settings icon
share icon
سوال

رُوح القدس کی قوت کیا ہے ؟

جواب


رُوح القدس کی قوت خدا کی قوت ہے۔ تثلیث کا تیسرا اقنوم رُوح القدس تمام کتاب ِ مقدس میں ایک شخصیت کے طور پر عیاں ہے ، جس کے وسیلہ سے قدرت کے عظیم کام ظاہر کئے جاتے ہیں ۔ اُس کی قوت سب سے پہلے تخلیق کے عمل میں دکھائی دی اِس لیے دنیا اُس کی قدرت سے وجود میں آئی (پیدایش 1باب 1-2آیات؛ ایوب 26باب 13آیت)۔ خدا کی مرضی کو پورا کرنے کے لیے رُوح القدس نے پرانے عہد نامے میں لوگوں کو تقویت بھی بخشی: "تب سموئیل نے تیل کا سینگ لِیا اور اُسے اُس کے بھائیوں کے درمیان مَسح کِیا اور خُداوند کی رُوح اُس دِن سے آگے کو داؤُد پر زور سے نازِل ہوتی رہی" (1سموئیل 16باب 13آیت؛ خروج 31باب 2-5آیات ؛ گنتی 27باب 18آیت بھی دیکھیں )۔ اگرچہ رُوح القدس پرانے عہد نامے میں خدا کے لوگوں کی زندگیوں میں مستقل طور پر بسا نہیں رہتا تھا لیکن اُس نے اُن کے وسیلہ سے کام کیا اور انہیں ایسی کامیابیاں حاصل کرنے کی طاقت بخشی جو وہ اپنے طور پر حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ سمسون کی طاقت کے تمام کارنامے براہ راست اُس رُوح سے منسوب ہیں جو اُس پر نازل ہوتا تھا(قضاۃ 14باب 6، 19 آیت؛ 15باب 14آیت)۔

یسوع نے رُوح القدس کی ایک مستقل رہنما، استاد، نجات کی مہر اور ایمانداروں کے لیے مددگار کے طور پر پیشین گوئی کی (یوحنا 14باب 16-18 آیات)۔ اُس نے یہ بھی وعدہ کیا کہ رُوح القدس کی قوت اُس کے پیروکاروں کو انجیل کا پیغام پوری دنیا میں پھیلانے میں مدد کرے گی: "لیکن جب رُوح القدس تُم پر نازِل ہو گا تو تُم قُوت پاؤ گے اور یروشلیم اور تمام یہُودیہ اور سامرؔیہ میں بلکہ زمین کی اِنتِہا تک میرے گواہ ہو گے"(اعمال 1باب 8آیت)۔ رُوحوں کی نجات جو ایک مافوق الفطرت کام ہے دنیا میں کام کرنے والے رُوح القدس کی قوت سے ممکن ہوتی ہے۔

عید ِ پنتیکُست کے دن جب رُوح القدس ایمانداروں پر نازل ہوا تو یہ کوئی خاموش نہیں بلکہ ایک پُر زور واقعہ تھا۔ "جب عِیدِ پِنتیکُست کا دِن آیا تو وہ سب ایک جگہ جمع تھے۔ کہ یکایک آسمان سے اَیسی آواز آئی جیسے زور کی آندھی کا سنّاٹا ہوتا ہے اور اُس سے سارا گھر جہاں وہ بیٹھے تھے گُونج گیا۔ اور اُنہیں آگ کے شعلہ کی سی پھٹتی ہُوئی زُبانیں دِکھائی دِیں اور اُن میں سے ہر ایک پر آ ٹھہرِیں۔ اور وہ سب رُوح القُدس سے بھر گئے اور غیر زُبانیں بولنے لگے جس طرح رُوح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی"(اعمال 2باب 1-4آیات)۔ اِس کے فوراً بعد شاگردوں نے یروشلیم میں پنتیکُست کی عید کے لیے جمع ہونے والے ہجوم سے باتیں کیا ۔ یہ لوگ مختلف قوموں سے تعلق رکھنے کے باعث طر ح طرح کی مختلف زبانیں بولتے تھے۔ اُن کی حیرت اور تعجب کا تصور کریں جب شاگردوں نے اُن سے اُن کی اپنی زبان میں باتیں کی ( 5-12آیات)! بے شک یہ ایک ایسی بات تھی جسے شاگرد کئی مہینوں یا حتیٰ کہ سالوں کے مطالعہ کے بغیر اپنے طور پر نہیں کر سکتے تھے۔ اُس دن رُوح القدس کی قوت لوگوں کی ایک بڑی تعداد پر ظاہر ہوئی جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 لوگ مسیح پر ایمان لائے(41آیت)۔

اپنی زمینی خدمت کے دوران خُداوند یسوع نے رُوح القدس کی معموری ( لوقا 4باب 1آیت) قوت (لوقا 4باب 14آیت) اور معجزات کرنے کے لیے اُس کی مدد حاصل کی (متی 12باب 28آیت)۔ یسوع کے آسمان پر جانے کے بعد رُوح القدس نے معجزات دکھانے کے لیے رسولوں کو بھی تقویت بخشی (2کرنتھیوں 2باب 12آیت؛ اعمال 2باب 43آیت؛ 3باب 1-7آیات؛ 9باب 39-41آیات)۔ رُوح القدس کی قوت ابتدائی کلیسیا کے تمام ایمانداروں میں غیر زبانیں بولنے ، نبوّت کرنے ، تعلیم دینے ، حکمت اوراِن جیسی بہت سی رُوحانی نعمتوں کے ذریعے ظاہر ہوئی تھی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح القدس کی قوت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries