settings icon
share icon
سوال

اصنام پرستی کیا ہے؟

جواب


اصنام پرستی کےلیے انگریزی اصلاح پولی تھی ازم (polytheism) استعمال ہوتی ہے جس کا مطلب بہت سے خُداؤں یا دیوتاؤں کو ماننا۔اگر اِس اصطلاح کو دوحصوں میں تقسیم کریں تو ہمیں دو الفاظ ملتے ہیں: "پولی" جو یونانی سے ماخوذ ہے اِس کے معنی ہیں "بہت سے"، اور "تھیوس" کے معنی ہیں خُدا۔ عقیدہِ اصنام پرستی انسانی تاریخ میں خُدا کے بارے میں قریباً سب سے غالب نظریہ رہا ہے۔ قدیم زمانوں میں عقیدہِ اصنام پرستی کی مشہور مثالیں یونانی/ رومی دیوتاؤں کے فرضی قصے کہانیاں (زیُوس، اپولو، ایفروڈائٹ، پوزیڈون، وغیرہ) ہیں۔ عقیدہِ اصنام پرستی کی واضح ترین جدید مثال ہندومت ہےجس کے دیوتاؤں کی تعداد 33 کروڑ سے بھی زیادہ ہے ۔ ہندومت اپنے جوہر میں مظاہر پرست ہے تاہم یہ بہت سے دیوتاؤں کے موجود ہونے کے عقیدے پر ایمان رکھتا ہے ۔ اِس بات پر غور کرنا کافی دلچسپ ہے کہ کثیر دیوتاؤں کو ماننے والے مذاہب میں عام طور پر ایک دیوتاکو دوسرے دیوتاؤں سے زیادہ افضل مانا جاتا ہے مثال کےطور پر یونانی/رومی فرضی قصے کہانیوں میں زیُوس دیوتا کو اور ہندومت میں براہما کو افضل دیوتا مانا جاتا ہے۔

بعض لوگ دلیل دیتے ہیں کہ پرانے عہد نامے میں بائبل بھی عقیدہِ اصنام پرستی (کثیر خداؤں) کی تعلیم دیتی ہے۔ بے شک کئی حوالہ جات "خدا/الوہیم" کو صیغہ جمع میں پیش کرتے ہیں (خروج 20باب 3آیت ؛ استثنا 10باب 17آیت؛13باب 2آیت ؛ 82زبور 6آیت ؛ دانی ایل2باب 47آیت )۔ قدیم اسرائیلی اس بات کو مکمل طور پر سمجھتے تھے کہ ایک ہی حقیقی خُدا ہے لیکن وہ اکثر اُس ایمان کے مطابق زندگی نہیں گزارتے تھے جس کو وہ سچا مانتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ بار بار بُت پرستی میں پڑ جاتے اور بیگانہ دیوتاؤں کی پرستش کرنا شروع کر دیتے تھے ۔ پس ہمیں اِن جیسے دیگر اور حوالہ جات کے ساتھ کیسے نمٹنا چاہیےجو کثیر خُداؤں کا ذکر کرتے ہیں ؟اِس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ عبرانی لفظ ایلوہیم ایک حقیقی خُدا کے ساتھ ساتھ جھوٹے معبودوں/بُتوں کو پیش کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا ۔ یہ قریباً انگریزی لفظ "گاڈ God" کی طرح ہی کام کرتا تھا۔

"خُدا" کے طور پر کسی چیز کو بیان کرنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ اُس کو ہستی کو الٰہی مانتے ہیں ۔ دیوتاؤں کے بارے میں بات کرنے والے پرانے عہد نامے کے حوالہ جات کی وسیع اکثریت اُن جھوٹے خُداؤں کی بات کر رہی ہے جو خُدا ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں خدا نہیں ہیں۔ اس تصورکا خلاصہ 2سلاطین19باب 18آیت میں بیان کیا جاتا ہے "اور اُن کےدیوتاؤں کو آگ میں ڈالا کیونکہ وہ خُدا نہ تھے بلکہ آدمیوں کی دست کاری یعنی لکڑی اور پتھر تھے اِس لئے اُنہوں نے اُن کو نابُود کیا ہے"۔ 82 زبور 6 آیت پر غور کریں"مَیں نے کہا تھا کہ تم اِلٰہ ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔ تو بھی تم آدمیوں کی طرح مرو گے اور اُمرا میں سے کسی کی طرح گر جاؤ گے۔"

بائبل عقیدہِ اصنام پرستی کے خلاف واضح طور پر سکھاتی ہے۔ استثنا6باب 4آیت ہمیں بتاتی ہے "سُن اے اسرائیل! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے"۔ 96 زبور 5 آیت بیان کرتی ہے"اِس لئے کہ اور قوموں کے سب معبود محض بُت ہیں لیکن خُداوند نے آسمانوں کو بنایا"۔ یعقوب 2 باب 19 آیت فرماتی ہے "تُو اِس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ خُدا ایک ہی ہے خیر۔ اچھا کرتا ہے۔ شیاطین بھی ایمان رکھتے اور تھرتھراتے ہیں"۔پس حقیقی خدا صرف ایک ہی ہے۔یقیناًبہت سے جھوٹے خُدا بھی موجود ہیں جو خُدا ہونے کا محض روپ دھارے ہوئے ہیں لیکن حقیقت میں صرف ایک ہی خُدا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اصنام پرستی کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries