settings icon
share icon
سوال

مَیں یسوع کے لیے جوش و جذبہ کیسے حاصل کروں ؟

جواب


یہ سوال استثنا 6باب 4-5آیا ت میں پائے جانے والے خُدا کے سب سے بڑے حکم کے عین مطابق ہے کہ اپنے خُدا سے اپنے پورے وجود کے ساتھ محبت رکھ ۔ یہاں کچھ ہدایات ہیں کہ کلام ِ مقدس سے اس جذبے کوکیسے حاصل کیا جائے:

1. یہ بات واضح ہے کہ ہم کسی ایسے انسان سے محبت نہیں رکھ سکتے جسے ہم جانتے نہیں ۔ خدا اور جو کچھ اُس نے آپ کے لئے کیا ہے اُس کے بارے میں جانیں ۔ اِستثنا 6باب 5آیت میں خُدا سے محبت کرنے کا حکم دینے سے پہلے یہ بیان کیا گیا ہے" سُن اَے اِسرائیلؔ! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند ہے۔" اِس بیان کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ بے مثال ذات ہے اور ہم جتنا بہتر جانیں گے کہ وہ کیسا ہے ہمارے لیے اپنے پورے وجود کے ساتھ اُس سے محبت رکھنا اتنا ہی آسان ہو جائے گا ۔ اس عمل میں یہ جاننا بھی شامل ہے کہ اُس نے ہمارے لیے کیا کِیا ہے۔ ایک بار پھر ،اِس سے پہلے کہ خروج 20باب 3آیت میں پہلا حکم دیا جائے خُدا بیان کرتا ہے کہ اُس نے اسرائیل کو مصر کی غلامی سے نکالنے کے لیے کیا کِیا تھا۔ اسی طرح رومیوں 12باب 1-2آیت میں اپنے بدنوں کو زندہ قربانیوں کے طور پر پیش کرنے کا حکم لفظ 'پس' کے ساتھ متعارف کرایا جاتا ہے – ایک ایسا لفظ جس کا مقصد ہمیں پچھلے ابواب میں درج خدا کی تمام مہربانیوں کی یاد دلانا ہے۔

خُدا کے ساتھ محبت میں بڑھنے کے لیے کسی انسان کو پہلےاُسے جاننے کی ضرورت ہے۔ اُس نے تخلیق (رومیوں 1باب) کے مقابلے میں اپنے کلام کے اندر خود کو زیاد واضح طور پر عیاں کیا ہے ۔ جس طرح ہر روز خوراک کھانا ہماری زندگی کا ایک حصہ ہے اُسی طرح ہمیں ہرزوربائبل کے مطالعہ کی ایک مستقل عادت بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمارے لیے اس بات کو یاد رکھنابہتر ہوگا کہ بائبل ایک کتاب سے کہیں بڑھ کر ہے؛ یہ حقیقت میں ہمارے لیے خُدا کا محبت بھرا خط ہے جو صدیوں سے خصوصاً اُس کے بیٹے یسوع مسیح کی خدمت کے وسیلے ہمارے لیے اُس کی محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ ہمیں بائبل کو خدا کی طرف سے اپنے لیے قلمبند کئے گئے ایک خط کے طور پر پڑھنا چاہیے اور رُوح القدس سے یہ التجا کرنی چاہیے کہ وہ ہمارے دِلوں میں اُن سب باتوں کو عیاں کرے جو وہ چاہتا ہے کہ ہم ا ُس دن اُس خط میں سے حاصل کریں ۔ اہم آیات اور حوالہ جات کو یاد رکھنا بھی ضروری ہےکیونکہ یہ اُن باتوں کا عملی طور پر اطلاق کرنے کے بارے میں سوچنا ہے جو ہم نے سیکھی ہیں (یشوع 1باب 8آیت)۔

2. خُداوند یسوع کے لگاتار اور مستقل طور پر دعا کرنے کے نمونے پر عمل کریں۔ جب ہم یسوع کے ساتھ ساتھ دانی ایل اور دیگر اُن لوگوں کی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں جو خدا کے لیے جذبہ رکھتے تھے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے ساتھ اُن کے تعلقات میں دعا ایک اہم جزو تھی (یہاں تک کہ انجیل اور دانی ایل کی کتاب کا فوری مطالعہ بھی اس بات کو واضح کرتا ہے۔ )۔ بائبل کے مطالعہ کی طرح دُعا-خُدا کے ساتھ مخلصانہ اور باہمی رابطہ- رکھنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آپ ایک مرد اور عورت کے باہمی رابطے کے بغیر محبت میں بڑھنے کا تصور نہیں کر سکتے ،لہذا دُعا کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا سوائے اُس وقت کے جب خدا کے لیے کسی شخص کی محبت سرد پڑ جاتی ہے۔ دعا ہمارے سب سے بڑے دشمنوں کے خلاف ہمارے دفاعی لباس کا حصہ ہے (افسیوں 6باب 18آیت)۔ ہو سکتا ہے کہ ہم خدا سے محبت کرنے کی خواہش رکھتے ہوں لیکن دعا کے بغیر ہم خدا کے ساتھ چلنے کے اپنے عمل میں ناکام ہو جائیں گے (متی 26باب 41 آیت)۔

3. ابھی سے اُس کی قربت میں چلیں۔ دانی ایل اور اس کے تین دوستوں نے خدا کی فرمانبرداری کرنے کا انتخاب کیا اور یہاں تک کہ کھانے کے معاملے میں بھی سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا (دانی ایل 1باب)۔ دیگر وہ لوگ جنہیں قیدیوں کے طور پر یہوداہ سے بابل میں لایا گیا تھا نا کام ہو گئے اور اُن کا پھر کبھی ذکر تک نہیں ہوتا۔ جب یہودی نسل کے جنگی قیدیوں کے عقائد کو اور زیادہ بڑے پیمانے پر للکارا کیا گیاتو صرف یہی چند لوگ تھے جو خدا کے لیے قائم رہے تھے (دانی ایل 3 اور 6ابواب)۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بعدمیں ہم خُدا کے لیے اپنے جذبے میں سرگرم ہوں گے ہمیں ابھی سے اُس کے ساتھ چلنے اور چھوٹی سے چھوٹی آزمایش میں بھی اُس کی فرمانبرداری کرنے کی ضرورت ہے!یسوع کی گرفتاری کے وقت پطرس یسوع کے شاگرد کے طور پر اپنی شناخت کروانے کی بجائے کچھ فاصلے پر اُس کے پیچھے پیچھے جا رہا تھا اور اُس نےخُدا کے لیے جوش و جذبہ رکھنے کا سبق یسوع کا انکار کرنے کی آزمائش میں پڑ کر بڑی مشکل سے سیکھا۔ (لوقا 22باب 54 آیت)۔ خدا فرمایا ہے کہ جہاں انسان کا مال ہوگا وہیں اُس کا دل بھی لگا رہے گا ۔ جب ہم خُدا کی خدمت کرنے اور اُس کے لیے مشکلات اور تکالیف کو برداشت کرنے کے ذریعے اپنی زندگیاں اُس میں گزارتے ہیں تو یوں ہمارا مال اُس کے حضور اور دل اُس کی محبت میں بڑھتے جائیں گے (1 تیمتھیس 3باب 12آیت ؛ متی 6باب 21آیت)۔

4. مسابقت کو ختم کریں۔ یسوع نے فرمایا ہے کہ کسی بھی انسان کے لیے ایک وقت میں دو مالکوں کی خدمت کرنا ناممکن ہے (متی 6باب 24 آیت)۔ ہم دنیا(وہ چیزیں جو ہماری آنکھوں کو لبھاتی ، ہمیں اپنے بارے میں اچھا محسوس کراتی اور ہماری جسمانی خواہشات کو پورا کرتی ہیں) (1یوحنا 2باب 15-17آیات) سے محبت رکھنے کی رغبت کا شکار ہیں ۔ یعقوب کہتا ہے کہ دنیا اور اس کی دوستی کو قبول کرنے کی کوشش کرنا خدا سے دشمنی (نفرت) اور رُوحانی بدکاری ہے (یعقوب 4باب 4 آیت)۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں اُن چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کی ضرورت ہے (یعنی وہ دوست جو ہمیں غلط راستے پر لے جائیں گے، وہ چیزیں جو ہمارا وقت اور توانائی خرچ کرتی اور ہمیں خدا کی اور زیادہ بہتر طور پر خدمت کرنے سے روکتی ہیں، شہرت کی تلاش، مال و دولت کی تلاش اور جسمانی اور جذباتی تسکین کی تلاش)۔ خُدا وعدہ کرتا ہے کہ اگر ہم اُس میں مشغول رہتے ہیں تو وہ نہ صرف ہماری ضروریات کو پورا کرے گا (متی 6باب 33آیت) بلکہ ہماری دلی مُرادیں بھی پوری کرے گا (37زبور 4-5آیت)۔

5. اگر آپ خدا سے دُور ہیں تو اُن باتوں پر عمل کرنا شروع کریں جنہوں نے پہلےپہل آپ کو خدا کے ساتھ محبت میں بڑھنے میں مدد کی تھی۔ کسی تعلق میں دوری آنا کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ پطرس نے خدا کے ساتھ اپنے تعلق میں دوری کا سامنا کیا (لوقا 22باب 54آیت) اور اسی طرح داؤد نے بھی (2 سموئیل 11باب) لیکن وہ اٹھے اور اُنہوں نے پھر سے خدا کی تلاش کی۔ مکاشفہ 2باب 4آیت میں یوحنا بیان کرتا ہے کہ یہ کسی کی محبت میں "کمی ہونے " کا معاملہ نہیں بلکہ یہ کسی کی طرف سے محبت کرنا "چھوڑ دینے" کا معاملہ ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ اُن "ا بتدائی باتوں "یعنی اُن کاموں پر عمل کریں جو کسی انسان کے پہلے پہل خدا کے ساتھ محبت میں ترقی کرنے کا باعث بنے تھے۔ اِس میں وہ باتیں شامل ہوں گی جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اِس میں پہلا قدم گناہوں کا اقرار کرنا اور معافی اور بحال شدہ رفاقت حاصل کرنا ہے جو اِس اقرار کا نتیجہ ہے (1 یوحنا 1باب 9آیت)۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا اپنے لیے کسی شخص میں جوش و جذبے کی تلاش میں برکت اور اِس کے ذریعے اپنے نام کو جلال دے گا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں یسوع کے لیے جوش و جذبہ کیسے حاصل کروں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries