صدوقیوں اور فریسیوں میں کیا فرق ہیں؟


سوال: صدوقیوں اور فریسیوں میں کیا فرق ہیں؟

جواب:
اناجیل میں اکثر صدوقیوں اور فریسیوں کے بارے میں حوالہ جات ملتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یسوع کا اُن کے ساتھ قریباً مسلسل تنازع چلتا رہا تھا۔ صدوقی اور فریسی اسرائیل کے حکمرانی طبقے میں شامل تھے۔ بہت سی مماثلت کے ساتھ ساتھ اِن دونوں گروہوں میں اہم اختلافات بھی پائے جاتے تھے ۔

فریسی اور صدوقی دونوں ہی مذہبی فرقے تھے جو مسیح کے زمانے میں یہودی مذہب میں پائے جاتے تھے ۔ دونوں گروہ موسیٰ اور شریعت کا احترام کرتے اور دونوں ہی کسی حد تک سیاسی اثر ورسوخ بھی رکھتے تھے ۔ قدیم اسرائیل کی 70 رکنی سپریم کورٹ یعنی اعلیٰ ترین مذہبی مجلس(سین ہیڈرن) میں صدوقی اور فریسی دونوں گروہوں کےاراکین موجود تھے ۔

فریسیوں اور صدوقیوں کے درمیان پائے جانے والے اختلافات کے بارے میں ہمیں کتاب مقدس کے ایک دو حوالہ جات سے اور فریسیوں کی موجودہ تحریروں کے ذریعے معلومات ملتی ہیں۔ مذہبی لحاظ سے صدوقی ایک نظریاتی شعبے میں زیادہ قدامت پسند تھے: وہ کلام مقدس کے متن کی لفظی تشریح پر زیادہ زور دیتے تھے ؛ جبکہ دوسری طرف فریسی زبانی روایت کو خدا کے لکھے ہوئے کلام کے برابر اہمیت دیتے تھے ۔ صدوقیوں نے کسی بھی ایسے حکم کو جو تناخ (یہودی مقدس کتاب جو تین حصوں تورات اور انبیاء اور صحائف پر مشتمل ہے)میں نہیں ہے مسترد کر دیا اور ایسے احکام کو وہ انسان کے خود ساختہ حکم مانتے تھے۔

کلام پاک کے بارے میں فریسیوں اور صدوقیوں کے مختلف نقطہ نظر کے پیشِ نظر یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ اُن کے درمیان بعض عقائد پر بحث و تکرار پائی جاتی تھی۔ صدوقی مُردوں کے جی اُٹھنے کے عقیدے کو مسترد کرتے تھے (متی 22باب 23آیت ؛ مرقس 12باب 18-27آیات ؛ اعمال 23باب 8آیت) لیکن فریسی مُردوں کے جی اُٹھنے پر ایمان رکھتے تھے۔ صدوقی مانتے تھے کہ جسم کے مرنے کے ساتھ ہی رُوح کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے اِس لیے وہ موت کے بعد کی زندگی پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ لیکن فریسی موت کے بعد کی زندگی اور سب لوگوں کے لیے مناسب اجر اور سزا پر یقین رکھتے تھے ۔ صدوقی اندیکھے رُوحانی جہاں کے تصور کو نہیں مانتے تھے ؛ جبکہ فریسی یہ تعلیم دیتے تھے کہ ایک روحانی جہاں موجود ہے جس میں فرشتے اور بد ارواح پائی جاتی ہیں ۔

پولس رسول نے فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین الہیاتی اختلافات کو اُن کے چُنگل سے نکلنے کے لئے بڑی ہوشیاری سے استعمال کیا تھا ۔ پولس رسول کو یروشلیم میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اعلیٰ مذہبی مجلس کے سامنے اپنا دفاع کر رہا تھا۔ یہ جان کر کہ عدالت میں کچھ صدوقی اور کچھ فریسی موجود ہیں پولس پکار اُٹھا کہ " اَے بھائِیو! مَیں فریسی اور فریسیوں کی اَولاد ہوں۔ مُردوں کی اُمید اور قِیامت کے بارے میں مجھ پر مُقدّمہ ہورہا ہے "(اعمال 23باب 6آیت )۔ پولس رسول کے مردوں کے جی اٹھنے کے ذکر نے فریسیوں اور صدوقیوں کے مابین تنازعہ برپا کر دیا جس کے باعث جماعت میں پھوٹ پڑ گئی اور "زبردست ہنگامہ رونما ہو گیا" (9آیت)۔"تو پلٹن کے سَردار نے اِس خَوف سے کہ مبادا پولُس کے ٹکڑے کردِئیے جائیں فَوج کو حکم دِیا کہ اُتر کر اُسے اُن میں سے زبردستی نکالو اور قلعہ میں لے آؤ"(10آیت )۔

معاشرتی طور پر صدوقی فریسیوں سے زیادہ ممتاز اور اعلیٰ و ارفع تھے۔ صدوقیوں کازیادہ رجحان دولت مند ہونے اور بڑے بڑےعہدوں پر فائز ہونے پر تھا ۔ اعلیٰ کاہن اور سردار کاہن صدوقی تھے اور یہودیوں کی اعلیٰ مذہبی و سیاسی مجلس (سین ہیڈرن) میں اُن کے اراکین کی تعداد اکثریت میں تھی ۔ دوسری جانب فریسی عام محنت کش لوگوں کے ترجمان تھے اور عوام الناس میں زیادہ عزت رکھتے تھے ۔ یروشلیم میں موجود ہیکل صدوقیوں کی طاقت کا اصل مقام تھا؛ فریسی عبادت خانوں پر اختیار رکھتے تھے۔ فریسیوں کے مقابلے میں صدوقی رومی حکومت کے ساتھ زیادہ دوستانہ رویہ رکھتے اور رومی قوانین کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ زندگی گزارتے تھے اور اُن کو اپنے ماحول میں لاگو کروانے کی بھی کوشش کرتے تھے۔ فریسی اکثر یونانی رسوم و رواج کی مخالفت کرتے تھے جبکہ صدوقی خوشی سے اِن کو قبول کرتے تھے ۔

صدوقیوں کی نسبت یسوع کا فریسیوں سے زیادہ بار تصادم ہوا تھا اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ فریسی ربانی روایات کوزیادہ اہمیت دیتے تھے ۔ " تم خُدا کے حکم کو ترک کر کے آدمیوں کی رِوایت کو قائم رکھتے ہو"(مرقس 7باب 8آیت؛ متی9باب 14آیت ؛ 15باب 1- 9آیات ؛ 23باب 23،16،5آیات ؛ مرقس 7باب 1-23آیات )۔ چونکہ صدوقی مذہب کے مقابلے میں سیاست کے بارے میں اکثر فکر مند رہتے تھے لہذا وہ یسوع کو اُس وقت تک نظر انداز کرتے رہے جب تک کہ اُنہیں یہ ڈر نہ لا حق ہو گیا کہ کہیں وہ رومی حکومت کی غیر ضروری توجہ نہ حاصل کرلے اور صورت حال کو پریشان کن نہ بنا دے ۔ یہی وہ وقت تھا جب صدوقیوں اور فریسیوں نے اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے مسیح کوقتل کرنے کی باہمی سازش کی تھی (یوحنا11باب 48- 50آیات؛ مرقس 14باب 53آیت؛ 15باب 1آیت )۔

یروشلیم کی تباہی کے بعد صدوقی ایک جماعت کی حیثیت سے اپنا وجود کھو بیٹھے تھے لیکن فریسیوں کا بقیہ اور میراث جاری رہا۔ در حقیقت فریسی مَشنہ (تالمود کا پہلا حصہ: صحیفوں کی ابتدائی زبانی تشریحات کا ایک مجموعہ جو سن 200 بعد از مسیح کے قریب مرتب کیا گیا تھا)کی تالیف کے ذمہ دار تھے یہ ایک اہم دستاویز تھی جو ہیکل کی تباہی کے بعد یہودیت کے تسلسل کے متعلق تھی ۔ اور ا س طرح فریسیوں نے جدید دور کی ربانی یہودیت کی بنیاد رکھی تھی ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
صدوقیوں اور فریسیوں میں کیا فرق ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں