settings icon
share icon
سوال

خدا کی حمد و ثناء کرنے سے کیا مراد ہے ؟

جواب


مسیحی اکثر "خدا کی حمد ہو" کا ذکر کرتے ہیں اور بائبل تمام مخلوقات کو خداوند کی حمد کرنے کا حکم دیتی ہے(150زبور 6آیت)۔ یادہ /Yada "حمد" کے لیے استعمال ہونے والاایک عبرانی لفظ ہے جس کا مطلب "تعریف کرنا، شکر گزاری کرنایا اقرار کرنا "ہے ۔ایک اور لفظ جس کا پرانے عہد نامے میں اکثر "حمد " ترجمہ کیا گیا ہے وہ زَمر/Zamar یعنی "نغمہ سرائی کرنا" ہے ۔ تیسرا لفظ ہلل/Halal (ہلیلویاہ کاماخذ) ہے جس کا ترجمہ "حمد " کیا گیا ہے جس سے مراد "تعریف، عزت یا سفارش "کرنا ہے۔ تینوں اصطلاحات میں اُس شخصیت/ذات کا شکریہ ادا کرنے اور عزت دینے کا خیال پایا جاتا ہے جو حمد و ثنا ء کے لائق ہے۔

زبور کی کتاب ایسے گیتوں کا مجموعہ ہے جو خدا کی حمد و ستائش سے بھرے ہیں ۔ اُن میں سے ایک 9زبور ہے جو بیان کرتاہے کہ " مَیں تجھ میں خُوشی مناؤں گا اور مسرور ہُوں گا۔ اَے حق تعالیٰ! مَیں تیری ستایش کرُوں گا"(2آیت)۔ 18زبور 3آیت فرماتی ہے کہ " مَیں خُداوند کو جو ستایش کے لائِق ہے پکارُوں گا۔ یُوں مَیں اپنے دُشمنوں سے بچایا جاؤں گا"۔ 21زبور 13آیت خدا کی ذات اور اُس کی عظیم قدرت کے لیے خدا کی تعریف کرتی ہے "اَے خُداوند! تُو اپنی ہی قُوت میں سربُلند ہو! اور ہم گا کر تیری قدرت کی ستایش کریں گے"۔

150زبور چھ آیات میں تیرہ بار لفظ حمد کا استعمال کرتا ہے۔ پہلی آیت بیان کرتی ہے کہ " کہاں "حمد کرنی ہے –ہر جگہ! " خُداوند کی حمد کرو۔ تم خُدا کے مَقدِس میں اُس کی حمد کرو۔ اُس کی قُدرت کے فلک پر اُس کی حمد کرو"

- اگلی آیت سکھاتی ہے کہ "کیوں"خداوند کی حمد کرنی چاہیے : " اُس کی قُدرت کے کاموں کے سبب سے اُس کی حمد کرو۔ اُس کی بڑی عظمت کے مُطابِق اُس کی حمد کرو"۔

-3-6آیات واضح کرتی ہیں کہ "کس طرح" خداوند کی حمد کرنی چاہیے — مختلف سازوں کےساتھ ، ناچتے ہوئے اور سانس لینے والا ہر جاندار اُس کی حمد کرے۔ ہمیں آواز پیدا کرنے والے ہر ذریعے کو خدا وند کی حمد کے لیے استعمال کرنا ہے!

نئے عہد نامے میں خُداوند یسوع کی حمد و تعریف کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ متی 21باب 16آیت اُن لوگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جنہوں نے خُداوند یسوع کی اُس وقت حمد کی جب وہ گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں داخل ہونے کو تھا۔ متی 8باب 2آیت ایک کوڑھی کا ذکر کرتی ہے جس نے جھک کر خُداوند یسوع کو سجدہ کیا تھا ۔ متی 28باب 17آیت میں بیان کیا جاتا ہے کہ خُداوند یسوع کے شاگردوں نے اُس کے جی اٹھنے کے بعد اُسے سجدہ کیا۔ بحیثیت خدا ، خداوند یسوع نے اُس سجدہ کوقبول کیا۔

ابتدائی کلیسیا اکثر خدا کی حمد و ستائش کےلیے جمع ہوتی تھی۔ مثال کے طور پر یروشلیم کی ابتدائی کلیسیا میں عبادت اہمیت کی حامل تھی(اعمال 2باب 42-43آیات)۔ جب پولس اور برنباس کو مشنری کام کے لیے بلایا گیا تو اُس وقت انطاکیہ کی کلیسیا کے بزرگ دُعا اور روزے کی حالت میں عبادت میں مشغول تھے (اعمال 13باب 1-5آیات)۔ پولس کے بہت سے خطوط میں خُداوند کی تعریف کے وسیع بیا ن شامل ہیں (1 تیمتھیس 3 باب 14-16 آیات؛ فلپیوں 1باب 3-11آیات)۔

وقت کے اختتام پر خدا کے تمام لوگ خدا کی ابدی حمد و ستائش میں شامل ہوں گے۔ "پھر لعنت نہ ہو گی اور خُدا اور بَرّہ کا تخت اُس شہر میں ہو گا اور اُس کے بندے اُس کی عبادت کریں گے"(مکاشفہ 22باب 3آیت)۔ گناہ کی لعنت ختم ہونے پر خُداوند کے حضور ی میں موجود لوگ ہمیشہ بادشاہوں کے بادشاہ کی کامل تعریف کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ زمین پر ہماری طرف سے خدا کی عبادت محض اُس حمد و ستائش کے جشن کی تیاری ہے جو خداوند کے ساتھ ابدیت میں ہو گا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خدا کی حمد و ثناء کرنے سے کیا مراد ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries