settings icon
share icon
سوال

حقیقت میں کون خُدا کا کردار ادا کر رہا ہے – وہ ڈاکٹر جو تکلیف دہ یا ناقابلِ شفا بیمار ی میں مبتلا کسی مریض کو آسان موت دیتا ہے یا پھر وہ ڈاکٹر جو انتہائی بیمار مریض کی زندگی کو بڑھاتا ہے؟

جواب


یہ سوال زندگی کا اختتام کرنے کے متعلق فیصلہ سازی کے کچھ پوشیدہ تصورات کو منظرِ عام پر لاتا ہے ۔ بہت سارے لوگوں کے لیے بنیادی طور پر غور کرنے کی بات یہ ہوتی ہے کہ دُکھوں کی دہلیز سے پرے، یا جسم کے کچھ اہم افعال کے نقصان کے بعد بھی کیا زندگی کچھ معنی رکھتی ہے؟ اِس طرح کے معنی کے تعین میں ایک مسئلہ اکثر شخصی /subjective نوعیت کی فیصلہ سازی کا عمل ہے۔

اِس حوالے سے اہم چیز جس پر گہرا غورو فکر کرنا چاہیے خُدا کی مرضی ہے، اُس خُدا کی مرضی جو زندگی دینے والا اور حکمت دینے والا ہے –وہ حکمت جس کی ہمیں زندگی کے دُکھوں اور تکالیف کے دوران سخت ضرورت ہوتی ہے (27 زبور 11 آیت؛ 90 زبور 12 آیت)۔ یہ خُدا ہی ہے جو موت کی حدتک زندگی کو معنی اور مقصد عطا کرتا ہے۔ زندگی خُدا کی طرف سے تحفہ ہے اِس لیے اِس کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ خُدا ہماری موت اور اُس کے طریقہ کار پر مکمل طور پر اختیار رکھتا ہے۔ ایک ڈاکٹر جو زندگی بچانے کے لیے علاج کرتا ہے وہ "خُدا کا کردار" ادا نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ خُد اکی طرف سے عطا کردہ تحفے یعنی زندگی کا احترام کر رہا ہوتا ہے۔

زندگی کا خاتمہ کرنے کے متعلق فیصلہ سازی کے حوالے سے دو متضادانتہاؤں پر مختلف اقدار پائی جاتی ہیں۔ اِیک انتہا کے سرے پر وہ لوگ ہیں جو یوتھنیشیا/ euthanasia یا رحمدلانہ /سہل موت کو فروغ دیتے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ : دُکھ ایک بُرائی ہے، اِس لیے اگر کوئی سخت دُکھ میں مبتلا ہے تو اُس کے دُکھ کو ختم کرنے کے لیے اگر ضروری ہو تو اُسے رحمدلانہ طریقے سے موت دے دی جانی چاہیے؟ لیکن اِس کے دوسرے سرے پر وہ لوگ کھڑے ہیں جو زندگی کو مُقدس مانتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جیسے بھی ممکن ہو، کسی بھی طرح کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے زندگی کو بچانا اور بڑھانا چاہیے۔

اِس حقیقت کے علاوہ کہ یوتھنیشیا ایک قتل ہے، پہلےتصور کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ کلامِ مُقدس کہیں پر بھی ہمیں تکالیف سے بچنے کی تلقین نہیں کرتا۔ بلکہ کلامِ تو ایمانداروں کو مسیح کی طرح دُکھ اُٹھانے کے لیے بلاتا ہےتاکہ ہمارے اندر اُس کی راستبازی اور نجات کے مقاصد پورے ہوں (1 پطرس 2باب20-25 آیات؛ 3باب 8-18 آیات؛ 4باب12-19 آیات)۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی انسان کو نمایاں مصائب اور نقصان کی بدولت مایوسی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ حقیقی طور پر چیزوں کے معنی کا جائزہ لیتا ہےاور اُس صورت میں وہ پھر خُدا کے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پیش رفت کر سکتا ہے۔

دوسرے نقطہ نظر میں موجود پیچیدگی "زندگی " کی تعریف ہے۔ زندگی حقیقت میں کب ختم ہوتی ہے؟ اِ سکی کلاسیک مثال نام نہاد مستقل نباتاتی حالت ہے جس میں کوئی شخص کئی سالوں تک صرف خوراک اور پانی ملنے کی وجہ سے زندہ رہ سکتا ہے۔ بہت سارے لوگ تو یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے مریضوں میں کسی بھی طرح کی علمی و شعوری آگہی نہیں ہوتی اِس لیے اُن کی کوئی "زندگی" نہیں ہے۔ نیورولوجسٹ اِس معاملے میں اعصابی محرکات پر مریضو ں کے رَدِ عمل کی پیمائش کرتے ہوئے فیصلہ سازوں کومطلع کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم دیگر کا خیال یہ ہے کہ اگر اِس حالت میں کسی شخص کی دل کی دھڑکن چل رہی ہے تو اُمید باقی ہے اور اِس لیے زندگی کو محفوظ رکھا جانا چاہیے چاہے یہ سب کچھ صرف مشینوں کے ذریعے ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔

اس‏ کا بہترین جواب شاید دونوں نظریات کے درمیان میں کہیں پر ہے۔ ایک مسیحی زندگی کو محفوظ رکھنے کی کوشش کرے گا، لیکن زندگی کے تحفظ اور موت کو طول دینے میں فرق ہے ۔ مصنوعی طور پر زندگی کے افعال کو برقرار رکھنا اِس لیے جاری رکھا جائے گا کیونکہ کسی بھی شخص کے لیے اپنے کسی عزیز کو مرنے کی اجازت دینا جذباتی طور پر کافی زیادہ مشکل لگتا ہے اور ایسا کرنے کی کوشش کرنا واقعی ہی "خُدا کا کردار ادا" کرنے کی کوشش ہوگا۔ موت "مقرر" ہو چکی ہے (عبرانیوں 9باب27 آیت)۔ جس وقت کسی مریض کا جسم کام کرنا بند ہو جاتا ہے، جب طبّی مداخلت اُس کی شفا یابی میں کوئی کوئی کردار ادا نہیں کرے گی بلکہ صرف فطری طور پر مرنے کے قدرتی عمل کو طول دے گی تو مشین کو ہٹانا اور اُس پیارے کو مرنے دینا غیر اخلاقی نہیں ہے۔ اِس کے لیے حکمت کی ضرورت ہوگی۔ اِس کے ساتھ ہی فعال طو رپر موت کے عمل کو تیز کرنا بھی غلط ہے۔ ایسا کچھ کرنا بھی "خُدا کے کردار " کو ادا کرنے جیسا ہوگا۔ غیر فعال طور پر زندگی کو بچانے والے علاج کو روکنا بھی غلط ہو سکتا ہے۔زندگی کو اپنی ڈگر پر چلتے رہنے کی اجازت دینا، شفا بخش نگہداشت فراہم کرنا اور کسی بھی شخص کو خُدا کے ٹھہرائے ہوئے وقت پر مرنے کی اجازت دینا غلط نہیں ہے۔

اِن خیالات کو دیکھتے ہوئے "خُدا کے کردار" کو ادا کرنے کا ایک واضح اور موجودہ خطرہ دونوں انتہاؤں پر موجود رہتا ہے یعنی : ہر قیمت پر دُکھ کو ختم کرنا اور ہر ممکن تھراپی کو ہر قیمت پر استعمال کرنا۔ خُدا کا کردار ادا کرنے کی بجائے ہمیں خُدا کو ہی خُدا بننے دینا چاہیے۔ کلامِ مُقدس ہمیں حکمت کے لیے خُدا پر انحصار کرنے (یعقوب 1باب5 آیت) اور جب تک زندگی ہے اُس کے معنی اور مقصد کومعلوم کرنے (واعظ 12باب) کو کہتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

حقیقت میں کون خُدا کا کردار ادا کر رہا ہے – وہ ڈاکٹر جو تکلیف دہ یا ناقابلِ شفا بیمار ی میں مبتلا کسی مریض کو آسان موت دیتا ہے یا پھر وہ ڈاکٹر جو انتہائی بیمار مریض کی زندگی کو بڑھاتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries