settings icon
share icon
سوال

کیا شخصی نبوّت کا تصور بائبلی ہے ؟

جواب


مسیحی ایمان اور بالخصوص کرشماتی / پینٹی کوسٹل کلیسیاؤں کے اندر کچھ ایسے لوگوں ہیں جو لوگوں کو شخصی نصیحت دینے کے لیے نبوّت کی نعمت کو استعمال کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنی نصیحت دوسروں کو دینے کے لیے یہ الفاظ استعمال کرتے ہیں کہ " پس خداوند فرماتا ہے "۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے لوگ جو اس انداز میں شخصی نبوّت کی مشق کرتے ہیں وہ اُن لوگوں سے کسی طرح مختلف نہیں ہوتے جو خود کو علم الاسرار کے ماہر ین کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ درحقیقت اب تو نبوّتی امداد ی رابطہ نمبر بھی ہیں۔ جیسے پہلے علم الاسرار کے ماہرین کے امدادی رابطہ نمبر ہوا کرتے تھے اُس طرح ابھی "مسیحی " علم الاسرار کے امدادی رابطہ نمبر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شخصی نبوّت کی تحریک میں شامل کچھ لوگ اس طرح کے بیانا ت کے ساتھ اپنی اور اپنے کام کی تشہیر کرتے ہیں کہ " آئیں اور اپنے مستقبل کے بارے میں جانیں " ، ایک بار پھر یہ بالکل ویسی ہی اصطلا ح ہے جو علم الاسرار کے ماہرین استعمال کرتے ہیں ۔ نبوّت کی نعت کی یہ تفہیم اور مشق پوری طرح غیر بائبلی ہے ۔

بائبل کے لحاظ سے بات کی جائے تو نبوّت کی نعمت رُوح سے معمور قابلیت ہے جس کا مقصد خدا کی طرف سے مکاشفہ بیان کرنا ہے ( رومیوں 12باب 6-8آیات؛ 1کرنتھیوں 12باب 4-11، 28آیات)۔ بعض اوقات نبوّت مستقبل کے بارے میں خدا کی طرف سے مکاشفے کی منادی کرنے پر مشتمل ہوتی ہے مگر ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا ۔ پرانے اور نئے دونوں عہد ناموں میں خدا نے نبیوں اور /یا اُن کی نبوّت کی نعمت کو لوگوں پر سچائی کو عیاں کرنے کےلیے استعمال کیا تھا ۔ نبوّت خدا کی سچائی کا اعلان کرنا ہے، یہ مکاشفہ ِ خاص ہے ، یہ ایسی سچائی ہے جس کی دیگر ذرائع سے پرکھ نہیں کی جاسکتی ۔ ایک نبی کے وسیلے سے خدا اُس سچائی کو عیاں کیا کرتا تھا جسے جاننے کی لوگوں کو ضرورت ہوتی تھی اور بعض اوقات اس سچائی کو تحریری شکل میں قلمبند کیا جاتا تھا ۔ یہ عمل بالآخر خدا کے کلام یعنی بائبل کے وجود میں آنے کا باعث بنا جو خدا کی طرف سے حتمی مکاشفہ ِ خاص ہے ۔

بائبل مقدس کی تکمیل نبوت کی نعمت کی نوعیت پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ بائبل میں وہ تمام مکاشفات شامل ہے جس کی ہمیں مسیحی زندگی گزارنےاور دین داری کےلیے ضرورت ہے ( 2پطرس 1باب 3آیت)۔ خدا کا کلام زندہ ، موثر اور دو دھاری تلوار سے بھی زیادہ تیز ہے ( عبرانیوں 4باب 12 آیت)۔ بائبل " تعلِیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربِیّت کرنے کے لئے فائدہ مند بھی ہے۔ تاکہ مردِ خُدا کامِل بنے اور ہر ایک نیک کام کے لئے بالکُل تیّار ہو جائے " ( 2تیمتھیس 3باب 16-17آیات)۔ اس کے نتیجے میں نبوّت کی نعمت جو بنیادی طور پر خدا کی طرف سے نئے مکاشفہ کا بیان کرنا تھا اب ( خصوصی طور پر ) اُس دئیے گئے کلام کی منادی کرنے کی صورت اختیار کر گئی ہے جو خدا نے پہلے ہی عیا ں کر دیا ہے جیسا کہ اُس کے کلام میں درج ہے ۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کبھی کسی شخص کو کوئی ایسا پیغام نہیں دے گا جو وہ کسی دوسرے شخص تک پہنچانا چاہتا ہوگا۔ خدا لوگوں کو اُس طور سے استعمال کر سکتاہے ، کرے گا ، اور کرتا ہے جو اُس کے نزدیک درست ہے ۔ لیکن خُدا کے کلام کے کامل اور مکمل ہونے کی حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ ہم زندگی کے کسی بھی معاملے میں رہنمائی کے لیے اُس پر انحصار کر سکتے ہیں۔ ہمیں موجودہ دور کے نام نہاد نبیوں ، نبوّتی امدادی رابطہ نمبروں اور نبّوتی بیانات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ خدا کے کلام میں وہ سچائی موجود ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے ۔ خدا کا کلام اُس حکمت کو پیش کرتا جس کا ہمارے لیے اُس کی سچائی کا صحیح طور پر اطلا ق کرنے کےلیے جاننا ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس رہنمائی ، تسلی اور سکھانے کےلیے رُوح القدس موجود ہے ( گلتیوں 5باب 16آیت؛ اعمال 9باب 31آیت)۔لوگوں پر اثر و رسوخ حاصل کرنے کےلیے شخصی نبوّت کے تصور کو استعمال کرنا اورلوگوں کو اپنی "نبوّتی رہنمائی " پر انحصارکرنے پر محبور کرنا بائبل کی نبوّت کی نعمت کی واضح خلاف ورزی ہے ۔ جو لوگ خد اکے لا خطا کلام کی بجائے نام نہاد نبیوں کی غلط باتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اُسے نبوّت خیا ل کرتے ہیں اُن کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہ باتیں دراصل حقیقی نبوّت کا بہروپ ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا شخصی نبوّت کا تصور بائبلی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries