settings icon
share icon
سوال

جزوی پریٹرسٹ کیا مانتے ہیں؟ کیا جزوی پریٹر ازم بائبل کے مطابق ہے ؟

جواب


جزوی پریٹر ازم علم الآخرت سے متعلق ایک ایسانظریہ ہے جس کے مطابق بائبل کی "اخیر ایام " کے بارے میں پیشین گوئیاں پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں۔ لہذاجب ہم بائبل کے اُس حصے میں سے پڑھتے ہیں جو آخر ی مصیبت کا ذکر کرتا ہے تو ہم اصل میں تاریخ کے بارے میں پڑھ رہے ہوتے ہیں ۔ پریٹر ازم دو گروہوں میں بٹا ہوا ہے: مکمل (یا مستقل) پریٹر ازم اور جزوی پریٹر ازم ۔ مکمل پریٹر ازم اس لحا ظ سے انتہا پسندانہ نقطہ نظر رکھتا ہے کہ بائبل کی تمام پیشین گوئیاں کسی نہ کسی طریقے سے پوری ہو چکی ہیں۔ جزوی پریٹر سٹ ایک زیادہ اعتدال پسند انہ نقطہ نظر کے حامل ہیں اور بہت سے جزوی پریٹر سٹ مکمل پریٹر ازم کے حامیوں کو بدعتی تصور ات کے پیروکار خیال کرتے ہیں ۔

ایسے لوگ جو جزوی پریٹر ازم کے قائل ہیں اُن کا ماننا ہے کہ دانی ایل ، متی 24باب اور مکاشفہ کی پیشین گوئیاں (آخری دو یا تین ابواب کو چھوڑ کر) پہلے ہی پوری ہو چکی ہیں اور یہ پہلی صدی بعد از مسیح کے دوران ہی پوری ہوئی تھیں۔ جزوی پریٹر ازم کے مطابق کلیسیا کے اُٹھائے جانے کا واقعہ رونما نہیں ہو گا اور آخری مصیبت اور مخالف ِ مسیح کو بیان کرنے والے حوالہ جات دراصل 70بعد از مسیح میں یروشلیم کی تباہی اور رومی شہنشاہ طِطس کا حوالہ دے رہے ہیں۔ جزوی پریٹر سٹ مسیح کی زمین پر دوسری آمد اور مستقبل میں دوبارہ جی اٹھنے اور عدالت پر یقین رکھتے ہیں لیکن وہ ہزار سالہ بادشاہی یا اِس بارے میں تعلیم نہیں دیتے کہ اسرائیل بحیثیت قوم خدا کے مستقبل کے منصوبے میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔ جزوی پریٹر سٹ کے مطابق بائبل کے "آخری دنوں " کے بارے میں حوالہ جات خود دنیا کے آخری دنوں کی بجائے قدیم یہودی عہد کے آخری دنوں کی بات کر رہے ہیں۔

اپنے موقف کو قائم رکھنے کے لیے جزوی پریٹر سٹ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ مکاشفہ کی کتاب70 بعد ازمسیح سے پہلے قلمبند ہوئی تھی ۔ نبوّتی حوالہ جات کی تشریح کرتے وقت انہیں علم التفسیر کے ایک غیر موافق عمل کا استعمال کرنا پڑتا ہے ۔ پریٹر سٹ کے اخیر ایام کے نظریے کے مطابق مکاشفہ کی کتاب کے 6-18 ابواب انتہائی علامتی ہیں اور کسی طرح کے اصل واقعات کو بیان نہیں کر رہے ۔ چونکہ یروشلیم کی تباہی میں آبی زندگی کی مکمل تباہی (مکاشفہ 16باب 3آیت ) یا تکلیف دہ اندھیرا(10آیت) شامل نہیں تھا اس لیے پریٹرسٹ کی طرف سے اِن سزاؤں کی خالصتاً مجازی طور پر تشریح کی جاتی ہے۔ تاہم پریٹرسٹ کے مطابق19 باب کو اصل معنوں میں سمجھا جانا چاہیے - یسوع مسیح جسمانی طور پر واپس آئے گا ۔ لیکن 20 باب کی پھر سے تمثیلی تشریخ کی جاتی ہے جبکہ 21-22 ابواب کو کم از کم اس لیے جزوی طور پر اصل معنوں میں سمجھا جاتا ہےکیونکہ نیا آسمان اور نئی زمین واقعی ہو ں گے ۔

کوئی بھی شخص اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ مکاشفہ کی کتاب حیرت انگیز اور بعض اوقات مبہم رویاؤں پر مشتمل ہے ۔ کوئی شخص اس سے بھی انکار نہیں کرتا کہ مکاشفہ کی کتاب بہت سی چیزوں کو علامتی طور پر بیان کرتی ہے – یہی تو الہامی ادب کی اصل نوعیت ہے۔ تاہم مکاشفہ کے منتخب حصوں کی اصل نوعیت کا اپنی من مانی کرتے ہوئے انکار کرنا درحقیقت کسی بھی کتاب کی لفظی تشریح کرنے کی بنیاد کو تباہ کرنا ہے۔ اگر وبائیں ، گواہ، حیوان، جھوٹا نبی، ہزار سالہ بادشاہی وغیرہ سب ہی تمثیلی ہیں تو پھر ہم کس بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مسیح کی دوسری آمد اور نئی زمین حقیقی ہے؟ یہ پریٹر ازم کی ناکامی ہے – یہ نظریہ مکاشفہ کی کتاب کی تشریح کو مفسرکی رائے پر چھوڑ دیتا ہے۔

وہ لوگ جو پریٹرازم کے قائل ہیں وہ متی 24باب کو بھی اصل معنوں میں نہیں پڑھتے ہیں۔ مسیح نے ہیکل کی تباہی کا ذکر کیا تھا ( متی 24باب 2آیت)۔ لیکن اُس نے جو کچھ بیان کیا تھا اُن میں سے زیادہ تر باتیں 70 بعد از مسیح میں واقع نہیں ہوئی تھیں ۔ مسیح اُس مستقبل کے وقت کو ایسی " بڑی مصیبت" کے طور پر بیان کرتا ہے جو " دُنیا کے شروع سے نہ اب تک ہُوئی نہ کبھی ہو گی۔ اور اگر وہ دِن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگُزِیدوں کی خاطر وہ دِن گھٹائے جائیں گے"(متی 24 باب 21-22آیات) یقیناً اِس کا اطلاق 70بعد ازمسیح کے واقعات پر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے بعد سے دنیا کی تاریخ میں اس سے بھی بدتر دور ہو گزرے ہیں ۔

خداوند یہ بھی فرماتا ہے"فوراً اُن دِنوں کی مصیبت کے بعد سُورج تارِیک ہو جائے گا اور چاند اپنی رَوشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمانوں کی قُوتیں ہلائی جائیں گی۔ اور اُس وقت اِبنِ آدم کا نِشان آسمان پر دِکھائی دے گا۔ اور اُس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور اِبنِ آدمؔ کو بڑی قُدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی"(متی 24باب 29-30آیات)۔ اِن دو آیات کے واقعات کے پہلے ہی رونما ہونے کے لیے یسوع مسیح کا 70 بعد از مسیح میں جسمانی طور پر واپس آنا ضرور ہے -لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا۔ جزوی پریٹرسٹ کا خیال ہے کہ یہ آیات مسیح کی جسمانی واپسی کی طرف نہیں بلکہ اُس کی عدالت کے ظہور کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ تاہم متن کا ایک عام لفظی مطالعہ کسی شخص کی اِن باتوں پر یقین کرنے میں رہنمائی نہیں کرے گا۔ لوگ اُس کی عدالت کو نہیں بلکہ "ابن آدم" دیکھتے ہیں۔

جزوی پریٹرسٹ متی 24باب 34آیت کو بھی استعمال کرتے ہیں جہاں یسوع "اِس نسل" کی بات کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مسیح نے اُس بات میں درج یہ الفاظ کہے تھے تو وہ دراصل اُس وقت وہاں پرموجود لوگوں کی طرف اشارہ کر رہا تھا؛ لہذا آخری مصیبت کے لیے لازمی تھا کہ وہ یسوع کے اُس بیان سے لیکر آئندہ تقریباً 40 سال کے اندر اندر واقع ہوتی ۔ بہرحال ہم یقین رکھتے ہیں کہ یسوع اپنے زمانے کے لوگوں کی طرف اشارہ نہیں کر رہا تھا بلکہ اُس نسل کی طرف اشارہ کر رہا تھا جو متی 24باب15-31آیات میں درج واقعات کو دیکھے گی۔ وہ آنے والی نسل مسیح کی جسمانی آمد سمیت اخیر ایام کے تیزی سے رونما ہونے والے تمام واقعات کا مشاہدہ کرے گی( 29-30آیات)۔

جزوی پریٹرسٹ کا نقطہ نظر Amillenialism (یعنی یسوع کی ہزار سالہ بادشاہ نہیں ہوگی) یا post-millenialism(یعنی یسوع کی آمد ہزار سالہ امن و سلامتی کی بادشاہی کے بعد ہوگی ) کے عقیدے کی طرف رہنمائی کرتاہے اور عہد ی الہیات کے ساتھ منسلک ہے۔ بلاشبہ یہ نظریہ ادواریت کو مسترد کرتا ہے۔ لیکن اِس کا بنیادی مسئلہ غیر موافق علم التفسیر کا عمل اور بائبل کی اُن متعدد پیشین گوئیوں کی مجازی تشریح کرنا ہے جنہیں لفظی/لغوی تشریح کے ساتھ بہتر طور پر سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ جزوی پریٹرازم آرتھوڈوکسی کی حدود کے اندر ہےلیکن موجودہ مسیحیوں کی اکثریت اس نظریے کی قائل نہیں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جزوی پریٹرسٹ کیا مانتے ہیں؟ کیا جزوی پریٹر ازم بائبل کے مطابق ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries