settings icon
share icon
سوال

فحش نگاری کی بابت بائيبل کیا کہتی ہے؟

جواب


انٹرنیٹ پر کسی بھی چیز سے زیادہ آج تک جس مواد کو تلاش کیا یا دیکھا گیا ہے وہ فحاشی سے تعلق رکھنے والا ہے۔ آج کل پوری دُنیا میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ جو مواد ہے اُس کا تعلق بھی فحاشی کے ساتھ ہے۔ غالباً ہر کسی چیز سے بڑھ کر ابلیس کو اِس بات میں سب سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی ہے کہ وہ جنسی تعلق کو توڑ مروڑ اور بگاڑ سکے۔ جنسی تعلق کے لحاظ سے اُس نے جو کچھ مناسب، درست اور اچھا تھا (یعنی میاں اور بیوی کے درمیان محبت بھرا جائز جنسی رشتہ)اُس کی جگہ پر شہوت، فحش نگاری، بدکاری/زنا کاری، زنا بالجبر اور ہم جنس پرستی کو رکھ دیا ہے۔ فحش نگاری (یعنی فحش مواد کا دیکھنا)در اصل بدکاری اور ناپاکی کی پھسلنے والی ڈھلوان پر پہلا قدم رکھنے کے مترادف ہے (رومیوں 6باب 19 آیت)۔ اِس بات کا بہت اچھی طرح تجزیہ کیا گیا ہے کہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے فحش نگاری بھی کسی نشے کی لت جیسی ہوتی ہے۔ جس طرح نشے کے عادی شخص کو اپنی لذت کو پورا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ مقدار میں نشہ لینا پڑتا ہے اُسی طرح فحش نگاری کی لت بھی کسی بھی شخص کو گناہ کی دلدل میں آگے سے آگے لے کر جاتے ہوئے بدکاری/ زنا اور بہت ساری ایسی نفسانی خواہشات کا شکار بنا دیتی ہے جو خُدا کے خلاف ہیں۔

گناہ کی تین حصوں میں زمرہ بندی کی جا سکتی ہے یعنی جسم کی خواہش، آنکھوں کی خواہش، زندگی کی شیخی(1 یوحنا 2باب16 آیت)۔فحش نگاری ہمیں جس کی خواہش پر مجبور کرتی ہے اور یہ بغیر کسی شک و شبہ کے آنکھوں کی خواہش سے پیدا ہوتی ہے۔ فلپیوں 4باب 8آیت کے مطابق فحش نگاری اُن چیزوں یا باتوں کے زمرے میں نہیں آتی جن پر ہمیں غور کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ فحش نگاری نشے کا عادی بنانے جیسی تاثیر رکھتی ہے یعنی اِس کی لت لگ سکتی ہے (1 کرنتھیوں 6 باب 12 آیت؛ 2 پطرس 2 باب 19 آیت) اور یہ مہلک اور تباہ کن ہے (امثال 6باب 25-28 آیات؛ حزقی ایل 20 باب 30 آیت؛ افسیوں 4 باب 19 آیت)۔ فحش نگاری کا جوہر دوسروں کے بدنوں کی شہوت میں مبتلا ہونا ہے اور یہ خُدا کے نزدیک ناپسندیدہ بات ہے جو زنا کے برابر ہے (متی 5باب28 آیت)۔ جب کسی شخص کی زندگی میں فحش نگاری واضح اور اہم حیثیت رکھتی ہو اور وہ شخص اِس لت میں سے نکلنے کے لیے کسی کی مدد کا طلبگار نہ ہو، اور وہ اپنی اُس عادت کو ختم کرنے کی کوئی شعوری کوشش نہ کرے، اور وہ اپنے اُس رویے کو تبدیل کرنے کا کوئی احساس نہ رکھتا ہو اور کوئی ضرورت محسوس نہ کرے تو اِس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ شخص نجات یافتہ نہیں ہے (1 کرنتھیوں 6باب 9-12 آیات)۔

وہ لوگ جو فحش نگاری کی لت کا شکار ہیں، اگر وہ اُس میں سے نکلنے کے خواہشمند ہوں تو خُدا نہ صرف اُنہیں اِس کوشش میں فتح دے سکتا ہے بلکہ وہ فتح دیتا بھی ہے۔ کیا آپ فحش نگاری کی لت کا شکار ہیں اور اُس سے آزادی چاہتے ہیں؟ اُس لت پر فتح پانے کے چند اقدام کچھ یوں ہیں:

‌أ. خُداکے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کریں (1 یوحنا 1باب9آیت)۔

‌ب. خُدا سے التجا کریں کہ وہ آپ کو پاک صاف کرے، آپ کی عقل اور سوچ کو نیا کرے (رومیوں 12 باب 2 آیت)۔

‌ج. خُدا سے التجا کریں کہ وہ آپ کے ذہن کو اُن خیالات اور باتوں سے بھر دے جو سچ ہیں، شرافت کی ہیں، واجب ہیں، پاک ہیں ،پسندیدہ ہیں، دلکش ہیں اور نیکی و تعریف کی باتیں ہیں۔ (فلپیوں 4 باب 8 آیت)۔

‌د. پاکیزگی اور عزت کے ساتھ اپنے ظرف کو حاصل کرنا سیکھیں (1 تھسلنیکیوں 4باب 3-4 آیت)۔

‌ه. جنسی تعلق اور اِس کی اہمیت و مقصد کو خُدا کی تعلیمات کی روشنی میں جاننے کی کوشش کریں اور اپنی جنسی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل کے لیے صرف اپنے جیون ساتھی پر انحصار کریں (1 کرنتھیوں 7باب1-5 آیات)۔

‌و. اِس حقیقت کو جانیں کہ اگر آپ رُوح میں چلیں گے تو پھر آپ اپنے جسم کی خواہشوں کو پورا نہیں کریں گے (گلتیوں 5باب16 آیت)۔

‌ز. عملی طور پر مختلف طرح کی تصاویر اور ویڈیو کو دیکھنا کم کریں۔ اپنے کمپیوٹر پر ایسے کسی سوفٹ وئیر کو انسٹال کریں جو فحش قسم کی تصویروں اور ویڈیوز کو بلاک کر دے (روک دے)۔ ٹیلی ویژن اور فلمیں دیکھنے کی عادت کو کم کریں اور کسی ایسے مسیحی دوست کو ڈھونڈیں جو نہ صرف آپ کے لیے دُعا کرے بلکہ آپکی مدد کرے کہ آپ اپنے کاموں کے حوالے سے خود کو جوابدہ محسوس کریں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل فحش نگاری /فحش مواد تصاویر یا فلمیں دیکھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries