مجھےتنظیم شدہ مذہب پرکیوں اعتقاد کرنا چاہئے؟



سوال: مجھےتنظیم شدہ مذہب پرکیوں اعتقاد کرنا چاہئے؟

جواب:
لفظ "مذہب" کے لئے ڈکشنری کی تعریف اس طرح ہوگی جیسے کہ خدا پر یا دیوتاؤں پراعتقاد کرناتاکہ انکی عبادت کیجائے۔عام طور سےچال چلن اور روایت؛ عقیدہ رکھنےکا کوئی خاص اصول یا طریقہ؛ پرستش وغیرہ۔ اکثر اس میں اصول اخلاق کے اشاروں کے کلام بھی شامل کئے جاتے ہیں۔ اس تعریف کی روشنی میں بائبل ایک تنظیم شدہ مذہب کی بات کرتی ہے مگر کئی ایک معاملوں میں "تنظیم شدہ مذہب کا مقصد اور اثر وہ نہیں ہے جس سے خدا خوش ہوتاہے۔

پیدائش کے 11 باب میں شاید تنظیم شدہ مذہب کی پہلی مثال تھی جب نوح کی نسل نے بجائے خداکاحکم بجا لانے کےبابل کا برج بنانےکے لئے خود سے تنظیم کی کہ پوری دنیا میں نہ پھیل کرایک ہی جگہ قیام کرے۔انہوں نے یقین کیا کہ انکا اتحاد خداکے ساتھ رشتہ سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ سو خدا نے ان کے کام میں جسے وہ انجام تک پہنچانا چاہتے تھے دخل اندازی کی اور ان کی بولی میں گڑ بڑی ڈال دی۔ اس طرح خدا نے کی تنظیم شدہ مذہب کو توڑا۔

خروج کا چھٹا باب اوراس سےآگے خدا نے بنی اسرائیل قوم کے لئے ایک مذہب کی تنظیم کی۔ دس احکام، خداکے خیمہ سے متعلق قانون قاعدے اور قربانیوں کے رسم و رواج وغیرہ خداکے ذریعہ ٹھہرائے گئے۔ اور بنی اسرائیل قوم کو انہیں بجا لانا ضروری تھا۔ آگے چل کر نئے عہد نامے کا مطالعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ اس مذہب کا مقصد ایک نجات دہندہ مسیحا کی ضرورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (گلیتوں 3 باب؛ رومیوں 7 باب)۔ کسی طرح بہت سے لوگ اس سے غلط فہمی کے شکار ہو گئے اور انہوں نے سچے خدا کو چھوڑ کر دیگر شریعت کے قانون اور روایات کی پرستش کرنے لگے۔

پورے بنی اسرائیل کی تاریخ میں بہت سے اسرائیلیوں نے جھگڑے فساد کا تجربہ کیا اور وہ تنظیم شدہ مذہب کے ساتھ آپسی جھگڑے فساد میں شریک ہوئے۔ مثال بطور انہوں نے بعل دیوتا کی پرستش کی (قضا ۃ 6 باب؛ 1 سلاطین 18 باب)؛ انہوں نے دجنوں دیوتا کی پرستش کی (1 سموئیل 5 باب) اور انہوں نے مولک دیوتا کی پرستش کی (2 سلاطین 23:10)۔ مگر خدا نے ان دیوتاؤں کے پرستش کرنے والوں کو اپنی فرماں روائی اور قدرت کاملہ کا مظاہرہ کرکے انہیں ہرایا۔

اناجیل میں فریسیوں اور صدوقیوں کو مسیح یسوع کے زمانے میں تنظیم شدہ مذہب کے نمائندے بطور تصویر کشی کی گئی ہے۔ یسوع نے ان کی جھوٹی تعلیم کی بابت ار ان کی ریاکارانہ طرز زندگی کی بابت لگاتار ان کا سامنا کیا۔ مکتوب ناموں میں ایسی تنظیم شدہ جماعتیں تھیں جو انجیل کے لوگوں کو ضرورت شدہ کاموں اور دستوروں کی فہرست میں آمیزش کر دیاتھا۔ انہوں نے بھی ایمانداروں پر دباؤ ڈالنے کی جستجو کی کہ وہ اپنا مذہب بدل ڈالے اور مسیحیت کے علاوہ جو مذہبی کارروائی ہے اسے قبول کریں۔ گلیتوں اور کلیسیوں میں ایسے مذہب کی بابت خبردار کی گئی ہے۔ مکاشفہ کی کتاب میں جیسے ہی جھوٹا مسیح "ایک" عالم گیر مذہب کی بنیاد ڈالے گا تو اس تنظیم شدہ مذہب کا اثر ساری دنیا میں چھوڑے گا۔

کئی ایک معاملوں میں تنظیم شدہ مذہب کاآخری انجام خداکے ارادہ کے مطابق بربادی ہے۔ کسی طرح کلام پاک تنظیم شدہ ایمانداروں کی بابت بتاتی ہے جو اس کے ازلی منصوبہ کے حصہ دار ہیں۔ خدا ان تنظیم شدہ ایمانداروں کی جماعت کو کلیسیا کہتا ہے۔ اعمال کی کتاب اور مکتوبات کے بیانات اشارہ کرتے ہیں کہ کلیسیاؤں کو تنظیم شدہ اور ایک دوسرے پر منحصر ہونا چاہئے۔

مسیحی اداروں کو محافظت، پیدآور اور خوشخبری پھیلانے کی طرف آگے بڑھنی چاہئے (عمال کی کتاب 47 – 2:41)۔ کلیسیا کے معاملہ میں یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یہ ایک "تنظیم شدہ رشتہ " ہے۔

مذہب خدا کے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنے کی انسانی کوشش ہے۔ مسیحی ایمان خدا کے ساتھ کا ایک سچا رشتہ ہے کیونکہ جو کچھ اس نے ہمارے لئے کیا وہ مسیح یسوع کی قربانی کے وسیلہ سےکیا۔ انسان کا کوئی منصوبہ نہیں تھا کہ وہ خدا تک پہنچے مگر مسیحیت کی سچائی یہ ہے کہ خدا خود ہو کر انسان تک پہنچتا ہے۔ (رومیوں 5:8)۔ اس میں گھمنڈ کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ (جو کچھ مسیحیوں نے حاصل کیا ہے وہ خدا کے فضل کے ذریعہ اورایمان کے وسیلہ سے ہے (افسیوں 9 -2:8)۔

جب یہ سچائی ہے تو رہنمائی میں کسی طرح کا جھگڑا نہیں ہونا چاہئے کیونکہ (مسیح ہمارا یعنی کلیسیا کا سر ہے ۔ کلیسیوں 1:18)۔ ہم کو بے جا مخالفت بھی نہیں کرنا ہے۔ کیونکہ (مسیح میں ہم سب ایک ہیں۔ گلتیوں 3:28)۔ تنظیم شدہ ہونا ایک مسئلہ یا پریشانی نہیں ہے مگر ایک مذہب کے قانون قا‏عدوں اور دستوروں پر زیادہ دھیان دینا ہی ایک مسئلہ یا پریشانی ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



مجھےتنظیم شدہ مذہب پرکیوں اعتقاد کرنا چاہئے؟