settings icon
share icon
سوال

پیڈوفیلیا /بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رغبت کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

جواب


بائبل میں پیڈوفیلیا (بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رغبت رکھنے)کا براہ راست کوئی ذکر نہیں ہے۔ لیکن بائبل کے ایسے متعدد اصول ہیں جن کا یقینی طور پر اس گناہ پر اطلاق ہوتا ہے ۔ ایسا ہی ایک اصول بائبل کا وہ نقطہ نظر ہے جو وہ فورنیکیشن (ناجائز جنسی تعلق) کے گناہ کے بارے میں پیش کرتی ہے ۔ وہ لفظ جس کا ترجمہ "فورنیکیشن" کیا گیا ہےاُس کا عبرانی اور یونانی دونوں میں یکساں تصور ہے۔ یونانی لفظ پورنیہ سے ہمیں انگریزی الفاظ پورنو(فحاشی) اور پورنوگرافی ( فحش نگاری) حاصل ہوتے ہیں۔ کلامِ مقدس میں یہ لفظ کسی بھی نا جائزجنسی سرگرمی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اِس میں چھوٹے بچّوں کی بیہودہ یا نا زیباتصاویر کے جمع کرنے اور ایسی تصاویر یا ویڈیوز کا لین دین کرنے سمیت ایک پیڈوفائل ( بچّوں کے لیے جنسی زیادتی کا مرتکب ہونے والے شخص)کی مکروہ حرکتوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی جیسی فحش نگاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں وہ عموماً دیکھنے کی حد سے بڑھتے بڑھتے حقیقی طور پر ایسا کرنے تک پہنچ جاتے ہیں اور بچّوں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ناجائز جنسی تعلق "جسم کی خواہش" (گلتیوں 5 باب 16-21آیات) اور اُن بُری باتوں میں سے ہے جو ایسے انسان کے دل سے نکلتی ہیں جو خدا سے جُدا ہوتا ہے(مرقس 7باب 21-23 آیات)۔

بچّوں کی جانب جنسی زیادتی کی رغبت رکھنے والے انسان"طبعی محبت سے خالی" ( رومیوں 1باب 31آیت؛ 2تیمتھیس 3باب 2آیت )ہونے کی خصلت کے حامل ہوتے ہیں۔ " طبعی محبت سے خالی " کی اصطلاح کا ترجمہ جس واحد یونانی لفظ سے کیا گیا ہے اُس کا مطلب "بے رحم ، سخت دل اور غیر معاشرتی " ہے ۔ طبعی محبت سے خالی انسان اُس انداز میں پیش آتا ہے جو معاشرتی دستور کے خلاف ہوتے ہیں ۔ یقیناً یہ لفظ بچّوں کی جانب جنسی رغبت رکھنے والے شخص/ پیڈوفائل کی ذات کی نمائندگی کرے گا۔

اس کے علاوہ بچّوں کے بارے میں یسوع کے الفاظ میں بھی ایک اصول پایا جاتا ہے۔ اپنے شاگردوں کو یہ سکھانے کے لیے کہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے لیے بچّوں جیسا ایمان درکار ہے یسوع نے ایک بچّے کو پاس بلا کر یہ مثال دی تھی۔ اِس کے ساتھ اُس نے یہ بھی فرمایا تھا کہ باپ کو " اُن چھوٹوں میں سے " ہر ایک کی فکر ہے (متی 18باب 1-14آیات)۔ اِس حوالے میں یسوع فرماتا ہے کہ "لیکن جو کوئی اِن چھوٹوں میں سے جو مجھ پر اِیمان لائے ہیں کسی کو ٹھوکر کھلاتا ہے اُس کے لئے یہ بہتر ہے کہ بڑی چکّی کا پاٹ اُس کے گلے میں لٹکایا جائے اور وہ گہرے سمُندر میں ڈبو دِیا جائے" (متی 18باب 6آیت)۔ " یونانی زبان میں لفظ ٹھوکر سے مراد "کسی کی لڑکھڑاہٹ/لغزش کا باعث بننا ، کسی کی راہ میں کوئی ایسی چیز یا رکاوٹ رکھنا جس کی بدولت دوسرا انسان لڑکھڑا سکتا یا گر سکتا ہے ،گناہ پر آمادہ کرنا، یا کسی انسان کے دل میں کسی ایسے شخص کے بارے میں بے اعتقادی اور جدائی پیدا کرنے کا سبب ہونا جس پر اُسے اعتماد ہو او رجس کی اُسے پیروی کرنی چاہیے۔ "

لفظ ٹھوکر کی اِن تعریفوں کا بچّوں کی جانب جنسی رغبت رکھنے والے شخص کے افعال پر بڑی آسانی سے اطلا ق کیا جا سکتا ہے ۔ بے شک کسی بچّے کو نقصان نہ پہنچانے کے اصول کا بچّوں کے ساتھ بدسلوکی کے افعال کے ایک بڑے حلقے پر اطلاق کیا جا سکتا ہے اور متی 18باب 10آیت ہر اُس شخص کے خلاف بات کرتی ہے جو کسی بھی بچّے کو کسی بھی طرح کا نقصان پہنچائے گا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

پیڈوفیلیا /بچّوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی رغبت کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries