settings icon
share icon
سوال

کیا مثبت اقرار میں طاقت ہوتی ہے ؟

جواب


مثبت اقرار بلند آواز سے کوئی ایسی بات کہنے کی مشق ہے جو آپ چاہتے ہیں کہ رونما ہواور پھر اُمید رکھیں کہ خُدا ایسا کر دے گا۔ یہ خوشحالی کی انجیل کے حامیوں میں مقبول تصور ہے جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ الفاظ میں رُوحانی طاقت ہوتی ہے اور یہ کہ اگر ہم صحیح ایمان کے ساتھ بلند آواز سے درست الفاظ بولیں تو ہم دولت اور صحت حاصل کر سکتے ہیں، شیطان کو باندھ سکتے ہیں اور جو کچھ بھی چاہتے ہیں اُس کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ مثبت اقرار کرنا اِن الفاظ کو بولنا ہے جن پر ہم یقین رکھتے ہیں یا جن کے بارے میں ہم چاہتے ہیں کہ وہ حقیقت کا روپ دھار لیں ۔ یہ منفی اقرار کے اُلٹ ہے جو کہ مشکلات، غربت اور بیماری کو تسلیم کرنا اور (غالباً) اُن کو قبول کرلینا ہےاور اُس آرام، دولت اور صحت سے انکار کرنا ہے جو ہمارے لیے خدا کے منصوبے میں ہے ۔

اس فلسفے میں کئی باتیں غلط ہیں۔ سب سے خطرناک تو یہ عقیدہ ہے کہ الفاظ میں کسی طرح کی رُوحانی، جادوئی طاقت ہوتی ہے جسے ہم اپنی مرضی کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ مشق بائبل کی سچائیوں سے نہیں بلکہ نیو ایج کےایک تصور سے لی گئی ہے جسے "کشش کا قانون" کہا جاتا ہے ۔ یہ فلسفہ سکھاتا ہے کہ "ایک جیسی چیزوں میں باہمی کشش پائی جاتی ہے " - ایک مثبت بیان یا سوچ ایک مثبت ردعمل کا باعث بنے گی۔ ہر چیز "خدا" (بطورِقادرِ مطلق خالق ) سے نہیں بلکہ ہندومت/مظاہر پرستانہ انداز میں "معبود" کے لحاظ سے خدا کی موجودگی اور قوت سےجڑی ہوئی ہے ۔ اس فلسفے کے نتیجے میں یہ خیال جنم لیتا ہے کہ ہمارے الفاظ خدا کو اس بات پر پابند کرنے کی طاقت رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں وہ سب کچھ عطا کرے جو ہم چاہتے ہیں –یہ ایک بدعتی عقیدہ ہے۔ مزید برآں اِس میں یہ مانا جاتا ہے کہ مثبت اقرار سے منسوب نتائج انسان کے ایمان سے تقویت پاتے ہیں۔ یہ تصوراُس پرانے عقیدے کی طرف لے کر جاتا ہے کہ بیماری اور غربت گناہ (اس معاملے میں ایمان کی کمی) کے لیے سزا کی ایک قسم ہے ۔ یوحنا 9باب 1-3آیات اور ایوب کی پوری کتاب اس کی تردید کرتی ہے۔

دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ خوشحالی کی انجیل خدا کے وعدوں کی غلط تشریح کرتی ہے۔ "اقرار " خدا کی کہی ہوئی باتوں سے اتفاق کرنا ہے؛ "مثبت اقرار " انسانی خواہشات کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جو لوگ مثبت اقرار کی تشہیر کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ عمل محض خدا کے وعدوں کو اُسی طرح دُہرانا ہے جیسے کہ وہ بائبل میں دئیےگئے ہیں ۔ لیکن وہ اِن عالمگیر وعدوں میں جو خدا نے اپنے تمام پیروکاروں سے کیے تھے (مثلاً، فلپیوں 4باب 19آیت ) اور کسی خاص مقصد کے لیے کسی خاص وقت پر مخصوص لوگوں سے کیے گئے انفرادی وعدوں(مثلاً، یرمیاہ 29باب 11آیت) کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ وہ اِس بات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہ ہماری زندگیوں کے لیے خُدا کا منصوبہ ہماری زندگیوں کے لیے ہمارے اپنے منصوبوں سے مختلف ہو سکتا ہے (یسعیاہ 55باب 9آیت )۔ یہ اُن وعدوں کی بھی غلط تشریح کرتے ہیں جو خُدا ہمارے ساتھ کرتا ہے ۔ بے فکر ی کی کامل زندگی اُس زندگی کے برعکس ہے جسے خُداوند یسوع بیان کرتا ہے اور جواُس کے پیروکار وں نے گزاری تھی ۔ یسوع نے خوشحالی کا وعدہ نہیں کیا تھا؛ اُس نے مشکلات کا وعدہ کیا تھا (متی 8باب 20آیت)۔ اُس نے یہ وعدہ نہیں کیا کہ ہماری ہر خواہش پوری ہو جائے گی بلکہ اس نے وعدہ کیا کہ ہماری ضرورت کے مطابق ہمارے پاس ہو گا (فلپیوں 4باب 19آیت)۔ اس نے خاندان میں امن کا وعدہ نہیں کیا؛ اس نے وعدہ کیا کہ خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ کچھ تو اُس کی پیروی کرنے کا فیصلہ کریں گے کچھ نہیں (متی 10باب 34-36آیات )۔ اور اُس نے صحت کا وعدہ نہیں کیا؛ اُس نے ہمارے لیے اپنے منصوبے کو پورا کرنے اور آزمایشوں میں فضل عطاکرنے کا وعدہ کیا ہے (2 کرنتھیوں 12باب 7-10آیات)۔

مثبت اقرار کے ساتھ ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ اگرچہ اِن "اقرار وں "کو مستقبل میں رونما ہونے والی چیزوں کا حوالہ پیش کرنے والے سمجھا جاتا ہے لیکن اِن میں سے بہت سے بیانات محض جھوٹ ہیں۔ یقیناً خدا پر ایمان اور یسوع کے کفارے کے وسیلہ سے نجات کی زبانی طور پر تصدیق کرنا اچھی بات ہے۔ لیکن یہ اعلان کرناکہ "مَیں ہمیشہ خدا کی فرمانبرداری کرتا ہوں،" یا "مَیں دولت مند ہوں" گمراہ کُن ہے اور ممکنہ طور پر خدا کی اُس مرضی کے خلاف ہے جس سے ہمیں لپٹے رہنا چاہیے ۔ دوسرے لوگوں کے بارے میں "اقرار " خاص طور پر پریشان کن ہیں۔ خدا نے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے انفرادی انداز میں اس کی خدمت یا بغاوت کرنے کی آزادی دی ہے؛ اس کے برعکس دعویٰ کرنا بے وقوفی ہے ۔

آخر میں، بائبل اس لحاظ سے بہت واضح ہے کہ "منفی اقرار " خدا کی نعمتوں کی نفی نہیں کرتا۔ زبور چھٹکارے کے لیے خدا کے حضور التجاؤں سے بھرے ہوئے ہیں اور 55زبور 22آیت اور 1پطرس 5باب 7آیت ہمیں اس مثال کی پیروی کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ جب یسوع آسمانی باپ کے سامنے گیا تو وہ نہ صرف صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ تھا بلکہ اُس نے مدد کی بھی درخواست کی تھی (متی 26باب 39آیت)۔ بائبل کا خدا ایک عالمگیر سانتا کلاز نہیں ہے (یعقوب باب 4باب 1-3آیات)۔ وہ ایک محبت کرنے والا باپ ہے جو اپنے بچّوں کی زندگیوں کے اچھے اور بُرے حالات میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ اور جب ہم اپنے آپ کو عاجز کرتے اور اُس سے مدد مانگتے ہیں تووہ ہمیں یا تو حالات سے رہائی دیتا ہے یا اُن میں سے گزرنے کی طاقت دیتا ہے۔

کیا مثبت اقرار کی کوئی قدر ہے؟ ایک لحاظ سے ، جو لوگ پُراعتماد ہیں کہ وہ کسی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں وہ عام طور پر زیادہ پر سکون اور تخلیقی ہوتے ہیں۔ پُرامید مزاج صحت کو بہتر بنانے میں مدد گا ر ثابت ہوا ہے۔ اور خوش مزاج لوگ اکثر اپنے اور دوسروں کے درمیان کافی جذباتی فاصلہ رکھتے ہیں تاکہ وہ لطیف سراغ حاصل کر سکیں جو کامیاب شخصی اور کاروباری لین دین کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنے مقاصد کو مستقل طور پر بیان کرنا اُن مقاصد کو ہمیشہ سامنے رکھنے کا باعث ہوتا ہے۔ جو لوگ لگاتا ر زیادہ سے زیادہ پیسہ حاصل کرنے کے بارے میں سوچتے ہیں وہ اُس کے مطابق عمل کریں گے۔

مثبت اقرار کے خطرات اِس کے فوائد سے کہیں زیادہ ہیں۔ تمام فوائد جو ہم نے درج کیے ہیں وہ نفسیاتی اور کسی حد تک عضویاتی ہیں نہ کہ رُوحانی ۔ وہ واحد رُوحانی فائدہ جو اِس سے حاصل ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی طرف سے مداخلت کرنے کی توقع رکھتے ہیں وہ اپنے حالات کے دوران ممکنہ طور پر خدا کو کام کرتے ہوئے زیادہ دیکھتے ہیں۔ مگر الفاظ جادوئی اثر نہیں رکھتے ۔ ہمارے آسمانی باپ کے ساتھ ہمارا رشتہ مطالبہ کرنا نہیں ہے بلکہ اُس سے مدد مانگنا اور اُس پر بھروسہ کرنا ہے۔ اور یہ جاننا ضروری ہےکہ ہماری برکات کا دارومدار ہمارے ایمان کی مضبوطی پر نہیں ہے بلکہ خُدا کے منصوبے اور اُس کی قوت پر ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا مثبت اقرار میں طاقت ہوتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries