پینتھی ازم کیا ہے؟


سوال: پینتھی ازم کیا ہے؟

جواب:
پینتھی ازم ایک نظریہ ہے کہ خُدا ہر چیز اور ہر کوئی ہے اور ہر کوئی اور ہر چیز خُدا ہے۔ پینتھی ازم پولی تھی ازم (بہت سے خُداؤں میں ایمان) کے مشابہہ ہے، لیکن یہ سکھاتے ہوئے پولی تھی ازم سے بھی آگے نکل جاتی ہے کہ ہر چیز خُدا ہے۔ درخت خُدا ہے، چٹان خُدا ہے، جانور خُدا ہے، آسمان خُدا ہے، سورج خُدا ہے، آپ خُدا ہیں وغیرہ۔ پولی تھی ازم بہت سی بدعات اور جھوٹے مذاہب (مثال کے طور پر، ہندومت اور بُدھ مت کی حد تک، متعدد واحد اور ہم خیالی بدعات ، اور "ماں فطرت" کے پرستار) کے پیچھے مفروضہ ہے۔

کیا بائبل پینتھی ازم سکھاتی ہے؟ نہیں، بائبل نہیں سکھاتی۔ بہت سے لوگ اُلجھن میں ہیں کہ پینتھی ازم خُدا کے ہر جگہ موجود ہونے کی تعلیم ہے۔ زبور 139 آیات 7تا8 بیان کرتی ہیں، "میں تیری رُوح سے بچ کر کہاں جاؤں یا تیری حضُوری سے کدِھر بھاگُوں؟ اگر آسمان پر چڑھ جاؤں تو تُو وہاں ہے۔ اگر میں پاتال میں بستر بِچھاؤں تو دیکھ! تُو وہاں بھی ہے"۔ خُدا کے ہر جگہ موجود ہونے کا مطلب ہے کہ وہ ہر جگہ حاضر ہے۔ کائنات میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں خُدا موجود نہ ہو۔ لیکن یہ پینتھی ازم نہیں ہے۔ خُدا ہر جگہ ہے، لیکن وہ ہر چیز نہیں ہے۔ جی ہاں، خُدا ایک درخت، اور ایک شخص کے اندر "موجود " ہے، لیکن اِس سے درخت اور شخص خُدا نہیں بن جاتا۔ پینتھی ازم بائبل کا عقیدہ بالکل نہیں ہے۔

پینتھی ازم کے خلاف بائبل کے واضح ترین دلائل بُت پرستی کے خلاف بے شمار احکامات ہیں۔ خُدا بُتوں، فرشتوں، آسمانی چیزوں، فطرت کی چیزوں وغیرہ کی پرستش کرنے سے منع کرتا ہے۔ اگر پینتھی ازم سچ ہوتی، تو ایسی کسی چیز کی پرستش کرنا غلط نہ ہوتا، کیونکہ یہ چیز حقیقت میں خُدا ہوتی۔ اگر پینتھی ازم سچ ہوتی، چٹان یا جانور کی پرستش کرنا اتنا ہی درُست ہوتا جتنا کہ خُدا کی اندیکھے اور روحانی وجود کے طور پر پرستش کرنا درُست ہے۔ بُت پرستی کے متعلق بائبل کی واضح اور کھلم کھلی ملامت پینتھی ازم کے خلاف حتمی دلیل ہے۔

English
اردو ہوم پیج میں واپسی
پینتھی ازم کیا ہے؟