settings icon
share icon
سوال

جسمانی موت کا روحانی موت سے کیا تعلق ہے ؟

جواب


بائبل نے موت اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے کے بارے میں بہت کچھ بیان کیا ہے ۔ جسمانی موت اور رُوحانی موت دونوں ہی ایک چیز کی دوسری چیز سے علیحدگی کا نام ہیں۔ جسمانی موت رُوح کا بدن سے جدا ہونا ہے اور رُوحانی موت رُوح کا خدا سے جدا ہونا ہے۔ جب اس طرح سے سمجھا جائے تو دونوں تصورات آپس میں گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں اور موت کے بارے میں ابتدائی ترین حوالہ جات میں جسمانی موت اور رُوحانی موت دونوں ہی کو پیش کیا جاتا ہے ۔

تخلیق کے بیان (پیدایش 1-2ابواب) میں ہم پڑھتے ہیں کہ خدا نے کیسے مختلف جانداروں کو تخلیق کیا ۔ اِن جانوروں میں زندگی یعنی ایک اندرونی عنصر تھا جو اُن کے مادی بدنوں کو حرکت اور توانائی دیتا تھا۔ سائنس دان ابھی تک اس بات کی وضاحت کرنے سے قاصر ہیں کہ زندگی کا اصل سبب کیا ہے لیکن بائبل واضح ہے کہ یہ خدا ہی ہے جو ہر چیز کو زندگی دیتا ہے (پیدایش 1باب 11-28آیات؛ 1تیمتھیس 6باب 13آیت)۔ خدا نے انسانوں کو جو زندگی بخشی تھی وہ اُس زندگی سے مختلف تھی جو اُس نے جانوروں کو بخشی تھی۔ پیدایش 2باب 7آیت میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ خُدا نے " اُس کے نتھنوں میں زِندگی کا دَم پھونکا تو اِنسان جیتی جان ہُوا"۔ جبکہ جانوروں کی زندگی پوری طرح جسمانی ہوتی ہےمگر انسانوں کے پاس زندگی کے جسمانی اور رُوحانی دونوں عناصر ہیں اوریوں ہم جس موت کا تجربہ کرتے ہیں اُس میں جسمانی اور رُوحانی دونوں عنصر پائے جاتے ہیں۔

پیدایش 2باب 17آیت کے مطابق خُدا نے آدم کو آگاہ کیا کہ اگر اُس نے نیک وبد کی پہچان کے درخت کا پھل کھایا تو وہ یقیناً" مرے گا"۔ کچھ متشکک لوگوں نے اس آیت کو بائبل میں تضاد ظاہر کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ آدم اور حوّا اُسی دن نہیں مرے تھے جس دن انہوں نے اُس پھل میں سے کھایا تھا۔ تاہم زندگی کی مختلف اقسام ہیں اور موت کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ کوئی شخص جسمانی طور پر زندہ اور رُوحانی طور پر مردہ ہو سکتا ہے (افسیوں 2باب 1، 5آیت) اور معاملہ اس کے برعکس بھی ہوسکتا (متی 22باب 32آیت)۔ جب اُنہوں نے گناہ کیا (پیدایش 3باب 7 آیت ) تو آدم اور حوّا اپنی رُوحانی زندگی سے فوراً محروم ہو گئے وہ خدا پرستی کے لیے "مردہ" ہو گئے انہوں نے عدن کو کھودیا اور وہ خُدا کی عدالت(ابدی موت) کے ماتحت ہو گئے تھے ۔ اُن کی شرمندگی نے اُس سے متعلقہ ایک اور عمل کو ترغیب دی کہ اُنہوں نے خود کو خدا سے چُھپایا (پیدایش 3باب 8آیت) - خدا سے اُن کی باطنی جُدائی اُس سے ظاہر ی جُدائی کی صورت میں خود کو عیاں کرتی ہے۔

اُس رُوحانی موت کے علاوہ جس کا اُنہوں نے فوری تجربہ کیا تھا انہوں نے جسمانی موت کے عمل کی بھی ابتدا کردی تھی حالانکہ موت کواپنے مکمل اثر کو قائم کرنے میں کئی سال لگ گئے تھے ۔ اِس بات کو پھول کی مثال کے ذریعے بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ جب آپ باغ میں کسی پھول کو نشو ونما پاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو آپ جانتے ہیں کہ یہ زندہ ہے کیونکہ یہ تنے اور جڑوں سے پیوست ہے اور زمین سے غدائیت حاصل کر رہا ہے۔ جب آپ پھول کو اس کے زندگی کے منبع سے الگ کرتے ہیں تب بھی اُس میں زندگی کا ظہور ہوتا ہے اور حالات کے لحاظ سے وہ اپنی اس حالت کو کئی دنوں تک برقرار رکھ سکتا ہے۔ اس کی دیکھ بھال کے باوجود یہ پہلے ہی سے مر رہا ہے اور اِس عمل کو پلٹا نہیں جا سکتا۔ بنی نوع انسان کے معاملہ میں بھی ایسا ہی ہے۔

وہ جسمانی موت جو آدم کے گناہ کے ساتھ دنیا میں داخل ہوئی تھی (رومیوں 5باب 12آیت) اُس نے تمام جانداروں کو متاثر کیا۔ ہمارے لیے ایک ایسی دنیا کا تصور کرنا بہت مشکل ہے جس میں موت نہ ہو لیکن کلام مقدس سکھاتا ہے کہ زوال سے پہلےیہی حالت تھی۔ جب گناہ دنیا میں داخل ہوا تو اُس وقت سے تمام جانداروں میں موت کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ جب جسمانی موت واقع ہوتی ہے تو جسم سے قوتِ حیات کا جُدا ہونا طے ہے۔ جب یہ جُدائی واقع ہوتی ہے تو انسان اِسے پلٹنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتا (یہاں تک کہ طبِ کے شعبے سے منسلک لوگ بھی "طبّی موت" اور "حیاتیاتی موت" کے درمیان فرق کو تسلیم کرتے ہیں)۔ گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6باب 23آیت) اور موت تمام انسانوں میں اس لیے رونما ہوتی ہے کیونکہ سب نے گناہ کیا ہے۔ ہر انسان اس دنیا میں گناہ کی موجودگی کے ساتھ ساتھ اپنے ذاتی گناہوں کی وجہ سے جسمانی موت کے قبضہ میں ہے۔ انسانی نقطہ نظر سے جسمانی موت گناہ کی حتمی سزا معلوم ہوتی ہےلیکن بائبل سکھاتی ہے کہ موت کے اس سے بھی گہرے معانی ہیں جن پر غور کیا جانا چاہیے۔

زندگی کا وہ دَم جو خُدا نے آدم میں پھونکا تھا (پیدایش 2باب 7آیت ) محض حیوانی زندگی سے بڑھ کر تھا؛ یہ خُدا کا دَم تھا جس کا نتیجہ رُوح کی حامل ایک شخصیت تھی ۔ آدم کو رُوحانی طور پر زندہ پیدا کیا گیا تھا اور وہ ایک خاص انداز سے خدا سے جڑا ہوا تھا۔ وہ خدا کے ساتھ تعلق سے لطف اندوز ہوا تھا لیکن جب اس نے گناہ کیا تو وہ تعلق ٹوٹ گیا۔ رُوحانی موت ، جسمانی موت سے پہلے اور بعد میں رونما ہونے والے اثرات بھی رکھتی ہے ۔ اگرچہ آدم جسمانی طور پر زندہ تھا (لیکن مرنے کا عمل شروع ہو گیا تھا)، وہ رُوحانی طور پر مُردہ یعنی خدا کے ساتھ تعلق سے محروم ہو گیا۔ خدا کی خوشنوی کے ساتھ ساتھ اُس کے عرفان اور خواہش کا کھو جانا زمین پر اِس موجودہ زندگی میں رُوحانی موت کے اثر کے باعث ہے۔ کلامِ مقدس واضح ہے کہ ہرانسان زندگی کا آغاز "قصوروں اور گناہوں" (افسیوں 2باب 1-5آیات ) کے سبب سے مُردہ حالت میں کرتا ہے اور یہ حقیقت ہماری ایک ایسی زندگی کا باعث بنتی ہےجو گناہ کی خواہشات پر مرکوز ہے ۔ خداوند یسوع نے سکھایا کہ اُس پر ایمان کے وسیلے سے نئے سرے سے پیدا ہونا رُوحانی موت کا علاج ہے (یوحنا 3باب 3-5آیات )۔ نئے سرے سے پیدا ہونا زندگی کے ماخذ سے دوبارہ پیوست ہونا ہےجس کی تصویرخُداوند یسوع نے یوحنا 15باب 1-6آیات میں پیش کی ہے ۔ وہ انگور کا درخت ہے اور ہم اُس کی ڈالیاں ہیں۔ اُس میں پیوست رہےبغیر ہم میں زندگی نہیں ہے لیکن جب ہمارے پاس یسوع ہے تو ہمارے پاس حقیقی زندگی ہے (1یوحنا 5باب11-12آیات)۔

ایسے لوگ جو خدا کی نجات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں اُنکے لیے جسمانی موت اور رُوحانی موت "دوسری موت" (مکاشفہ 20باب 14آیت) میں اختتام پذیرہوتی ہے۔ یہ ابدی موت مکمل طور پر نیست و نابود ہونا نہیں جیسا کہ کچھ لوگوں نے سکھایا ہےبلکہ یہ گناہوں کی خاطر آگ کی جھیل میں ایک شعوری اور ابدی سزا ہےجسے خُداوند کے حضور سے دُور ہونے کے طور پر بیان کیا گیا ہے (2تھسلنیکیوں 1باب 9آیت)۔خُداوند یسوع نے متی 25باب 41آیت میں بھی خدا سے اُس ابدی جُدائی کے بارے میں بات کی اور امیر آدمی اور لعزر کی کہانی(لوقا 16باب 19-31آیات) میں لوگوں کے شعوری طور پر عذاب میں مبتلا ہونے کی نشاندہی کی ہے ۔ خُدا کسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے (2پطرس 3 باب9آیت)تاکہ اُنہیں رُوحانی طور پر مردہ رہنا نہ پڑے ۔ توبہ کرنے کا مطلب گناہ سے منہ موڑنا ہے اور اِس میں خُدا کی پاکیزگی کی خلاف ورزی کے گناہ کا دل سے اقرار کرنا بھی شامل ہے۔ جنہوں نے خدا کی نجات حاصل کی ہے وہ موت سے نکل کر زندگی میں آگئے ہیں (1 یوحنا 3باب 14آیت) اور دوسری موت کا اُن پر کوئی اختیار نہیں ہے (مکاشفہ 20باب 6آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جسمانی موت کا روحانی موت سے کیا تعلق ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries