settings icon
share icon
سوال

کیا اس بات کاتقاضا کیا جانا چاہیے کہ ایک پادری کے طور پر خدمت شروع کرنے سے پہلے کوئی آدمی بائبل کی رسمی تعلیم حاصل کرے ؟

جواب


پولس رسول افسیوں 4باب 11-12آیات میں ہمیں بتاتا ہے کہ جب کوئی شخص مبشر، چرواہے اور استاد کے عہدے پر فائز ہوتا ہے تو اُس کی بُلاہٹ اصل میں کلیسیائی خدمت کے لیے خُدا کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ رُوحانی نعمتوں کا مقصد کلیسیا کے اراکین کو خُدا کی خدمت پر مبنی زندگی کے واسطے تیار کرنا ہے۔ سیمنری کی تربیت کا مقصد اُن لوگوں کو خدمت کے لیے تیار کرنا ہے جو خداوند کے کام میں قیادت کے عہدے کے خواہش مند ہیں۔ تیمتھیس کے ساتھ ساتھ پولس آج ہمیں بھی کلیسیا میں مَردوں کو ایسے قائدانہ کردار کے لیے تیار کرنے کی نصیحت کرتا ہے : "اور جو باتیں تُو نے بہت سے گواہوں کے سامنے مجھ سے سُنی ہیں اُن کو اَیسے دِیانت دار آدمیوں کے سپُرد کر جو اَوروں کو بھی سکھانے کے قابل ہوں "(2تیمتھیس 2باب 2آیت)۔

بائبل کی رسمی تعلیم و تربیت اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرتی ہے کہ خدا کے کلام کی خدمت نہ صرف قائم ہے بلکہ کلیسیا میں فروغ بھی پا رہی ہے۔ جو کوئی بزرگ، نگہبان یا پادری کے عہدے کی خواہش رکھتا ہے اُس کی یہ خواہش اس بات کا پہلا اشارہ ہے کہ اُس کام کے لیے اُس شخص کی بُلاہٹ خدا کی طرف سے ہے ۔ پولس ہمیں بتاتا ہے کہ" یہ بات سچ ہے کہ جو شخص نگہبان کا عہدہ چاہتا ہے وہ اچّھے کام کی خواہش کرتا ہے "(1تیمتھیس 3باب 1آیت)۔ جب کسی کو قائل کیا جاتا ہے کہ اُسے کلام کی خدمت کے لیے چُنا جا رہا ہے،تو اُسے چاہیے کہ وہ اپنی نعمتوں کو جاننے کی کوشش کرے اور اِس بُلاہٹ کا جواب دینے کے لیے خود کو تیار کرے۔ یہ اُن وجوہات میں سے ایک ہے کہ سیمنریاں اور مسیحی یونیورسٹیاں کیوں موجود ہیں اور کیوں رسمی تعلیم حاصل کرنا کسی شخص کی بُلاہٹ کے مطابق ہو سکتا ہے۔ اسی اثناء میں جبکہ رسمی بائبلی تعلیم نہایت اہم اور گراں قدر ہےخُدا ایک ایسے آدمی کو بھی جس کے پاس بائبل کی کوئی رسمی تعلیم نہ ہو ا یک بہترین پادری یا بزرگ بننے کے قابل بنا سکتا ہے ۔

خُداوند کی طرف سے خدمت کے کام کی بُلاہٹ نہ صرف کلیسیا کے لیے ہے بلکہ یہ کلیسیا کے وسیلہ سے بھی ہے۔جیسا کہ پولس تیمتھیس کو بتاتا ہے (1تیمتھیس 3باب 1آیت) کہ نوجوانوں کی ایسی بُلاہٹ کی تلاش کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔لیکن مثالی بات یہ ہے کہ اِس بات کی حتمی تصدیق کلیسیا کی طرف سے ہونی چاہیے جو خدمت کے لیے درکار نعمتوں کی تربیت اور جانچ پڑتال جیسے دونوں کام کرتی ہے ۔ کلام کی خدمت کرنے والے لوگ کلیسیا کے سر یعنی مسیح کے ایلچی ہیں ۔ انجیل کی خوشخبری کی منادی کرنا اور کھوئے ہوؤں کو نجات کی طرف لانا اصل میں آسمان کی بادشاہی کی کنجیوں کا استعمال کرنا ہے (دیکھیں متی 16باب 19آیت)۔ یہ کام مسیح کے اختیار کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہ نہ صرف کلیسیا کا ایک اہم عہدہ ہے بلکہ سیمزی کی تربیت حاصل کرنے کی بنیادی وجہ بھی ہے۔

اس کے علاوہ اور بھی وجوہات ہیں کہ کیوں سیمزی میں تربیت حاصل کرنا ضروری ہے ۔ کسی شخص کی خصوصاً گریجویٹ درجے تک کی تعلیمی ترقی بنا کسی سوال کے اُس کے مجموعی بائبلی علم میں بالکل ایک نئی وسعت کا اضافہ کرے گی ۔ چونکہ بائبل میں سچائی کا ایک متحداورمربوط نظام ہےلہذا اس لیے باقاعدہ علمِ الہیات کے گہرے مطالعہ کی ضرورت ہے چاہے یہ کسی سیمزی کے رسمی ماحول میں کیاجاتا ہے یا نہیں ۔ ایک بار پھر، مطالعہ کی جگہ قریباً اتنی اہم نہیں ہے جتنا کہ استاد یعنی خُدا کا رُوح جو طالب علم کو شعور، قوت اور حکمت سے معمور کرتا ہے۔

سیمزی کی تربیت پختگی کے عمل میں بھی قابل قدرثابت ہو سکتی ہے۔ سیمزی میں گزارے گئے تین یا اس سے زیادہ سال کسی شخص کی سماجی پختگی، لوگوں اور ان کی ضروریات کو سمجھنے اور اُن سے تعلق قائم کرنے کی صلاحیت کو بہت بہتر بنا دیں گے ۔ نیز موجودہ زمانے کے مبلغ کے لیے ذہنی پختگی بھی ضروری ہے جو 21 یا 22 سال کی عمر میں زیادہ تر لوگوں میں نہیں پائی جاتی ۔ یہ خدمت ، اُس کے خاندان اور عام زندگی کے بارے میں اُس کے رویے پر مشتمل ہے۔ سیمزی کی مؤثر تربیت کسی شخص کی فیصلہ سازی کی صلاحیت اور خدا کی مرضی کو سمجھنے کی صلاحیت میں بہت مدد گار رہے گی۔

موجود ہ دور کے پیچیدہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے بہتر طور پر تیار ہونا سیمزی کی معیاری تربیت حاصل کرنے کے لیے ایک اور وجہ ہے۔ کلیسیائی قائد کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ تمام طرح کے مشترکہ مقاصد میں شامل ہونے کی متعدد دعوتوں کے لیے کب "ہاں" اور کب "نہ " کہنا ہے۔ اگر سچائی کو قائم رکھنا ہے تو اُن شعبہ جات میں ماہرانہ موقف رکھنا ضروری ہے اور ایک اچھی سیمزی کی تعلیم یقینی طور پر ٹھوس اور بائبلی موقف کو قائم رکھنے میں مدد کرتی ہے۔

آخر میں کسی پادری کی گرجا گھر سے وابستگی سے قطع نظر اُس مخصوص کلیسیا کی تاریخ، کلیسیا ئی طرز عمل اور امتیازی خصوصیات کے حوالے سے ایک مکمل تعلیمی ترتیب بھی درکار ہے۔ کسی سیمزی یا مسیحی یونیورسٹی میں جانے کا فیصلہ کرنے کے لیے دعا اور نیک صلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔ تیاری متعد د انداز میں کی جا سکتی ہے لیکن کسی نہ کسی قسم کی تیاری ہمیشہ ضروری ہوتی ہے۔ مختصرراستے کی تلاش میں اپنی خدمت کو خراب نہ کریں۔ امثال 24باب 27آیت میں مذکور اصول کا بغور مطالعہ کریں: "اپنا کام باہر تیّار کر۔ اُسے اپنے لئے کھیت میں درُست کر لے اور اُس کے بعد اپنا گھر بنا۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اس بات کاتقاضا کیا جانا چاہیے کہ ایک پادری کے طور پر خدمت شروع کرنے سے پہلے کوئی آدمی بائبل کی رسمی تعلیم حاصل کرے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries