settings icon
share icon
سوال

بائبل غم پر قابو پانے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

جواب


غم ایک ایسا جذبہ ہے جس کا انسان عام طور پر تجربہ کرتے ہیں اور ہم بائبل کے بیان میں غم کے عمل کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ بائبل کے متعدد کرداروں کو گہرے نقصان اور دُکھ کا تجربہ کرنا پڑا جن میں ایوب، نعومی، حنّہ اور داؤد شامل ہیں ۔ یہاں تک کےخُداوند یسوع نے بھی دُکھ کا اظہار کیا (یوحنا 11باب35 آیت؛ متی 23باب 37-39 آیات)۔ لعرز کی وفات کے بعد خُداوند یسوع بیت عنیاہ گاؤں میں گیاجہاں پر لعزر کو دفن کیا گیا تھا۔ جب خُداوند یسوع نے مرتھا اور دیگر سوگواران کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ بھی رو پڑا۔ وہ اُن کے غم اور لعزر کی موت کی حقیقت سے بھی متاثر ہوا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اگرچہ خُداوند یسوع کو یہ معلوم تھا کہ وہ لعزر کو مُردوں میں سے زندہ کرنے والا ہے لیکن اُس نے اُس وقت کی صورتحال کے تحت غم میں حصہ لینے کا انتخاب کیا۔ یسوع حقیقت میں ایک سردار کاہن ہے جو "ہماری کمزورِیوں میں ہمارا ہمدرد" بنتا ہے (عبرانیوں 4باب15 آیت)۔

غم پر قابو پانے کا ایک اقدام غم کے بارے میں درست نقطہ نظر رکھنا ہے۔ سب سے پہلے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ غم درد اور نقصان کا فطری ردِ عمل ہے۔ غمگین ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہم جانتے ہیں کہ غمگین لمحات بھی کسی خاص مقصد کی تکمیل کرتے ہیں۔ واعظ 7باب2 آیت بیان کرتی ہے کہ "ماتم کے گھر میں جانا ضیافت کے گھر میں داخِل ہونے سے بہتر ہے کیونکہ سب لوگوں کا انجام یِہی ہے اور جوزِندہ ہے اپنے دِل میں اِس پر سوچے گا۔ " اِس آیت کا مطلب یہ ہے کہ غم اچھا ہوتا ہے کیونکہ یہ زندگی کے بارے میں ہمارے نقطہ نظر کو تازہ کر دیتا ہے۔ تیسرے نمبر پر ہمیں یاد ہے کہ غم کے احساسات عارضی ہوتے ہیں ۔"رات کو شاید رونا پڑے پر صُبح کو خُوشی کی نَوبت آتی ہے " (30 زبور 5 آیت)۔ غم ، سوگ اور آہ و نالہ کا ایک اختتام ہے۔ غم کا اپنا مقصد ہوتا ہے لیکن اِس کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

اِس سب کے دوران خُدا وفا دار ہے۔ کلامِ مُقدس کے ایسے بہت سارے حوالہ جات ہیں جو ہمیں غم اور دُکھ کے وقت خُدا کی وفا داری کی یاد دلاتے ہیں۔ وہ موت کے سایہ کی وادی میں بھی ہمارے ساتھ ہوتا ہے (23 زبور 4 آیت)۔ جس وقت داؤد بہت غمگین تھا تو اُس نے 56 زبور 8 آیت میں یہ دُعا کی: "تُو میری آوارگی کا حِساب رکھتا ہے۔ میرے آنسُوؤں کو اپنے مشکِیزہ میں رکھ لے۔ کیا وہ تیری کِتاب میں مندرج نہیں ہیں؟ " خُدا کی طرف سے ہمارے آنسوؤں کو اپنے مشکیزے میں رکھنے کی تصویر دِل کو چھو لینے والی ہے۔ وہ ہمارے دُکھ اور غم کو دیکھتا ہے اور اُس سے نفرت نہیں کرتا۔ جس طرح خُداوند یسوع بیت عنیاہ میں سوگواروں کے غم میں شریک ہوا اُسی طرح خُدا ہمارے غم میں شریک ہوتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں یقین دلاتا ہے کہ سب کچھ ضائع نہیں ہوا ہے۔ 46 زبور 10 آیت ہمیں کہتی ہے کہ "خاموش ہو جاؤ اور جان لو کہ مَیں خُدا ہُوں۔ " وہ ہماری پناہ گاہ ہے (91 زبور1-2 آیات)۔ وہ سب چیزوں کو اُن لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرتا ہے جنہیں اُس نے بلایا ہے(رومیوں 8باب28 آیت)۔

غم پر قابو پانے کا ایک اہم حصہ خُدا سے اِس کا اظہا کرنا ہے۔ مزامیر میں خُدا کے سامنے اپنے دِ ل کو انڈیل دینے کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی بھی زبور جہاں سے شروع ہوتا ہے اُسی نقطے پر وہ ختم نہیں ہوتا۔ زبور نویس کئی زبوروں کا آغاز غم کے اظہار کے ساتھ کرتا ہے لیکن تقریباً ہمیشہ ہی وہ اُن کا اختتام خُدا کی تعریف کے ساتھ کرتا ہے (13 زبور؛ 23 زبور 4 آیت؛ 30 زبور 11-12 آیات؛ 50 زبور)۔ خُدا ہمیں سمجھتا ہے (139 زبور 2 آیت)۔ جب ہم اُس کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں تو ہم اپنے ذہنوں کو اس سچائی کے لئے کھولنے کے قابل ہوتے ہیں کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہے، وہ وفا دار ہے ، وہ ہر چیز پر اختیار رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ وہ ہماری بھلائی کے لیے کس طرح کام کرے گا۔

غم پر قابو پانے کے لیے ایک اور اہم قدم اِسے دوسروں کے ساتھ بانٹنا ہے۔ مسیح کا بدن اپنے انفرادی اعضاء کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے (گلتیوں 6باب2 آیت)۔ اور ساتھی ایمانداروں کے اندر "رونے والوں کے ساتھ رونے" کی صلاحیت ہے (رومیوں 12باب15 آیت)۔ اکثر غمگین لوگ دوسروں سے دور رہتے ہیں جس سے تنہائی اور بدحالی کے احساسات اور بڑھ جاتے ہیں۔ مشاورت اور صلاح حاصل کرنا زیادہ صحت مند عمل ہوتا ہے اور کلیسیائی گروہ بہت قابلِ قدر ہوتا ہے۔ گروہ کے لوگوں کے پاس اکثر سننے والے کان ہوتے ہیں اور وہ غم کو کم کرنے کے لیے حوصلہ افزائی، دوستی اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ جب ہم اپنی کہانیاں خُدا اور دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں تو ہمارا غم کم ہو جاتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ غم انسانی تجربے کا حصہ ہے۔ نقصان زندگی کا حصہ ہے اور غم نقصان کا ایک فطری ردِ عمل ہے۔ لیکن ہمیں مسیح میں اُمید حاصل ہے اور ہم جانتے ہیں کہ وہ اتنا مضبوط ہے کہ ہمارا بوجھ اُٹھا سکتا ہے (متی 11باب30 آیت)۔ ہم اپنی تکالیف اُس کو دے سکتے ہیں کیونکہ وہ ہماری فکر کرتا ہے (1 پطرس 5باب 7 آیت)ہم رُوح القدس یعنی اپنے تسلی دینے والےمددگار (یوحنا 14باب16 آیت )میں اطمینان پا سکتے ہیں۔ غم میں ہم اپنا بوجھ خُداوند پر ڈال کر، کلیسیا ئی برادری پر انحصار کر کے، کلام کی سچائی پر غور کرکے بالآخر اُمید کا تجربہ کرتے ہیں (عبرانیوں6باب 19-20 آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بائبل غم پر قابو پانے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries