کے واقع ہونے کے لیے دعا کرتے ہیں تو ہم خدا کے ساتھ متفق ہوتے ہیں۔ ہم خُداوند یسوع کے عضوبننے کے مواقع کے لیے بھی دعا کر سکتے ہیں تاکہ لوگ اُس کی بھلائی کو جان سکیں (گلتیوں 6باب 10آیت ؛ کلسیوں 4باب 5آیت ؛ افسیوں 5باب 15-16آیات)۔ رسولوں کی طرح ہم بھی دلیری کے لیے دعا کر سکتے ہیں کہ جب خُدا مواقع مہیا کرتا ہے تو ہم اُن سے فائدہ اٹھائیں (اعمال 4باب 13، 29 آیت ؛ افسیوں 6باب 19 آیت )۔

ہم یہ بھی دعا کر سکتے ہیں کہ خدا کی مرضی ایسے حالات کو ترتیب دے جو ضدی دلوں کو توبہ کی طرف مائل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ 119زبور 67آیت فرماتی ہے کہ " مَیں مصیبت اُٹھانے سے پہلے گمراہ تھا پر اب تیرے کلام کو مانتا ہُوں۔" ہمیں مسیح کی طرف لے جانے کے لیے اکثر تکلیف دہ حالات درکا ر ہوتے ہیں۔ جب ہم اُن پیاروں کے لیے دعا کرتے ہیں جو خُداوند یسوع کو نہیں جانتے ہیں تو خدا سے حفاظت اور برکت کی دُعا کرنا ایک متاثر کُن بات ہے۔ تاہم بعض اوقات اس کے برعکس دعا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بت پرستی کے اِس اختیارکو توڑا جائے جو وہ ان کی زندگیوں پر رکھتی ہے۔ سکون، مادہ پرستی، شہوت پرستی اور نشہ وہ جھوٹے معبود ہیں جو غیر ایمانداروں کو قیدکئے رکھتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ خُدا کی مرضی کے لیے دعا کرنے کا تقاضا ہو کہ ہم خُداسے اُنکی حفاظت اور اطمینان کو ہٹانے کے لیے کہیں تاکہ اُنہیں اُس مقام تک لے جایا جائے جہاں اُنہیں خُدا کی تلاش کرنی پڑے ۔ ہمارے غیر نجات یافتہ پیاروں کے لیے اس سے زیادہ اہم بات کوئی نہیں کہ وہ خُدا کو ڈھونڈیں اور اُسے پائیں ۔

دوسروں کے لیے دعا کرنا خدا کے دل کو خوش کرتا ہے (یعقوب 5باب 16آیت)۔ یہ دوسروں سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کا ایک طریقہ ہے (1یوحنا 4باب 7آیت )۔ یہاں تک کہ جب ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ کیسے دُعا کریں ہم رومیوں 8 باب 26آیت کے وعدے سے تسلی پا سکتے ہیں۔ خدا کو معلوم ہے کہ ہم ہمیشہ نہیں جانتے کہ کیا دعا کریں۔ اِس لیے اُس نے اپنے رُوح القدس کو ہماری شفاعت کے لیے بھیجا ہے تاکہ ہماری دِلی خواہشات کو آسمانی تخت کے سامنے پہنچایا جائے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہمیں غیر ایمانداروں کے لیے کس قسم کی دُعا کرنی چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries