settings icon
share icon
سوال

عملی علمِ الٰہیات کیا ہے؟

جواب


عملی علم ِالٰہیات جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہےعلم الہٰیات کا اس طور سے مطالعہ کرنا ہے جس کا مقصداِسے کارآمد یا قابل اطلاق بنانا ہے۔ اس بات کو بیان کرنے کا ایک انداز یہ ہے کہ یہ علمِ الٰہیات کا اس مقصد سے مطالعہ کرنا ہے کہ اُسے استعمال کیا جا سکے اور روزمرّہ کے معاملات سے جوڑا جا سکے ۔ ایک سیمنری اپنے عملی الٰہیاتی پروگرام کو " عملی اطلاق کے لیے وقف الٰہیاتی بصیرت " کے طور پر بیان کرتی ہے اور یہ بھی کہ اس میں "عموماً دیگر باتوں کے ساتھ پاسبانی علم ِ الہیات ، علم الوعظ اور مسیحی تعلیم کے ذیلی مضامین شامل ہوتے ہیں "۔ جبکہ کوئی اور سیمنری عملی علم ِ الہیات کو اس طور سے دیکھتی کہ اِس کا مقصد طالب علموں کو تیار کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے تاکہ سیکھے گئے علم کو لوگوں کی موثر خدمت میں استعمال کیا جا سکے۔ ایسا کرنے میں ذاتی اور خاندانی زندگی کے ساتھ ساتھ کلیسیا میں موجودانتظامی اور تعلیمی خدمتیں بھی شامل ہیں۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ عملی علم ِ الہیات کا مقصد کلام کے ایسے موثر پیغام رساؤں کو تیار کرنا ہے جو خدمت گزار رہنما ؤں کی حیثیت سے ایمانداروں کی رُوحانی نشوونما کی رویارکھتے ہوں۔

کچھ لوگ عملی علم ِ الہیات کو محض مسیحی زندگی کے عقیدے کاتکنیکی نام خیال کرتے ہیں۔اِس کا زور اِس بات پر ہے کہ کلام مقدس کی تمام تعلیمات کو اس موجودہ دنیا میں ہمارے رہن سہن کے طریقے کو کس طرح متاثر کرنا چاہیے۔ عملی علم ِ الٰہیات کا زور محض مذہبی عقائد پر غور کرنے یا سمجھنے پر نہیں بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اُن عقائد کا روزمرہ کی مسیحی زندگی پر ا طلاق کرنے پر ہے تاکہ ہم "دنیا کو ویسا بنانے میں اپنا کر دار ادا کریں جیسا خدا اُسے بنانا چاہتا ہے۔ "

عملی علم ِ الٰہیات پروگراموں کے پیچھے تصور یہ ہے کہ مستقبل کے مسیحی رہنماؤں کو جدید دنیا میں مؤثر طریقے سے خدمت کرنے کے لیے نہ صرف مذہبی علم بلکہ ضروری پیشہ ورانہ مہارتوں سے بھی لیس ہونے کی ضرورت ہے۔ اِن پروگراموں میں اکثر منادی، مسیحی تعلیم، ا صلاح کاری اور طبی پروگراموں کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مستقبل کے مسیحی رہنماؤں کو تیار ہونے کے مواقع فراہم کیے جا ئیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

عملی علمِ الٰہیات کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries