خُدا کے ساتھ ایک ذاتی تعلق رکھنے سے کیا مُراد ہے؟


سوال: خُدا کے ساتھ ایک ذاتی تعلق رکھنے سے کیا مُراد ہے؟

جواب:
خُدا کے ساتھ ذاتی تعلق رکھنے کا آغاز اُس لمحے ہوتا ہے جب ہم اُس کی ضرورت محسوس کرتے ہیں، تسلیم کرتے ہیں کہ ہم گنہگار ہیں، اور یسوع مسیح کواپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان سے قبول کرتے ہیں۔ ہمارا آسمانی باپ ہمیشہ ہمارے قریب رہنے اور ہمارے ساتھ تعلقات رکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔ باغِ عدن میں آدم کے گناہ کرنے سے پہلے(پیدائش3 باب)، آدم اور حوا دونوں ذاتی طور پر خُدا کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے۔ وہ باغ میں اُس کے ساتھ چلتے پھرتے اور براہِ راست اُس سے بات کرتے تھے۔ آدم کے گناہ کی وجہ سے ہم خُدا سے جُدا اور لاتعلق ہو گئے تھے۔

جس بات کو بہت سے لوگ نہیں جانتے، جسے وہ محسوس نہیں کرتے، اور جس کے بارے میں خیال تک نہیں کرتے وہ یہ ہے کہ یسوع نے ہمیں حیرت انگیز تحفہ یعنی خُدا کے ساتھ ابدیت گزارنے کا موقع عطا کِیا ہے بشرطیکہ ہم اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خُداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زندگی ہے"(رومیوں6 باب 23آیت)۔ خُدا ہمارے گناہوں کو اپنے اُوپر لینے، قتل ہونے اور پھر گناہ اور موت پر اپنی فتح کو ثابت کرتے ہوئے دوبارہ زندہ ہونے کے لئے یسوع مسیح کی شخصیت میں انسان بنا۔ "پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں"(رومیوں 8باب 1 آیت)۔ اگر ہم اِ س تحفے کو قبول کرتے ہیں، تو ہم خُدا کے حضور قابلِ قبول بن جاتے ہیں اور ہمارے اُس کے تعلقات قائم ہو جاتے ہیں۔

جو لوگ خُدا کے ساتھ ذاتی تعلق رکھتے ہیں، وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں خُدا کو شامل کرتے ہیں۔ وہ اُس سے دُعا کرتے ہیں، اُس کے کلام کو پڑھتے ہیں، اور اُسے زیادہ بہتر طور پر جاننے کی کوشش میں آیات پر غور وخوص کرتے ہیں۔ جو خُدا کے ساتھ ذاتی تعلق رکھتے ہیں وہ حکمت کے لئے دُعا کرتے ہیں (یعقوب1باب5 آیت)، جوکہ سب سے زیادہ قابلِ قدر اثاثہ ہے جسے ہم رکھ سکتے ہیں۔ وہ یسوع مسیح کے نام پر اپنی درخواستیں اُس کے پاس لاتے ہیں (یوحنا 15باب 16آیت)۔ یسوع ہم سے اتنی محبت کرتا ہے کہ وہ ہمارے لئے اپنی جان دیتا ہے (رومیوں 5باب 8 آیت)، اور وہی ہے جو ہمارے اور خُدا کے درمیان خلاء کو پُر کرتا ہے۔

ہمیں مشیر کے طور پر رُوح القدس دیا گیا ہے۔ "اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔ اور مَیں باپ سے درخواست کرُوں گا تو وہ تمہیں دُوسرا مددگار بخشے گا کہ ابد تک تمہارے ساتھ رہے۔ یعنی رُوحِ حق جسے دُنیا حاصل نہیں کر سکتی کیونکہ نہ اُسے دیکھتی اور نہ جانتی ہے۔ تم اُسے جانتے ہو کیونکہ وہ تمہارے ساتھ رہتا ہے اور تمہارے اندر ہو گا"(یوحنا 14باب 15-17 آیات)۔ یسوع نےیہ بات اپنی موت سے پہلے کی، اور اُس کی موت کے بعد رُوح القدس اُن تمام کے لئے دستیاب ہو گیا جوسنجیدگی سے اُسے پانے کی جستجو کرتے ہیں۔ یہ وہی ہے جو ایمانداروں کے دِلوں میں رہتا ہے اور کبھی جُدا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیں مشورہ دیتا ہے، ہمیں حقائق سکھاتا ہے، اور ہمارے دِلوں کو تبدیل کرتا ہے۔ اِس الٰہی رُوح القدس کے بغیر، ہم بُرائی اور آزمائشوں کے خلاف لڑنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ لیکن جب ہم اِسے حاصل کر لیتے ہیں، تو ہم رُوح کا پھل:محبت، خوشی ، اطمینان ، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حِلم ، پرہیزگاری پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں جو رُوح کواجازت دیتے ہیں کہ ہماری ذاتوں کو مناسب طور پر اپنے قابو میں رکھے(گلتیوں5 باب 22-23 آیات)۔

خُدا کے ساتھ ذاتی تعلق قائم کرنا اتنا مشکل نہیں ہے جتنا ہم سوچ سکتے ہیں، اور اِسے قائم کرنے کے لئے کوئی پُراسرار فارمولا نہیں چاہیے ہے۔ جونہی ہم خُدا کے فرزند بن جاتے ہیں، ہم رُوح القدس کو حاصل کرتے ہیں، جو ہمارے دِلوں پر کام کرنا شروع کردیتا ہے۔ ہمیں بِلاناغہ دُعا کرنی، بائبل پڑھنی، اور کلیسیائی ایمانداروں کے ساتھ رفاقت رکھنی چاہیے؛ یہ تمام باتیں ہمیں رُوحانی طور پرآگے بڑھنے کے لئے مدد فراہم کریں گی۔ روزمرہ کے تعلقات کو بحال رکھنے کے لئے خُدا پر بھروسہ کرنا اور ایمان رکھنا کہ وہ ہمیں سنبھالنے والا ہے خُدا کے ساتھ تعلق رکھنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگرچہ ہم تبدیلیوں کو فوری طور پر نہیں دیکھ سکتے، لیکن ہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیکھنا شروع کر دیں گے، اور تمام حقائق واضح ہو جائیں گے۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
خُدا کے ساتھ ایک ذاتی تعلق رکھنے سے کیا مُراد ہے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں