فرق فرق نسلوں کی اصل کیا ہے؟



سوال: فرق فرق نسلوں کی اصل کیا ہے؟

جواب:
بائبل واضح طور سے فرق فرق "نسلوں" کی اصلی کو یا انسانیت میں جلد کے رنگ وغیرہ کو ہمارے لئے پیش نہیں کرتی۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو ایک ہی نسل ہے۔ وہ ہے نسل انسانی۔ انسانی نسل کے اندر مختلف جلد کے رنگ، مختلف صورتیں، اور مختلف جسمانی خصوصیتیں پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگ اس بطور قیاس سے کام لیتے ہیں کہ جب خدا نے بابل کے برج کی تعمیر کے وقت (پیدائش 9-1 :11) زبانوں میں اختلاف ڈالا، تو اس نے نسلی طور سے بھی مختلف ہونے کو مجبور کیا یہ ممکن ہے کہ خدا علم توالد و تناسل سے متعلق انسانیت میں تبدیلی لے آئے تاکہ لوگ مختلف ماحول میں رہتے ہوئے انہیں ماحول میں رہ کر ایک بہتر زندگی جی سکے۔ مثال کے طور پر افریقہ کے حبشی (کالی چمڑی والے) افریقہ میں پڑنے والی گرمی برداشت کرتے ہوئے ایک بہتر زندگی جینے کے قابل ہوتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق خدا نے لوگوں کی زبانوں میں اختلاف ڈالا جو انسانیت کے لئے دوسروں سےعلیحدہ رکھنےکا، زبانوںکا تقابلی مطالعہ کرنےکا سبب بنا اور پھر علم توالد و تناسل سے متعلق نسلی افراق پیدا ہوئے۔ اس بنیاد پر ہر ایک نسل کی جماعت آخر کار ایک جگہ پر آکر بود وباش کرنے لگے۔ مگر دھیان رکھیں کہ اس نظریہ کے لئے واضح طور سے بائبل کی کوئی بنیادی وضاحت ممکن نہیں ہے۔ انسانیت کی نسلیں/ جلد، رنگ روپ وغیرہ کا تعلق بابل کے برج سے ہونا بائبل میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔

نوح کے طوفان کے بعد جب مختلف زبانوں کا وجود ہوا، وہ سب جو ملکر ایک ہی زبان ایک ہی بولی بولتے تھے۔ اختلاف کے بعد انکی اپنی ایک سی زبان بولنے والی جماعت بطور مختلف ملکوں میں دور دور تک جابسے۔ ایسا کرتے ہوئے جین پول ایک خاص جماعت کے لئےکم سےکم ہوتے ہوئے سکڑ گیا۔ جبکہ اس جماعت کےپاس پوری انسانی آبادی نہیں تھی کہ انکےساتھ آمیزش ہوجائے۔ یہاں پر کہنے کامطلب یہ ہےکہ زبان میں اختلاف پڑنے سےپہلے وہ کسی سے بھی مل کر مباشرت کر سکتے تھے۔ مگر زبان میں اختلاف پڑنے کے سبب سے وہ چھوٹی جماعت میں تقسیم ہو گئے اور ان کی دنیا چھوٹی ہو گئی اور انہیں اپنی جماعت میں مباشرت انجام دینا تھا۔ اور مقررہ وقت پر ان مختلف جماعتوں میں کچھ واقعات پر زور دیا گیا۔ (ان میں سے تمام جو جین پول کے کوڈ میں ممکن طور سے حاضر تھے) جب نسلوں کے ذریعہ مزید مباشرت واقع ہوئے تو جین پول چھوٹے چھوٹے مقدار میں بڑھنے لگے اس حد تک کہ وہ جو ایک زبان بولنے والے خاندان تھے سب کے سب وہی تھے یا ان کی وہی شکل و صورت رنگ روپ یا ناک نقشے تھے۔

ایک دوسری تشریح یہ ہے کہ آدم او رحوا کے پاس توالد و تناسل کے ایسے حیاتیات موجود تھے جن سے کالے، بھورے اور سفید بچے پیدا کئے جاسکتے تھے۔ یہ ویسا ہی ہو گا کہ کس طرح ایک آمیزش نسل کاجوڑا کبھی کبھی ایسے بچے رکھتے ہیں۔ جن کی رنگ، ناک نقشے مختلف ہوتی ہیں۔ اس لئے کہ صریحی طور سے خدا نے چاہا کہ انسانیت ظاہر میں مختلف نظر آئے تو ہم یہ معلوم کر سکتے ہیں کہ خدا نے آدم او رحوا کو ایسی قابلیت بخشی تھی کہ مختلف جلد رکھنے والے مختلف لہجہ بولنے والے بچے پیدا کرے۔

بعد میں طوفان سےبچے ہوئے لوگ جن میں نوح اور اسکی بیوی، نوح کے تین بیٹے اور ان کی تین بیویاں —کل ملا کر آٹھ آٹھ لوگ تھے (پیدائش 7:13)۔ شاید نوح کی بیہوش فرق نسل کی تھیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نوح کی بیوی بھی نوح سے الگ دوسری نسل کی رہی ہو۔اور یہ بھی ہو سکتاہے کہ یہ آٹھوں لوگ آمیزش نسل کے ہوں جس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کے اندر توالد و تناسل سے متعلق مختلف حیاتیات پائے گئے تھے تاکہ الگ الگ نسل کے بچے پیدا کرے۔ تشریح چاہے کچھ بھی ہو مگر اس سوال کا سب سے خاص پہلو یہ ہے کہ کیا ہم سب ایک ہی نسل سے ہیں؟ جی ہاں ہم سب ایک نسل سے ہیں جو اسی واحد خداکے ذریعہ آدم اور حوا کے وسیلہ ے پیدا کئے گئے ہیں۔ اور سب کے سب ایک ہی مقصد کے لئےپیدا کئے گئے تھے کہ – خدا کے نام کو جلال بخشیں۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



فرق فرق نسلوں کی اصل کیا ہے؟