صدوق اورفریسی کون تھے؟



سوال: صدوق اورفریسی کون تھے؟

جواب:
اناجیل اکثر صدوقیوں اور فریسیوں کا حوالہ دیتی ہیں، کیونکہ یسوع کا اُن کے ساتھ مسلسل تنازع تھا۔ صدوقی اور فریسی اسرائیل کے حکمرانی طبقے تھے۔ اِن دونوں گروہوں میں بہت سی مماثلات کے ساتھ ساتھ اہم فرق بھی پائے جاتے تھے ۔

صدوقی: یسوع مسیح اور نئے عہد نامہ کے دور میں صدوقی اشرافیہ تھے۔ بشمول کاہنوں اور سردار کاہنوں کے وہ مالدار اور طاقتور عہدوں پر مشتمل تھے، اور وہ حکمران کونسل سنہیڈرن کی 70 نشستوں میں اکثریت رکھتے تھے۔ وہ روم (اُس وقت اسرائیل رومیوں کے ماتحت تھا) کے فیصلوں کے ساتھ متفق ہوتے ہوئے امن کو قائم کرنے کے لئے سخت محنت کرتے تھے، اور وہ مذہب سے زیادہ سیاست کے ساتھ تعلق رکھتے نظر آتے تھے۔ کیونکہ وہ روم کے ساتھ مصلحت آمیز تھے اور دولتمند اعلی طبقے سے تعلق رکھتے تھے، اِس لئے وہ عام آدمی سے اچھے تعلق نہیں رکھتے تھے، اور نہ ہی عام آدمی اُنہیں اعلیٰ رائے میں رکھتا تھا۔ عام آدمی فریسیوں کی جماعت سے بہتر تعلق رکھتا تھا۔ اگرچہ صدوقی سنہیڈرن کی نشستوں کی اکثریت رکھتے تھے، تاریخ اشارہ دیتی ہے کہ وہ زیادہ تر وقت اقلیتی فریسیوں کے خیالات کے ساتھ گزارتے تھے، کیونکہ فریسی عوام میں مقبول تھے۔

مذہبی طور پر، صدوقی عقائد کے ایک خاص ایریا میں زیادہ راسخ العقیدہ تھے۔ فریسی زُبانی روایات کو خُدا کے تحریری کلام کے برابر اختیار دیتے تھے، جبکہ صدوقی صرف تحریری کلام کو ہی خُدا کی طرف سے سمجھتے تھے۔ صدوقی خُدا کے تحریری کلام کے اختیار کو برقرار رکھتے تھے، خاص طور پر موسیٰ کی کتابوں کو (پیدایش سے اِستثناء)۔ اگرچہ اُن کی اِس کام کے لئے تعریف کی جا سکتی ہے، لیکن وہ یقینی طور پر اپنے باقی تعلیمی نظریات میں کامل نہ تھے۔ مندرجہ ذیل اُن کے عقائد کی مختصر فہرست پیش کی جاتی ہے جو کلامِ مقدس سے اختلاف رکھتے ہیں۔

1۔ روزمرہ زندگی میں خُدا کی شراکت سے انکار کرنے کے نقطہ پر وہ نہایت خود مکتفی تھے۔

2۔ وہ مُردوں کی قیامت سے انکار کرتے تھے (متی باب 22 آیت 23؛ مرقس باب 12 آیات 18 تا 27 ؛ اعمال باب 23 آیت 8)۔

3۔ ،موت کے بعد رُوح کے ختم ہو جانے کے نظریہ کو قائم کرتے ہوئے، وہ موت کے بعد کی زندگی کا انکار کرتے ہیں، اور زمینی زندگی کے بعد کسی قسم کی سزا یا اجر ملنے کا انکار کرتے ہیں۔

4 ۔ وہ روحانی دُنیا مثال کے طور پر فرشتوں اور بدرُوحوں کے وجود کا انکار کرتے ہیں (اعمال باب 23 آیت 8)۔

کیونکہ صدوقی مذہب کے مقابلے میں سیاست کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے تھے، اِس لئے وہ یسوع سے بھی لاتعلق تھے جب تک کہ وہ خوفزدہ نہ ہوئے کہ یسوع رومیوں کی ناپسندیدہ توجہ کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس موقع پر صدوقی اور فریسی اکھٹے ہو گئے اور مسیح کو موت کے گھاٹ اُتارنے کی سازش کی (یوحنا باب 11 آیات 48 تا 50؛ مرقس باب 14 آیت 53؛ باب 15 آیت 1)۔ صدوقیوں کے بارے میں مزید ذکر اعمال باب 4پہلی آیت اور اعمال باب 5 آیت 17 میں ملتا ہے، اور اعمال باب 12 پہلی دو آیات میں صدوقیوں کو یوحنا کے بھائی یعقوب کی موت کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ دان یوسیفس کی طرف سے اِنہیں یسوع کے بھائی یعقوب کی موت کے ساتھ بھی جوڑا جاتا ہے۔

صدوقیوں کا وجود سن 70 میں ختم ہو گیا۔ کیونکہ یہ پارٹی سیاسی اور کہانتی تعلق کی وجہ سے وجود رکھتی تھی، جب رومیوں نے سن 70 میں یروشلیم اور ہیکل کو تباہ کیا، تو صدوقی بھی تباہ ہو گئے۔

فریسی: صدوقیوں کے برعکس، فریسی زیادہ تر مڈل کلاس کاروباری لوگ تھے، اور اِس لئے عام لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھتے تھے۔ فریسی صدوقیوں کے مقابلے میں عام لوگوں کی نظر میں زیادہ قابلِ احترام تھے۔ اگرچہ وہ سنہیڈرن میں اقلیت کے طور پر تھے اور کاہنوں کے طور پر بھی کم عہدے رکھتے تھے، لیکن وہ صدوقیوں کے مقابلے میں سنہیڈرن کے فیصلے کرنے میں زیادہ کنڑول رکھتے نظر آتے تھے، کیونکہ اُن کو عام لوگوں کی حمایت حاصل تھی۔

مذہبی طور پر، وہ تحریری کلام کو خُدا کی طرف سے الہامی مانتے تھے۔ مسیح کی زمینی خدمت کے وقت، اِس سے مراد وہ کلام تھا جِسے ہم آج پُرانے عہد نامہ کے طور پر جانتے ہیں۔ لیکن وہ زُبانی روایات کو بھی برابر کا درجہ دیتے تھے اور اِس خیال کا دفاع یہ کہتے ہوئے کرتے تھے کہ زُبانی روایات کا تعلق موسیٰ تک جاتا ہے۔ صدیاں گزرنے کے بعد، اِن روایات کو خُدا کے کلام میں شامل کر دیا گیا جِس سے منع کیا گیا تھا (استثناء باب 4 آیت 2)، اور فریسی پُرانے عہد نامہ کے ساتھ ساتھ سختی کے ساتھ اِن روایات کی بھی فرمانبرداری کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اِن روایات کو خُدا کے کلام کے برابر سمجھنے کے لئے فریسیوں کی مثالیں اناجیل میں کثرت سے پائی جاتی ہیں(متی باب 9 آیت 14؛ باب 15 آیات 1 تا 9؛ باب 23 آیت 5؛ باب 23 آیت 16 اور 23؛ مرقس باب 7 آیات 1 تا 23؛ لوقا باب 11 آیت 42)۔ تاہم وہ بعض دوسرےمخصوص اہم عقائد کے حوالے سے خُدا کے کلام کے ساتھ درُست رہے۔ صدوقیوں کے برعکس وہ مندرجہ ذیل باتوں پر ایمان رکھتے تھے۔

1 ۔ وہ ایمان رکھتے تھے کہ خُدا ہر چیز کو کنڑول کرتا ہے، لیکن افراد کی طرف سے کئے گئے فیصلے بھی ایک شخص کی زندگی میں کردار ادا کرتے ہیں۔

2۔ وہ مُردوں کی قیامت پر ایمان رکھتے تھے (اعمال باب 23 آیت 6)۔

3۔ وہ انفرادی بُنیادوں پر مناسب سزا اور جزا کے ساتھ موت کی بعد کی زندگی پر ایمان رکھتے تھے۔

4۔ وہ فرشتوں اور بدروحوں کے وجود پر ایمان رکھتے تھے (اعمال باب 23 آیت 8)۔

اگرچہ فریسی صدوقیوں کے حریف تھے، لیکن وہ ایک موقع یعنی مسیح کے دکھوں پر اپنے اختلافات کو الگ رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ اِس موقع پر صدوقی اور فریسی مسیح کو قتل کرنے کے لئے متحد ہو گئے (مرقس باب 14 آیت 53؛ باب 15 پہلی آیت؛ یوحنا باب 11 آیات 48تا 50)۔

اگرچہ صدوقی یروشلیم کی تباہی کے بعد ختم ہو گئے، لیکن فریسیوں کا جو سیاست کے مقابلے میں مذہب کے ساتھ زیادہ تعلق رکھتے تھے وجود باقی رہا۔ حقیقت میں فریسی اُس بغاوت کے خلاف تھے جو سن 70 میں یروشلیم کی تباہی کا سبب بنی، اور بعد میں وہ رومیوں کے ساتھ امن قائم کرنے والے پہلے لوگ تھے۔ فریسی ہیکل کی تباہی کے بعد یہودیت کے تسلسل کے حوالے سے ایک اہم دستاویز مشنہ کی تالیف کے بھی ذمہ دار تھے۔

یسوع مسیح کی طرف سے فریسیوں اور صدوقیوں دونوں کو متعدد بار ڈانٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ہم فریسیوں اور صدوقیوں سے سب سے بہتر سبق شاید یہی سیکھ سکتے ہیں کہ ہم اُن کی مانند نہ بنیں۔ صدوقیوں کے برعکس، بشمول معجزات اور موت کے بعد زندگی کے ہمیں ہر اُس بات پر ایمان رکھنا ہے جس کے بارے میں بائبل فرماتی ہے۔ فریسیوں کے برعکس، ہمیں روایات کو کتابِ مقدس کے برابر درجہ نہیں دینا ، اور ہم خُدا کے ساتھ اپنے تعلقات کو قوائد و ضوابط کی قانونی فہرست کی وجہ سے کم نہیں ہونے دیں گے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



صدوق اورفریسی کون تھے؟