settings icon
share icon
سوال

روزری پڑھنا کیا ہوتا ہے؟

جواب


روزری پڑھنے کو انگریزی زبان میں prayer beads بھی کہا جاتا ہے۔ اِس قسم کی دُعا میں خاص موتیوں ، گول دانوں یا منکوں کو کسی دھاگے میں پرو کر دُعا اور دھیان و گیان کے دوران استعمال کیا جاتا ہے۔ اِس عمل میں مختلف طرح کی دُعاؤں کو کئی بار دہرایا جاتا ہے اور موتیوں کی گنتی کی مدد سے دُعاؤں کی دہرائی کا حساب رکھا جاتا ہے۔ موتیوں کی مالا، یا روزری کے ساتھ دُعا کرنے کو روایتی طور پر رومن کیتھولک کلیسیا کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے، لیکن روزری یا تسبیح کے ساتھ دُعا کرنے کا عمل عالمگیر سطح پر پھیلا ہوا ہے اور اُن کے ساتھ بہت سارے مختلف مذاہب کی رسوم منسلک ہیں۔

بنیادی طور پر ایک روزری 59 موتیوں کو ایک ہار کی طرح پرو کر بنائی جاتی ہے۔ ہر ایک موتی کو پکڑ کر ایک خاص دُعا کی جاتی ہے اور پھر اگلے موتی کے ساتھ بھی یہی عمل دہرایا جاتا ہے۔ اِ ن 59 موتیوں میں سے 53 پر "سلام اَے مریم" کو پڑھا جاتا ہے۔ باقی چھ موتیوں پر "اَے ہمارے باپ" پڑھا جاتا ہے۔ یہ موتی اُن پڑھی جانے والی دُعاؤں کا حساب کتاب رکھنے کے لیے ایک طریقہ کار ہے، جیسے جیسے دُعائیں پڑھی جاتی ہیں انگلیاں موتیوں کو آگے کرتی جاتی ہیں۔

مسیحی حلقوں میں روزری کے پسِ منظر کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں تو یہ کروسیڈز (صلیبی جنگوں) کے ساتھ جا ملتا ہے۔ مورخین کہتے ہیں کہ صلیبی جنگوں میں حصہ لینے والوں نے یہ عمل عربیوں سے سیکھا تھا اور عربیوں نے موتیوں یا منکوں کو دُعاؤں کے لیے استعمال کرنے کا عمل انڈیا سے سیکھا تھا۔ حالیہ طور پر کی جانے والی علمِ آثارِ قدیمہ کی دریافتوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ قدیم افسس کے لوگ ڈایانا دیوی جسے ارتمس بھی کہتے ہیں اور جس کا مندر قدیم دُنیا کے سات عجائب میں سے ایک تھا(اعمال 19باب24-41آیات)کی پرستش کے لیے اِس طرح کی روزری یا تسبیح کا استعمال کرتے تھے۔

موتیوں کی یہ مالا جسے روزری کہا جاتا ہے اِس کا استعمال رومن کیتھولک کلیسیا کے اندر اُن 180 دُعاؤں کا ریکارڈ رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے جو پوری روزری پڑھنے کی صورت میں مکمل ہوتی ہیں۔ ایسی دُعاؤں کی مثالیں "اَے ہمارے باپ، سلام اَے مریم اور گلوریا" ہیں۔ روزری پڑھنے کی مشق کی بنیاد اِس مفروضے پر ہے کہ وہ شخص جو روزری کو استعمال کر کے ایک ہی دُعا کو بار بار دہراتا ہے وہ خُدا کی طرف سے خاص فضل اور معافی حاصل کرتا ہے جس کی وجہ سے وہ برزخ کی سزا سے بچ سکے گا۔

دُعا کے لیے روزری یا موتیوں کی کسی مالا کا استعمال بائبلی تعلیمات کی بنیاد پر نہیں ہے۔ یسوع نے خود اپنے دور کے بہت سارے مذہبی رہنماؤں کو اپنی دُعاؤں کو بار بار دہرنے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اُس نے اپنے شاگردوں کو خبردار کیا اور اُنہیں حکم دیا کہ " دُعا کرتے وقت غیر قَوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے کے سبب سے ہماری سُنی جائے گی" (متی 6باب7آیت)۔ کبھی بھی غیر شعوری طور پر بغیر سوچے سمجھے دُعاؤں کی دہرائی نہیں کی جانی چاہیے جیسے کہ وہ کوئی آٹومیٹک فارمولے ہوں۔ بہت سارے لوگ جو آجکل روزری کا استعمال کرتے ہیں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ روزری اُن کی توجہ اپنے آپ سے ہٹا کر یسوع پر لگانے میں مدد کرتی ہے، لیکن یہاں پر سوال توجہ کا نہیں بلکہ ایک ہی دُعا کو بار بار کسی منتر کی طرح دہرانے کا ہے۔

دُعا مسیحیوں کے لیے ایک بہت ہی حیرت انگیز اور خوبصورت استحقاق ہے کیونکہ ہمیں اِس ساری تخلیق کے خالق کی طرف سے دعوت دی جاتی ہے کہ ہم دلیری کے ساتھ اُس کی حضوری میں آئیں (عبرانیوں 4باب16آیت) اور اُس کے ساتھ ہمکلام ہوں۔ دُعا وہ ذریعہ ہے جس کے وسیلے ہم اُس کی ستائش کرتے ہیں، اُسے سجدہ کرتے ہیں، اُس کی شکرگزاری کرتے ہیں، خود کو اُس کے تابع کرتے ہیں اور اپنی درخواستیں، التجائیں، مناجاتیں اور دوسروں کے لیے شفاعتیں اُس کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ابھی روزری کے دانوں پر ایک ہی طرح کے الفاظ یا دُعاؤں کو بار بار دہرانے سے یہ مقصد کیسے پورا ہوتا ہے اِس کو جاننا بیحد مشکل یا ناممکن بات ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

روزری پڑھنا کیا ہوتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries