settings icon
share icon
سوال

مَیں دُعائیہ جنگجو سورما کیسے بن سکتا /سکتی ہوں؟

جواب


اگر چہ لفظ " دعائیہ جنگجو سورما" بائبل مُقدس میں موجود نہیں ہے تاہم ایک دعائیہ جنگجو سورمے سے عام طور پر ایک ایسا مسیحی مراد لیا جاتا ہے جو کلامِ مقدس میں سکھائے گئے دُعائیہ طریقہ کے مطابق دوسرے لوگوں کے لیے مستقل طور پر اور مؤثر انداز میں دُعا/شفاعت کرتا ہے ۔ پس دعائیہ جنگجو سورمے رُوح القدس کی قوت ( افسیوں 3باب 16آیت؛ یہوداہ 1باب 20آیت) اور یسوع مسیح کے نام سے ( یوحنا 14باب 13آیت) خدا باپ ( متی 6باب 9آیت) سے دُعا کرتے ہیں ۔ دعائیہ جنگجو سورما ہونے سے مُراد رُوحانی جنگ میں شامل ہونا اور خد ا کے سب ہتھیارباندھ کر اور " ہر وقت اور ہر طرح سے رُوح میں دُعا اور مِنّت کرتے " ( افسیوں 6باب 10-18آیات) ہوئے ایمان کی اچھی لڑائی لڑنا ہے ۔

گوکہ تمام مسیحیوں کو دعائیہ جنگجو سورمے ہونا چاہیے، مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ اُن میں دُعا کرنے کی ایک خاص اور منفرد صلاحیت پائی جاتی ہے اور خدا کی طرف سے اُنہیں مخصوص خدمت کے طور پر دُعا کرنے کےلیے بُلایا گیا ہے ۔ بائبل کبھی ایسے خاص لوگوں کا ذکر نہیں کرتی جو دوسرے مسیحی کی نسبت زیادہ بار ، زیادہ مستقل مزاجی سے یا زیادہ مؤثرطور پر دعا کرتے ہیں۔ لیکن ایسے مستقل مزاج دُعائیہ جنگجو سورمے ہیں جنھیں اُس اہمیت کی وجہ سے جانا جاتا ہے جو وہ دُعا کو دیتے ہیں۔ پولس رسول حکم دیتا ہے کہ " مُناجاتیں اور دُعائیں اور اِلتجائیں اور شکر گُزارِیاں سب آدمیوں کے لئے کی جائیں " (1تیمتھیس 2باب 1آیت) اور وہ کوئی ایسی بات بالکل نہیں کرتاجس سے یہ ظاہر ہو کہ کچھ لوگ ایسا کرنے سے مستثنیٰ ہیں۔ مسیح میں تمام ایمانداروں کےپاس رُوح القدس ہے جو ہماری دعائیہ درخواستوں کو منتقل کرنے میں ہماری مدد کرتا ہے ( رومیوں 8باب 26-27 آیات)۔ تمام ایمانداروں کو مسیح یسوع کے نا م سے دُعا کرنی چاہیے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسیح ہمارا خداوند اور نجات دہندہ ہے ، کہ تمام باتوں میں خداباپ کے حضور اپنی شفاعت کے ساتھ ساتھ ہم ہر چیز کےلیے اُس پر بھروسہ کرتے ہیں، اور یہ کہ ہم خدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کرتے اور دُعا کرتے ہیں ۔ یسوع نام میں دُعا کرنے کا مطلب محض دُعا میں " یسوع نام " کو شامل کرنا نہیں ہے بلکہ اِس سے مراد اُس کی مرضی کے تابع ہو کر دُعا کرنا ہے ۔

دعائیہ جنگجو سورماؤں کی حیثیت سے ہم ہر بات میں خوشی مناتے اور خدا ہماری اور دوسروں کی زندگیوں میں جو کچھ کر رہا ہے اُن باتوں کےلیے شکر گزاری کے جذبات رکھتے ہیں ۔ اور جس قدر ہمیں اپنی برکات کی کثرت کا احساس ہوتا جاتا ہے اُسی قدر ہماری رُوحیں دن بدن ترقی کر تی جاتی ہیں ۔ ہم یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ یہ سانس جو ہم لیتے ہیں یہ بھی خدا کی عطا کردہ ہے (یسعیاہ 42باب 5آیت)؛اور یہ کہ اُس نے ہمارے ماضی ، حال اور مستقبل کے گناہوں کو معاف کر دیا ہے (1یوحنا 2باب 12آیت)؛ کہ وہ ہم سے ابدی محبت رکھتا ہے ( افسیوں 2باب 4-7آیات)؛ اور یہ کہ خدا کے ساتھ فردوس میں ہمیں ابدی مقام حاصل ہے (1پطرس 1باب 3-5آیات)۔ تب سے ہمارے دل خوشی اور اطمینان سے بھرے اور خدا کی محبت سے لبریز ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کو بھی ایسی محبت ، خوشی اور اطمینا ن حاصل ہو۔ لہذا ہم اُن کےلیے دُعا کرنے کے وسیلہ سے محنت کرتے ہیں ۔

مؤثر دُعا بلاشبہ ایک کام ہے ۔ ہمیں خدا کے ساتھ چلنا سیکھنا ہے تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ عاجز بننے کی خاطر جو مؤثر دُعا کےلیے ضروری ہے اُس پر اور اُس کی راہوں پرغور و خوص کریں ( 2تواریخ 7باب 13-15آیات)۔ اِن باتوں کو جاننے کےلیے کہ خدا کس بات سے خوش ہوتا ہے اور اسی طرح کون سی چیز ہماری دعا کو قابل قبول بناتی ہے ہم ہر روز کلام ِ مقدس کا بغور مطالعہ بھی کرتے ہیں ۔ دُعا کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دُور کرنے ( مرقس 11باب 25آیت؛ 1پطرس 3باب 7آیت؛1یوحنا 3باب 21-22آیات) کے ساتھ ساتھ ہم اس بات سے بچنا بھی سیکھتے ہیں کہ خدا کےرُوح کو رنجیدہ نہ کریں ( افسیوں 4باب 30-32آیات)۔ ہم سیکھتے ہیں کہ ہم شیطان کے ساتھ رُوحانی جنگ میں ہیں لہذا ہمیں اپنی قوت کو برقرار رکھنے اور دُعا میں دوسروں پر توجہ مرکوز کرنے کےلیے (افسیوں 6باب 12-18آیات)اپنی رُوحانی ترقی کے لیے دُعا کرنے کی ضرورت ہے ۔

دعائیہ جنگجو سورمے خدا ، دُعا ، لوگوں اور مسیح کی کلیسیا کےلیےایک متفکر دل رکھتے ہیں ۔ لہذا ہم مستقل طور پر دُعا کرتے اور یہ بھروسہ رکھتے ہیں کہ خدا ہر دعا کا اپنی کامل مرضی اور اپنے کامل وقت کے مطابق جواب دیتا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں دُعائیہ جنگجو سورما کیسے بن سکتا /سکتی ہوں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries