settings icon
share icon
سوال

یعبیض کی دُعا کیا ہے؟

جواب


یعبیض کی دُعا ایک نسب نامے کے ساتھ ایک تاریخی بیان میں پائی جاتی ہے :" یعبیض اپنے بھائیوں سے معززتھا اور اُس کی ماں نے اُس کا نام یعبیض رکھّا کیونکہ کہتی تھی کہ مَیں نے غم کے ساتھ اُسے جنم دِیا۔ اور یعبیض نے اِسرائیل کے خُدا سے یہ دُعا کی آہ تُو مجھے واقعی برکت دے اور میری حدود کو بڑھائے اور تیرا ہاتھ مجھ پر ہو اور تُو مجھے بدی سے بچائے تاکہ وہ میرے غم کا باعث نہ ہو! اور جو اُس نے مانگا خُدا نے اُس کو بخشا " (1 تواریخ 4باب 9-10آیات)۔ ڈاکٹر بروس ولکنسن اور ڈیوڈ کوپ کی بہت زیادہ بکنے والے کتاب" The Prayer of Jabez: Breaking Through to the Blessed Life " ( بمعنی یعبیض کی دُعا : بابرکت زندگی میں داخلہ) کی اشاعت کے باعث یہ دعا کافی مشہور ہو گئی ہے ۔

ہمارے پاس یعبیض کے بارے میں بہت کم معلومات ہیں سوائے اس کے کہ وہ یہوداہ کی نسل سے تھا ، وہ ایک معزر آدمی تھا اور اُس کی ماں نے اُس کا نام

" یعبیض" ( جس کا مطلب " غمگین" یا "اُداس کرنے والا" ) رکھا کیونکہ اُس کی پیدایش تکلیف دہ تھی ۔ اپنی دُعا میں یعبیض خدا سے تحفظ اور برکت کے لیے فریاد کرتا ہے ۔ الفا ظ کا بخوبی استعمال کرتے ہوئے یعبیض " رنج کا آشنا" خدا سے اُس غم سے محفوظ رکھنے کی درخواست کرتا ہے جس کی اُس کا نام یاد دلاتا اور پیشن گوئی کرتا ہے ۔

1تواریخ 4باب 10 آیت میں یعبیض کی دُعا ان چار باتوں کےلیے ایک فوری درخواست پر مشتمل ہے :

1. خدا کی برکت ۔ یعبیض اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اسرائیل کا خدا تمام برکات کا منبع ہے اور وہ خدا سے اُس کے فضل کے لیے درخواست کرتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں یہ درخواست کم ازکم جزوی طور پر ابرہام اور اُس کی اولاد کے ساتھ خدا کی برکت کے وعدے پر مبنی تھی (پیدایش 22باب 17آیت)۔

2. حدُود کی توسیع۔یعبیض اپنی تمام تر جدو جہد میں فتح یابی اور خوشحالی کی دُعا کرتا ہے اور یہ بھی کہ اُس کی زندگی میں نمایاں ترقی ہو۔

3. خدا کے ہاتھ کی موجودگی۔ یہ خدا کی ہدایت اور اس کی قوت کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں عیاں ہونے کی درخواست کرنے کا یعبیض کا طریقہ تھا۔

4. نقصان سے تحفظ۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو اس طرح دعا کرنا سکھایا تھا کہ :" اے ہمارے باپ ۔۔۔۔۔ ہمیں بُرائی سے بچا" ( متی 6باب 9، 13آیات)۔ یعبیض اپنے محافظ کی حیثیت سے خدا کو بڑے اعتماد سے دیکھتا ہے ۔

اپنی دُعا میں یعبیض نے غم سے پاک زندگی بسر کرنے کا مقصد رکھا تھا اور آخری بات جو ہم اُس کے بارے میں پڑھتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا نے اُس کی دعا کو سُنا اور اُس کا جواب دیا تھا ۔ حکمت کےلیے سلیمان کی عاجزانہ دعا کی طرح ( 1سلاطین 3باب 5- 14آیات) یعبیض کی دِلی دعا کا بھی جواب دیا گیا تھا۔ یعبیض نے جو کامیابی حاصل کی تھی وہ اُس کے ابتدائی غم سے بہت بڑھ کر تھی ۔ یعبیض کی دُعا اُس کے نام پر غالب آ گئی تھی ۔

یعبیض کی دُعا اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں دُعا کو کیسی ترجیح دینی چاہیے ۔ ہمیں ضرورت کے وقت مدد کےلیے ہمیشہ خدا کی طرف دیکھنا چاہیے اور ہم اپنی درخواستوں کو سیدھا فضل کے تخت کے پاس لے جا سکتے ہیں ( عبرانیوں 4باب 16آیت)۔ حنّا، یوناہ، حزقیاہ، پولس اور یقیناً ہمارے خداوند کی دُعا کے نمونے ( متی 6باب 9-13آیات)کے ساتھ ساتھ یعبیض کی دُعا خدا کے ایک ایسے فرزند کی مثال پیش کرتی ہے جو عاجزی ، ایمان اور خدا کی بھلائی پر بھروسے کے ساتھ قادرمطلق خدا کے حضور آتا ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یعبیض کی دُعا کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries