settings icon
share icon
سوال

بائبل شہوت/ہوس/شدید جنسی خواہش پر غالب آنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟

جواب


بائبل میں وہ متعدد الفاظ جن کا ترجمہ "شہوت" کیا گیا ہے اُن کا مطلب ہے " شدید خواہش" ۔ شدید خواہش یا تو اچھی ہو سکتی ہے یا بُری ، اور اِس کا انحصار اُس خواہش کے مقصد اور اُس کے پیچھے محرک پر ہوتا ہے۔ خُدا نے انسانی دل کو پُرجوش خواہش رکھنے کی صلاحیت کے ساتھ بنایا ہے تاکہ ہم اُس کی اور اُس کی راستبازی کی خواہش کریں (42زبور 1-2آیات؛ 73زبور 25آیت)۔ تاہم "شہوت" کا تصور اب عام طور پر کسی ایسی چیز کی پُرجوش خواہش سے منسلک ہے جسے خدا نے منع کیا ہے اور اِس لفظ کو جنسی یا مادی خواہش کے مترادف کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

یعقوب 1باب 14-15آیات ہمارے سامنے بے لگام شہوت پرستی کی فطری بڑھوتری کو پیش کرتی ہیں " ہاں۔ ہر شخص اپنی ہی خواہشوں میں کھنچ کر اور پھنس کر آزمایا جاتا ہے۔ پھر خواہش حامِلہ ہو کر گُناہ کو جنتی ہے اور گُناہ جب بڑھ چُکا تو مَوت پَیدا کرتا ہے۔"

اس حوالے کے مطابق گناہ آلود شہوت کا آغاز ایک بُری خواہش سے ہوتا ہے۔ برائی کی طرف فطرتی (جسمانی)میلان/رجحان/رغبت رکھنے کی آزمائش میں پڑنا گناہ نہیں ہے۔ جسم میں ہوتے ہوئے یسوع کو بھی ایسی آزمایش کا سامنا ہو ا تھا (متی 4باب 1آیت )۔ گناہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب بُری خواہش ہمیں اُس مقام سے "کھینچ کر دُورلے جاتی ہے " جہاں ہمارے دلوں کو ہونے کی ضرورت ہے۔ جب ہمیں کسی بُری خواہش کا سامنا ہوتا ہے تو ہمارے پاس چناؤ کا موقع ہوتا ہے۔ ہم اُسے رد کر سکتے ہیں جیسا کہ خُداوندیسوع نے کیا تھا اور اُس راستے پر دوبارہ توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جو خدا نے ہمارے سامنے رکھا ہے (متی 4باب 10آیت)۔ یا ہم اُس گناہ آلود خواہش سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ جیسا کہ کسی شخص نے ایک بار کہا تھا"ہم پرندوں کو اپنے سر کے اوپر اڑنے سے نہیں روک سکتےلیکن ہم اُنہیں اپنے بالوں میں گھونسلہ بنانے سے روک سکتے ہیں۔ " جب کوئی آزمایش/ تحریص ہمیں اپنی طرف مائل کرتی ہے تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم بے بس نہیں ہیں۔ ہم ہار ماننے یا مزاحمت کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

آزمایش کے ہمیں "کھینچ کر دور لے جانے " کی وجہ یہ ہے کہ ہم "پھنس " چکے ہوتے ہیں۔ اس کے لیے استعمال ہونے والے لفظ سے مراد "چارہ" ہے جیسا کہ مچھلی پکڑنے کے کانٹے پر ہوتا ہے۔ مچھلی جب ہلتے ہوئے کیڑے کو دیکھتی ہے تو وہ اس کے لیے کشش محسوس کرتی اور اسے پکڑ لیتی ہے۔ کانٹے کے منہ میں دھنس جانے کے بعد اسے کہیں بھی "کھینچ " کر لےجایا جا سکتا ہے ۔ جب ہم آزمایش کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں اُسے فوراً رد کر دینا چاہیے جیسا کہ یوسف نے اُس وقت کیا تھا جب اُسے فوطیفار کی بیوی نے ورغلایا تھا (پیدایش39باب 11-12آیات)۔ تاخیر آزمایش کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ رومیوں 13باب 14آیت ایسی تاخیر کو "جسم کی خواہشوں کے لیے تدبیریں " کرنا قرار دیتی ہے۔ بے خبر مچھلی کی طرح ہم پرکشش خیال کو اِس یقین کے ساتھ تھامے رکھتے ہیں کہ یہ ہمیں خوشی اور تسکین بخشےگا۔ ہم خیال سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ، نئے اور گناہ آلود مناظر کا تصور کرتے ہیں اور اس خیال سے دل بہلاتے ہیں کہ خُدا نے ہمیں خوشی کے لیے درکار تمام چیزیں فراہم نہیں کی ہیں (پیدایش 3باب 2-4آیات)۔ یہ بیوقوفی ہے۔ دوسرا تیمتھیس 2باب 22 آیت فرماتی ہے کہ " جوانی کی خواہشوں سے بھاگ "۔ ’’بھاگنے‘‘ کا مطلب ہے فوراً فرار ہو جانا۔ یوسف ممکنہ انتخابات پر غور کرنے کے لیے اُدھر کھڑا نہیں رہا تھا ۔ اُس نے جنسی آزمایش کو بھانپ لیا اور وہاں سے بھا گ نکلا تھا ۔ جب ہم تاخیر کرتے ہیں تو ہم جسم کی خواہشات کے لیے تدبیریں کرتے اوریوں جسم کو برائی کا چناؤ کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ ہم اکثر اُس کی طاقت سے مغلوب ہو جاتے ہیں۔ سمسون جسمانی طور پر ایک مضبوط آدمی تھا اِس کے باوجود وہ اپنی شہوت کا مقابلہ نہ کر سکا تھا ( قضاۃ 16باب 1آیت)۔

یعقوب 1باب کے مطابق آزمایش کی بتدریج گراؤٹ کا اگلا مرحلہ یہ ہے کہ "خواہش حاملہ " ہوتی ہے۔شہوت ایک بیج یعنی بُری خواہش سے لبریز سوچ کے طور پر شروع ہوتی ہے ۔ اگر ہم شہوت کے بیجوں کو اگنے دیں گے تو وہ ایسے بڑے ،تناور درختوں کی صورت اختیار کر جائیں گے جنہیں جڑ سے اکھاڑنا مشکل ہو گا ۔ آزمایش کو جب بڑھنے دیا جاتا ہے تو وہ گناہ کی صورت اختیار کر جاتی ہے ۔ خواہش اپنے آپ میں زندگی اختیار کر جاتی اور شہوت بن جاتی ہے۔ خُداوندیسوع نے واضح کیا ہے کہ شہوت گناہ ہےچاہے جسمانی طور پر ہم اِسے عمل میں نہیں بھی لاتے (متی 5باب 27-28آیات)۔ ہمارا دل خدا کا مَقدس ہے اور جب ہم وہاں برائی کو بڑھنے دیتے ہیں تو ہم اُس کی ہیکل کو ناپاک کرتے ہیں (1 کرنتھیوں 3باب 16آیت؛ 6باب 19 آیت)۔

بُری خواہشات ہر انسان کو متاثر کرتی ہیں۔ دسواں حکم لالچ سے منع کرتا ہے جس کا مطلب ہے کسی ایسی چیز کی شدیدخواہش کرنا جو ہماری نہیں ہے (استثنا 5باب 21آیت ؛ رومیوں 13باب 9آیت)۔ انسانی دل مسلسل طور پراپنے آپ کو خوش کرنے کی جستجو میں رہتا ہے اور جب اسے کسی چیز یا کسی انسان کے بارے میں معلوم ہوتا ہے جس پر اُسے یقین ہوتا ہے کہ وہ اُس سے تسکین پائے گاتو شہوت پرستی کا آغاز ہو جاتا ہے۔

جب ہمارے دل خدا کے جلال کے لیے وقف ہوتے ہیں تب ہی ہم بِن بلائی خواہشات پر غالب آ سکتے ہیں اور شہوت پرستی پر فتح پا سکتے ہیں۔ جب ہم خُداوند کے تابع ہو جاتے ہیں تو ہم اپنی ضروریات کو اُس کے ساتھ تعلق میں پورا ہوتا پاتے ہیں۔ ہمیں "ہر ایک خیال کو قید کر کےمسیح کا فرمانبردار"(2کرنتھیوں 10باب 5آیت)بنانے کی ضرورت ہے ۔ ہمیں رُوح القدس کواجازت دینی چاہیے کہ وہ ہمارے خیالات کو اُس طور سے ترتیب دے جیسے وہ چاہتا ہے۔ یہ عمل 19زبور14آیت کے الفاظ کو روزانہ دعا میں استعمال کرنے میں مدد کرتا ہے: "میرے مُنہ کا کلام اور میرے دِل کا خیال تیرے حضور مقبول ٹھہرے۔ اَے خُداوند! اَے میری چٹان اور میرے فِدیہ دینے والے!" جب ہمارے دل کی خواہش خود سے زیادہ خدا کو خوش کرنا ہوتی ہے تو ہم شہوت پرستی کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل شہوت/ہوس/شدید جنسی خواہش پر غالب آنے کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries