خدا کے ذریعہ میری دعائيں کیسے قبول کی جاسکتی ہیں؟



سوال: خدا کے ذریعہ میری دعائيں کیسے قبول کی جاسکتی ہیں؟

جواب:
بہت سے لوگ اعتقاد کرتے ہیں کہ قبول کی گئی دعا وہ ہوتی ہے جس میں ایک دعا کی درخواست کو خدا منظوری دیتا ہے جو اس کے حضور پیش کی گئی ہے۔ اگر ایک دعا کی درخواست منظور نہیں کی جاتی ہے تو وہ "ناقبول" دعا بطور سمجھی جائے۔ مگر کسی طرح یہ دعا کی غلط سمجھ ہے۔ خدا ہر ایک دعا کا جواب دیتا ہے جو اس کے حضور پیش کی گئی ہے۔ کبھی کبھی خدا ہماری دعاؤں کا جواب "نہیں" میں دیتا ہے۔ یا کہتا ہے کہ "انتظار کرو"۔ خدا ہماری انہیں دعاؤں کو منظوری دینے کا وعدہ کرتا ہے جب ہم اس کی مرضی کے موافق اس سے مانگتے ہیں۔ چنانچہ کلام کہتا ہے کہ "ہمیں جو اس کے سامنے دلیری کی اس کا سبب یہ ہے کہ اگر اس کی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے۔ اور جب ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے تو یہ بھی جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم نے اس سے مانگا ہے وہ پایا ہے (1یوحنا15- 5:14)۔

خدا کی مرضی کے مطابق دعا کرنے کا مطلب ہے؟ خدا کی مرضی کے مطابق دعا کرنے کا مطلب ہے ان چیزوں کے لئے مانگنا جن سے خدا کے نام کو عزت اور جلال ملے۔ یا ان چيزوں کے لئے دعا مانگنا جن کی بابت بائيبل صاف طور سے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی مرضی اس کے لئے ہوگی۔ اگر ہم کسی چیز کے لئے دعا کرتے ہیں جس سے خدا کی عزت افزائی نہیں ہوتی یا ہماری زندگیوں کے لئے خدا کی مرضی نہیں ہے تو ہم مانگتے ہیں اسے خدا نہیں دیگا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم کس طرح معلوم کرتے ہیں کہ خدا کی مرضی کیا ہے؟ خدا ہم کو حکمت دینے کا وعدہ کرتا ہے جب ہم حکمت کی مانگ کرتے ہیں۔ یعقوب 1:5 اعلان کرتا ہے کہ "اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کئےسب کو فیاضی کے ساتھ دیتا ہے۔ اس کو دی جائيگی"۔ ایک اچھا مقام جہاں سے شروعات کرنی ہے وہ ہے 1 تھسلنیکیوں24- 5:12 جس میں کئي ایک چيزوں کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے کہ خدا کی مرضی ہمارے لئے کیا ہے۔ جتنے بہتر طریقے سے ہم خدا کے کلام کو سمجھینگے اتنے ہی بہتر طریقہ سے ہم معلوم کرنے پائينگے کہ ہمیں کس بات کے لئے دعا کرنا ہے (یوحنا15:7)۔ جتنے بہتر طریقہ سے ہم جانینگے کہ کس بات کے لئے دعا کرنا ہے اتنا ہی زیادہ خدا ہماری درخوستوں کے لئے "ہاں" میں جواب دیگا۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



خدا کے ذریعہ میری دعائيں کیسے قبول کی جاسکتی ہیں؟