settings icon
share icon
سوال

بائبل بے دُعائیہ پن کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


دعا کسی مسیحی کے خدا کے ساتھ ساتھ چلنے کا لازمہِ حیات ہے۔ دُعا ہمیں خُدا سے جوڑتی ہے، دُعا دوسروں سے محبت کرنے اور اُن سے منسلک رہنے کا ایک فعال عمل ہے اور یہ دُعا کرنے والے کے دل میں خُدا کی اصلاح کرنے والی آواز کے لیے جگہ بناتی ہے۔ بائبل فرماتی ہے کہ" بلاناغہ دعا کرو"( 1تھسلنیکیوں 5باب 17آیت) لہٰذا دعا اور خدا کے ساتھ رفاقت رکھنے کے مستقل رویے کے علاوہ کوئی بھی چیز گناہ ہے۔ کوئی بھی چیز جو خدا کے ساتھ ہمارے تعلق میں خلل ڈالتی یا خود انحصاری کا باعث بنتی ہے غلط ہے۔

ہم پیدایش 3باب میں آدم اور حوّا کے اعمال کو بے دعائیہ پن کی ایک قسم کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔ وہ نیک و بدکی پہچان کے درخت میں سے کھاتے ہیں اور جب خُداباغ میں اُن سے ملنے آتا ہے تو وہ اُس سے بات کرنے میں بہت ندامت محسوس کرتے ہیں ۔ وہ اپنے گناہ کی بدولت خُدا سے منقطع ہو گئے ہیں؛ اُس کے ساتھ اُن کے رابطے میں خلل پیدا ہو گیا ہے۔ آدم اور حوّا کا " بے دعائیہ پن " گناہ تھا اور یہ گناہ کے سبب سے تھا۔

کیا آپ کسی ایسے شخص کا تصور کر سکتے ہیں جو آپ کا سب سے اچھا دوست ہونے کا دعویٰ کرے مگر اُس نےآپ سے کبھی بات نہ کی ہو؟دوستی چاہے جتنی بھی گہری تھی وہ یقیناً کشید گی کا شکا رہو گئی تھی۔ اسی طرح رابطے کے بغیر خدا کے ساتھ تعلق کمزور اور ماند پڑ جاتا ہے۔ بے دعائیہ پن خدا کے ساتھ اچھے تعلق کی متضاد حالت ہے۔ خدا کے لوگوں میں اپنے خداوند کے ساتھ رابطہ رکھنے کی فطری خواہش ہوگی۔" اَے خُداوند! تُو صُبح کو میری آواز سُنے گا۔ مَیں سویرے ہی تجھ سے دُعا کر کے اِنتظار کرُوں گا"(5زبور 3آیت)۔ دعا کرنے کے بائبل کے احکامات شاندار وعدوں سے جڑے ہوئے ہیں: "خُداوند اُن سب کے قرِیب ہے جو اُس سے دُعا کرتے ہیں۔ یعنی اُن سب کے جو سچّائی سے دُعا کرتے ہیں"(145زبور 18آیت)۔

دعا ئیہ پن کے حوالے سے مسیح ہمارا بہترین نمونہ ہے۔ وہ خود دعا کرنے والا شخص تھا (دیکھیں لوقا 3باب 21آیت ؛ 5باب 16آیت؛ 9باب 18، 28آیات ؛ 11باب 1آیت ) اور اُس نے اپنے پیروکاروں کو بھی دعا کرنا سکھایا تھا(لوقا 11باب 2-4آیات)۔ اگر ابنِ آدم نے دُعا کرنے کو شخصی ضرورت سمجھا تھا تو پھر ہمیں اپنے اندر اس کی کتنی زیادہ ضرورت محسوس کرنی چاہیے؟

بے دعائیہ پن شفاعت کرنے کی اُس نعمت کو نظر انداز کرتا ہے جو خدا نے ہمیں عطا کی ہے ۔ ہمیں مسیح میں اپنے بہن بھائیوں کے لیے دعا کرنے کے لیے بلایا گیا ہے (یعقوب 5باب 16آیت )۔ پولس اکثر خُدا کے لوگوں کو ابھارتا ہے کہ وہ اُس کی خاطر دعا کریں( افسیوں 6باب 19آیت؛ کلسیوں 4باب 3آیت؛ 1تھسلنیکیوں 5باب 25آیت) اور وہ خود بھی اُن کے لیے دعا کرنے میں ثابت قدم تھا (افسیوں 1باب 16آیت ؛ کلسیوں 1باب 9آیت )۔ سیموئیل نبی بنی اسرائیل کی خاطر دعائیں کرنے کو اپنی خدمت کے ایک لازمی حصے کے طور پر دیکھتا تھا " اب رہا مَیں۔ سو خُدا نہ کرے کہ تمہارے لئے دُعا کرنے سے باز آ کر خُداوند کا گنہگار ٹھہروں بلکہ مَیں وُہی راہ جو اچھّی اور سیدھی ہے تم کو بتاؤُں گا "(1سیموئیل 12باب 23آیت)۔ سیموئیل کے مطابق بے دعائیہ پن ایک گناہ ہے۔

بے دعائیہ پن دوسروں سے محبت رکھنے کے خدا کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ اور ہمیں فقط اُن لوگوں کے لیے دعا نہیں کرنی ہے جن کے لیے دعا کرنا آسان ہے۔" پس مَیں سب سے پہلے یہ نصیحت کرتا ہوں کہ مُناجاتیں اور دُعائیں اور اِلتجائیں اور شکر گُذارِیاں سب آدمیوں کے لئے کی جائیں" (1تیمتھیس 2باب 1آیت)۔خُداوند یسوع ہمیں بتاتا ہے کہ ہمیں اپنے ستانے والوں کے لیے بھی دُعا کرنی چاہیے (متی 5باب 44آیت)۔ دُعا کے ساتھ ہر ایک سے محبت رکھنا اور مدد کرنا مسیح کا پیغام ہےیہاں تک کہ اُن کےساتھ بھی جن سے محبت رکھنا مشکل ہے۔

دُعا خدا کی طرف سےاصلاح کرنے والی آوازکے لیے جگہ بناتی ہے۔ بے دعائیہ پن اُس وقت مسیح کی آواز کو سننے کی ہماری صلاحیت کو کمزور کر دیتا ہے جب وہ ہماری رُوحوں میں اصلاح یا اعتماد کے الفاظ کو بیان ہے۔ عبرانیوں 12باب 2 آیت ہمیں " ایمان کے بانی اور کامل کرنے والے " مسیح کی یاد دلاتی ہے ۔ ہمارے دِلوں میں اُس کے رُوح کے قیام کے بغیرہم اپنے ہی فیصلوں پر عمل کرتے ہوئے غیر ہموار راہ پر چلتے رہیں گے۔ جب ہم خُدا کی مرضی کے زمین پر اُس طرح سے پورا ہونے کی دعا کرتے ہیں "جَیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے "( متی 6باب 10آیت ) تو ہماری اپنی مرضی کی برعکس حالت عیاں ہوتی ہے۔

متی 26باب 41آیت ایک اور تنبیہ پیش کرتی ہے کہ " جاگو اور دُعا کرو تاکہ آزمایش میں نہ پڑو"۔ بے دعائیہ پن ہمارے دلوں کو اردگرد کی آزمایشوں کی طرف مائل کرتا اور مزید گناہ کا باعث بنتاہے۔ ہم صرف رُوح القدس کے نور اور ہدایت کے وسیلہ سے دِلی طور پر دانا بنتے ہیں۔ اور یہ صرف رُوح کی قوت سےہی ہے کہ ہماری دعائیں موثر ہیں (دیکھیں رومیوں 8باب 26-27آیات)۔

دُعا ہماری بچاؤ کی رسی اور خدا سے تعلق ہے۔ مسیح یسوع نے اپنی زمینی زندگی میں بے دعائیہ پن کی برعکس حالت کو پیش کیا اور وہ خود ہمارے لیے دعا سے بھرپور زندگی کا نمونہ بنا ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل بے دُعائیہ پن کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries