settings icon
share icon
سوال

کیا ہم سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے پاسبانوں کی تابعداری کریں ؟

جواب


عبرانیوں 13باب 17آیت اس سوال کے بارےمیں براہ راست بات کرتی ہے "اپنے پیشواؤں کے فرمانبردار اور تابع رہو کیونکہ وہ تمہاری رُوحوں کے فائدہ کے لئے اُن کی طرح جاگتے رہتے ہیں جنہیں حساب دینا پڑے گاتاکہ وہ خُوشی سے یہ کام کریں نہ کہ رنج سے کیونکہ اِس صورت میں تمہیں کچھ فائدہ نہیں۔"

پاسبان جب لوگوں کو خدا کی اُس ہدایت کو نظرانداز کرتے دیکھتے ہیں جسے وہ اپنے پیغامات یا بائبل کی تعلیمات میں لوگوں کے سامنے پیش کرتےہیں تو اُنہیں شدید دُکھ ہوتا ہے ۔ کچھ لو گ تو کلام کو ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے وہ نہ صرف لازمی طور پر خود کو نقصان پہنچاتےہیں بلکہ آس پاس کے لوگوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ خصوصاً نوجوان لوگون میں اپنے سے بڑے لوگوں کی اصلاح کو نظرانداز کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور اس طرح وہ اپنی دانشمندی اور دلی خیالات پر بھروسہ کرنے کی غلطی کرتے ہیں ۔ خدا فرماتا ہے کہ ایک دیندار پاسبان خدا کے مُقدس احکام کو اس لیے بیان کرتا ہے کیونکہ وہ نہ صرف خدا کی خدمت کرنا چاہتا ہے بلکہ بھیڑوں کو اُس رُوحانی خوراک سے سیر کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں وہ یسوع کی طرف سے وعدہ کی ہوئی کثرت کی زندگی کا تجربہ پائیں گی ( یوحنا 10باب 10آیت)۔

لیکن دوسری جانب بائبل " جھوٹے چرواہوں" کے بارے میں خبردار کرتی ہے جو دِلی طور پر بھیڑوں کی بھلائی نہیں چاہتے بلکہ دوسروں پر اختیار یا اقتدار قائم کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتےہیں یا وہ جو کلامِ خدا کا مطالعہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں اور اس کے باعث خدا کی بجائے انسانی احکامات کی تعلیم دیتے ہیں ۔ یسوع کے زمانے کے فریسی ان سب باتوں کے مرتکب تھے۔ پرانے عہد نامے کی نبوتی کتب میں اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ اعمال ، خطوط اور مکاشفہ کی کتاب میں اس کے بارے میں بار بار خبردار کیا جاتا ہے ۔ بد قسمتی سے اِن خود ساختہ رہنماؤں کی موجودگی کے باعث ایک ایسا وقت ضرور آتا ہے ہے جب خداکی فرمانبرداری کی خاطر ہم انسان کی نافرمانی کرتے ہیں ( اعمال 4باب 18-20آیات)۔ تاہم کلیسیائی رہنما ؤں کے خلاف الزاما ت کو ہلکا نہیں لینا چاہیے بلکہ ایک سے زیادہ گواہوں کے وسیلہ سے اُن کے متعلق تصدیق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ( 1تیمتھیس 5باب 19 آیت)۔

دیندار پاسبان سونے سے زیادہ قیمتی ہیں ۔ عام طور پر وہ زیادہ محنت کرتے ہیں مگر کم پاتے ہیں ۔ وہ ڈاکٹروں سے زیادہ بڑی ذمہ داری نبھاتے ہیں کیونکہ عبرانیوں 13باب 17آیت میں لکھا ہے کہ ایک دن خدا کے حضور اُنہیں اپنی خدمت کا حساب دینا ہو گا ۔ 1پطرس 5باب 1-4آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ وہ لوگوں پر حکومت نہیں جتاتے بلکہ وہ دل کی عاجزی کے ساتھ اپنے کردار اور تعلیم ( 1تیمتھیس 4باب 16آیت) کے ذریعے سے زندگیو ں کی رہنمائی کرتے ہیں ۔ پولس رسول کی مانند وہ بھی دائی ماؤں کی طرح ہیں جو اپنے " بچّوں " سے حقیقی طور پر پیار کرتے ہیں اور اپنی بھیڑوں کےلیے خود کو پیش کرنے اور نرم مزاجی سے نصیحت کرنے کو تیاررہتے ہیں ( 1تھسلنیکیوں 2باب 7-12آیات؛ یوحنا 10باب 12آیت)۔ وہ کلام اور دُعا میں مشغول رہتے ہیں تاکہ وہ خدا کی قوت اور حکمت میں کلیسیائی نظام چلائیں اور بھیڑوں کو مضبوط اور متحرک مسیحی بنانے کے لیے اُنہیں ُ روحانی خوراک مہیا کریں ( 1تیمتھیس 5باب 17آیت)۔ اگر آپ کے پاسبان کا معیار ایسا یا اس کے قریب تر ہے ( کیونکہ دنیا میں کوئی بھی کامل نہیں ) تو وہ دوچند عزت اور فرمانبرداری کے لائق ہے کیونکہ وہ خدا کے کلام کو واضح طور پر پیش کرتا ہے

پس اس سوال کا جواب ہے "ہاں " ہمیں اپنے پاسبانوں کی فرمانبرداری کرنی چاہیے ۔ ہمیں ہمیشہ اُن کے لیے دُعاگو ہونا چاہیے کہ خدا اُن کو حکمت ، عاجزی اور کلیسیا کےلیے محبت اور حفاظت کا جذبہ بخشے کیونکہ وہ فکر مندی سے بھیڑوں کی خدمت کرتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا ہم سے یہ تقاضا کیا جاتا ہے کہ ہم اپنے پاسبانوں کی تابعداری کریں ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries