settings icon
share icon
سوال

کیا دُعا میں خدا کے حضور " بھیڑ کی اُون بچھانا/ خدا کی آزمایش کرنا" قابلِ قبول ہے ؟

جواب


بھیڑ کی اُون کے ذریعے خدا کی آزمایش کرنے کا تصور قضاۃ 6 باب میں اسرائیل کے ایک رہنما جدعون کی کہانی سے آیا ہے ۔ جب خدا نے اُسے مدیانی حملہ آوروں کو شکست دینے کے لیے اسرائیلی لشکروں کو جمع کرنے کا حکم دیا تھا تو جدعون اس بات کا یقین کرنا چاہتا تھا کہ وہ واقعی خدا کی آواز سُن رہا تھا اور یہ بھی کہ وہ اُس کی ہدایات کو سمجھ گیا چکا تھا ۔ اس بات کی تصدیق کےلیے کہ یہ سچ مچ خدا کی مرضی ہے جدعون نے خدا سے ایک نشان طلب کیا۔ لہذا اُس نے رات کو باہر میدان میں کچھ اُون بچھائی اور خدا سے سے کہا کہ وہ اردگرد کی زمین کو خشک رکھتے ہوئےصرف اُون کو اوس کیساتھ گیلا کرے ۔ اور خدا نےاپنی بڑی مہربانی سے جدعون کے کہنے کے مطابق کیا اور صبح کو اُون اتنی گیلی تھی کہ نچوڑنے پر اُس میں سے پیالہ بھر پانی نکل آیا ۔

لیکن جدعون کا ایمان اتنا کمزور تھا کہ اس نے خدا سے ایک اور نشان طلب کیا - اس بار اُون کو خشک رکھتے ہوئےاوس کیساتھ آس پاس کی زمین کو تر کرنا تھا ۔ اس بار پھر خدا نےویسا ہی کیا جیسا جدعون نے عرض کی تھی اور جدعون بالآخر پوری طرح قائل ہو گیا کہ خد ا نے جیسا حکم دیا ہے وہ ویسا ہی کرے اور یہ بھی کہ اسرائیل کو فتح حاصل ہوگی جیسا کہ خداوند کے فرشتہ نے قضاۃ 6باب 14-16آیات میں وعدہ کیا تھا ۔ آزمایش کےلیے اُون بچھانے کے دونوں مواقع پر جدعون نے خدا سے ایک نشان طلب کیا تھا تاکہ وہ جان سکے کہ خدا واقعی اُس سے بات کر رہا تھا اور جو کچھ اُس نے کہا تھاوہ ویسا ہی کرے گا ۔

جدعون کی کہانی میں ہمارے لئے بہت سارے اسباق ہیں۔ پہلا یہ کہ خدا ہمارے معاملے میں ناقابل یقین حد تک مہربان اور صبر کرنے والا ہے خصوصاً اُس وقت جب ہمارا ایمان کمزور ہوتا ہے۔جدعون جانتا تھا کہ اُس نے ایک خطرناک راستہ اختیار کیا ہوا ہے اور مختلف طرح کے نشانات طلب کرنے کے ذریعے وہ خدا کے صبر کو آزما رہا تھا ۔ پہلے نشان کے بعد اُس نے خدا سے کہاکہ " تیرا غصّہ مجھ پر نہ بھڑکے۔ مَیں فقط ایک بار اَور عرض کرتا ہوں۔ مَیں تیری منت کرتا ہوں کہ فقط ایک بار اَور اِس اُون سے آزمایش کر لوں۔ اب صرف اُون ہی اُون خشک رہے اور آس پاس کی سب زمین پر اوس پڑے" ( قضاۃ 6باب 39آیت)۔ لیکن ہمارا خدا ایک مہربان ، محبت اور صبر کرنے والا خدا ہے جو ہماری کمزوریوں سے واقف ہے ۔ تاہم جدعون کی کہانی ہماری اصلاح کےلیے ہونی چاہیے لیکن اس کہانی کو ایک ایسے نمونے کے طور پر کام نہیں کرنا چاہیےجسے ہم اپنے کردار کے لیے اپنائیں۔ یسوع نے دو مواقع پر فرمایا تھا کہ "اِس زمانہ کے بُرے اور زِنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں " ( متی 12باب 39آیت؛ 16باب 1-4آیات)۔ اُس کا اصل نقطہ یہ تھا کہ وہ نشانات-اُس کا شریعت کو پورا کرنا ، شفا اور معجزات –جو اُس نے پہلے ہی ظاہر کردئیے ہیں-اگر وہ محض سچائی کی تلا ش کر رہے تھےتو اُس کی سچائی کوقبول کرنےکے لیے کافی تھے ۔مگر بے شک ایسا نہیں تھا ۔

جدعون کی طرف سے خدا کی آزمایش کا ایک سبق یہ ہے کہ جو لوگ نشانات کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ایک کمزور اور غیر پختہ ایمان کو پیش کر رہے ہوتے ہیں جو نشانات دیکھنے کے بعد بھی بالکل قائل نہیں ہو گا ! جدعون اُون کے نشان کے بغیر بھی کا فی معلومات حاصل کر چکا تھا ۔ خدا نے اُسے بتادیا تھا کہ وہ فتح یاب ہو گا ( 14آیت) خدا نے آگ کے ساتھ معجزانہ قوت میں جدعون کی گذشتہ درخواست کا جواب دیا تھا ( 16آیت)۔مگر اس کے باوجود جدعون نے اپنے عدم تحفظ کی وجہ سے دو اور نشان طلب کئے ۔ اسی طرح سے حتی ٰ کہ جب خدا ہمارے کہنے کے مطابق نشان مہیا کرتا ہے تب بھی یہ نشان ہمیں وہ احساس نہیں دیتا جس کی ہم آرزو کرتے ہیں کیونکہ ہمارا متذبذب ایمان پھر بھی شکوک و شبہات کا شکا ر ہی رہتا ہے ۔ اور اکثر یہ بات ہمیں ایسے معتدد نشانات طلب کرنے پر مجبور کرتی ہے جس میں کوئی بھی ہمیں ایسی یقین دہانی نہیں دیتا جس کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے کیونکہ مسئلہ خدا کی قدرت کے ساتھ نہیں ؛ بلکہ مسئلہ خدا کی قدرت کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کے ساتھ ہے ۔

جدعون کی طرف سے خداکی آزمایش کے نمونے کی پیروی کرنے کے ساتھ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہماری اور جدعون کی صورتِ حال واقعی ایک جیسی نہیں ہے ۔ بحیثیت مسیحی ہمارے پاس دو ایسے طاقتور ہتھیار ہیں جو جدعون کے پاس نہیں تھے ۔سب سے پہلی چیز یہ کہ ہمارے پاس خدا کا مکمل کلام ہے جو ہم جانتے ہیں کہ" خُدا کے اِلہام سے ہےاور تعلیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربیّت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے " ( 2تیمتھیس 3باب 16-17آیات)۔ خدا نے ہمیں یقین دہانی بخشی ہے کہ اُس کے کلام میں وہ تمام باتیں شامل ہیں جن کے ذریعے ہمیں زندگی کی ہر بات کے لیے " بالکل تیار" ہونے کی ضرورت ہے ۔ خدا نے جو کچھ اپنے کلام میں ہمیں پہلے سے بتاتا ہے اُس کی تصدیق کےلیے ہمیں تجرباتی شواہد ( نشانات ، آواز، معجزات) کی ضرورت نہیں ہے ۔ جدعون کے مقابلے میں ہمیں دوسر ی برتری یہ حاصل ہے کہ ہر مسیحی کے پاس رُوح القدس ہے جو خود خدا ہے اور ہر ایک مسیحی کی رہنمائی ، ہدایت اور حوصلہ افزائی کےلیے وہ اُس کے دل میں بسا ہوا ہے ۔ عید ِ پنتکست سے پہلے ایمانداروں کے پاس صرف پرانا عہد نامہ ہی تھا اور وہ خدا کے معجزانہ ہاتھ سے ظاہر ی طور پر رہنمائی پاتے تھے ۔ اب ہمارے پاس اُس کا مکمل کلام ہے اور اُس کے رُوح کا ہمارے دلوں میں مکمل بسیرا ہے ۔

بھیڑ کی اُون یا کسی بھی اور طرح سے نشانات کی کھوج کی بجائے ہمیں ہر روز ہر صورتِ حال میں خدا کی اُس مرضی کو جاننے میں مطمئن ہونا چاہیے جو وہ ہمارے لیے رکھتا ہے :"مسیح کے کلام کو اپنے دِلوں میں کثرت سے بسنے دو اور کمال دانائی سے آپس میں تعلیم اور نصیحت کرو اور اپنے دِلوں میں فضل کے ساتھ خُدا کے لئے مزامیر اور گیت اور رُوحانی غزلیں گاؤ" ( کلیسیوں 3باب 16آیت)؛ "ہر وقت خُوش رہو۔ بِلاناغہ دُعا کرو۔ ہر ایک بات میں شکرگذاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے " ( 1تھسلنیکیوں 5باب 16-18آیات)؛ "اور کلام یا کام جو کچھ کرتے ہو وہ سب خُداوند یسوع کے نام سے کرو اور اُسی کے وسیلہ سے خُدا باپ کا شکر بجا لاؤ" ( کلسیوں 3باب 17آیت)۔ اگر یہ باتیں ہماری زندگی کی خصوصیات ہیں تو ہمارے فیصلے خدا کی مرضی کے مطابق ہوں گے وہ اپنی سلامتی اور یقین دہانی کے ساتھ ہمیں بے پناہ برکت دے گا اور ہمیں اُون بچھانے یا نشان طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا دُعا میں خدا کے حضور " بھیڑ کی اُون بچھانا/ خدا کی آزمایش کرنا" قابلِ قبول ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries