settings icon
share icon
سوال

کیا اپنے پاس یسوع کی تصاویر رکھنا غلط ہے ؟

جواب


جس وقت خُدا نے بنی نوع انسان کو اپنی شریعت دی تو اِس عمل کاآغاز اِس بیان کے ساتھ ہوا:" خُداوند تیرا خُدا جو تجھے مُلکِ مِصرسے اور غُلامی کے گھر سے نِکال لایا مَیں ہُوں " (خروج 20باب2آیت)۔ اور یہ بات بنی اسرائیل کے لیے ایک انتباہ تھی کہ وہ اُس کے سوا کسی بھی اور خُدا یا دیوتا کو نہ مانے۔ اِس کے بعد فوری طور پر اُنہیں اِس بات سے منع کیا کہ وہ " اُوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں" (خروج 20باب4آیت) موجود کسی بھی چیز کی صورت اُسے سجدہ کرنے یا اُس کی پرستش کرنے کے لیے نہ بنائیں۔ یہودی قوم کے بارےمیں حیران کن بات یہ ہے کہ اُنہوں نے کسی بھی اور حکم سے بڑھ کر اِس حکم کی نا فرمانی زیادہ کی تھی۔ اُنہوں نے بار بار خُدا کی نمائندگی کرنے والے بُتوں کو بنایا اور اُن کی پرستش کی اور اِس بات کا آغاز بیابان میں اُس وقت ہو گیا جب خُدا ابھی اُنہیں مصر سے نکال کر ہی لایا تھا اور پہاڑ پر موسیٰ کو دینے کے لیے دِس احکام کو لکھ رہا تھا (خروج 32 باب)!بُتوں کی پوجا نے نہ صرف اسرائیلیوں کے زندہ اور سچے خُدا سے دور کر دیا، لیکن اِس نے اُنہیں دیگر ہر طرح کے گناہ بشمول ہیکل کے اندر جنسی بدکاری، اجتماعی مباشرت کی محفلوں کا انعقاد اور حتیٰ کہ بچّوں تک کی قربانی کرنے کی طرف اُکسایا۔

بلا شک و شبہ اگر کسی گھر کی یا چرچ کی دیوار پر یسوع کی کوئی تصویر لٹکی ہو تو اِس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہاں کے لوگ بُت پرستی کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے یسوع کی کوئی تصویر یا صلیب پر لٹکتا ہوا اُس کا بدن پرستش کا مرکز بن جائے، اُس صورت میں ایسی چیزیں اپنے پاس رکھنے والا شخص غلطی پر ہوگا۔ لیکن نئے عہد نامے کے اندر کہیں پر بھی کوئی ایسی بات نہیں بیان کی گئی جو کسی بھی ایماندار کو مسیح کی تصویر اپنے پاس رکھنے سے منع کرتی ہو۔ یسوع کی کوئی بھی تصویر کئی لوگوں کے لیے دُعا کرنے کی یاددہانی ، خُداوند یسوع کی ذات پر غور و فکر کرنے اور مسیح کے نقشِ قدم پر چلنے کے لیے تحریک ہو سکتی ہے۔ لیکن ایمانداروں کو ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ خُداوند یسوع کی ذات کو دو رُخی تصویر تک محدود نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی ایس تصویر کے سامنے سجدہ کرنا اور اُس کے سامنے دُعا کرنا مناسب نہیں ہے۔ کوئی بھی تصویر کبھی بھی خُداوند کی ذات اور اُس کےجلال کا حقیقی اظہار نہیں ہو سکتی ، اور اِسے کبھی بھی خُدا کو دیکھنےکے ہمارے تصور اور اُس کی ذات کے علم میں بڑھنے کا نعم البدل نہیں ہونا چاہیے۔ مزید برآں یہ بھی کہ خُداوند یسوع مسیح کی سب سے زیادہ خوبصورت ترین تصویر بھی کسی مصور کی طرف سے اُس کی ذات کی تصوراتی شبیہ سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہوگی۔

یہ حقیقت ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ خُداوند یسوع کیسا نظر آتا تھا۔ اگر یسوع کی ذات کے ظاہری خدوخال کو جاننا اِس قدر اہم ہوتا تو متی، پطرس اور یوحنا کے ساتھ ساتھ خُداوند کے بھائیوں یعقوب اور یہوداہ نے ضرور ہی ہمارے لیے اُسکی ذات کی تصویر کشی کی ہوتی۔ لیکن نئے عہد نامے کے یہ مصنفین یسوع کی ذات کے خدوخال کے بارے میں ہمیں کسی بھی طرح کی کوئی معلومات فراہم نہیں کرتے۔ پس اِس صورت میں ہم صرف تصور ہی کر سکتے ہیں۔

ہمیں یقینی طور پر اپنےخُداوند اور نجات دہندہ کی فطرت کو بیان کرنے کے لیے کسی تصویر کو استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُسے جاننے کے لیے ہمیں صرف اُس کی تخلیق پر نظر کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ ہمیں 19 زبور 1-2آیات کے اندر کہا گیا ہے، "آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دست کاری دِکھاتی ہے۔دِن سے دِن بات کرتا ہے اور رات کو رات حِکمت سکھاتی ہے۔ "اِ س کے ساتھ ساتھ خُداوند کے وسیلہ سے نجات یافتہ، پاک کئے گئے اورصلیب پر اُس کے بہائے گئے خون کے وسیلے راستباز ٹھہرائے گئے ایمانداروں کا اپنا وجود بھی ہمیشہ ہمارے سامنے ہونا چاہیے۔

بائبل، یعنی خُدا کا کلام مسیح کی غیر مادی خصوصیات کے بیان سے بھی بھرا پڑا ہے جو ہماری توجہ کو فوری طور پر اپنی طرف کھینچ لیتی ہیں اور ہماری رُوحوں کو سرشار کرتی ہیں۔ وہ دُنیا کا نور (یوحنا 1باب5آیت)؛ زندگی کی روٹی (یوحنا 6باب32-33آیات)؛ رُوحوں کی پیاس بجھانے والا آبِ حیات (4باب14آیت)؛ باپ کے سامنے ہماری شفاعت کرنے والا سردار کاہن (عبرانیوں 12باب2آیت)؛ بھیڑوں کے لیے اپنی جان دینے والا چرواہا (یوحنا 10باب11، 14آیات)؛خُدا کا بے عیب برّہ (مکاشفہ 13باب8آیت)؛ ایمان کو کامل کرنے والا ایمان کا بانی (عبرانیوں 12باب2آیت)؛ راہ، حق اور زندگی (یوحنا 14باب6آیت)؛ اوراِن دیکھے خُدا کی صورت ہے (کلسیوں 1باب15آیت)۔ ہمارا ایسا نجات دہندہ دیوار پر لٹکے ہوئی کسی بھی کاغذ کے ٹکرے سے زیادہ خوبصورت ہے۔

مشنری ایمی کار مائیکل اپنی کتاب Gold Cord میں ایک ہندوستانی لڑکی پرینا کے بارے میں بیان کرتی ہے جو مسیحی ہو گئی اور ایمی کارمائیکل کے یتیم خانے میں رہنے لگی ۔ پرینا نے کبھی بھی خُداوند یسوع کی کوئی تصویر نہیں دیکھی تھی، اِس کے برعکس مس کارمائیکل نے رُوح القدس سے دُعا کی کہ وہ وہاں پر موجود ہر ایک لڑکی پر خُداوند یسوع کی ذات کو ظاہر کرے" کیونکہ کوئی اور نہیں بلکہ الٰہی ذات ہی الٰہی ذات کو ظاہر کر سکتی ہے۔ ایک دن پرینا کے لیے کسی دوسرے ملک سے ایک پیکٹ آیا۔ اُس نے بڑی دلچسپی کے ساتھ اُس پیکٹ کو کھولا اور اُس کے اندر اُسے خُداوند یسوع کی ایک تصویر ملی۔ پرینا نے معصومیت کے ساتھ پوچھا کہ وہ کون تھا اور جب اُسے بتایا گیا کہ وہ یسوع کی تصویر ہے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اُس کے پاس کھڑے ہوئے لوگوں نے پوچھا کہ "کیا ہوا ہے؟، تم رُو کیوں رہی ہو؟"اُس ننھی پرینا نے بڑی معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ "میرا خیال تھا کہ وہ اِس سے بہت زیادہ خوبصورت ہے" (صفحہ نمبر 151)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اپنے پاس یسوع کی تصاویر رکھنا غلط ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries