اوپن تھی ازم کیا ہے؟



سوال: اوپن تھی ازم کیا ہے؟

جواب:
"اوپن تھی ازم" جِسے "اوپننس تھیالوجی" اور "اوپننس آف گاڈ" کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، انسان کی آزاد مرضی کے تعلق سے خُدا کے علم سابق کو بیان کرنے کی ایک کوشش ہے۔ اوپن تھی ازم کی بنیادی طور پر دلیل یہ ہے: انسان حقیقی طور پر آزاد ہیں؛ اگر خُدا کامل طور پر مستقبل کو جانتا ہے، تو انسان حقیقی طورپر آزاد نہیں ہو سکتے ۔ اِس لئے خُدا مستقبل کے بارے میں سب کچھ بالکل نہیں جانتا۔ اوپن تھی ازم کا ماننا ہے کہ مستقبل جاننے کے قابل نہیں ہے۔ اِس لئے خُدا ہر اُس چیز کے بارے میں جانتا ہے جو جانی جا سکتی ہے، لیکن وہ مستقبل کے بارےمیں نہیں جانتا۔

اوپن تھی ازم اپنے اِن عقائد کی بنیاد کتابِ مقدس کے اُن حوالہ جات پر رکھتی ہے جو خُدا کے " ذہن تبدیل کرنے" یا "حیران ہونے" یا "کسی بات کوجاننے"کے متعلق ہیں(پیدائش باب 6 آیت 6؛ باب 22 آیت 12؛ خروج باب 32 آیت 14؛ یوناہ باب 3 آیت 10)۔ بہت سے دوسرے حوالہ جات کی روشنی میں جو مستقبل کے بارے میں خُدا کے علم کا اعلان کرتے ہیں،ہمیں اِن حوالہ جات کو سمجھنا چاہیے کہ یہ خُدا کا اپنے آپ کو اِس طریقے سے ظاہر کرنا ہے جو ہم سمجھ سکتے ہیں۔ خُدا جانتا ہے کہ ہمارے اعمال اور ہمارے فیصلے کیا ہوں گے، لیکن وہ ہمارے اعمال کی بنیاد پر اپنے اعمال کے متعلق "اپنا ذہن تبدیل کرتا ہے"۔ انسان کی بدی پر خُدا کی مایوسی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسے اِس بات کی خبر نہیں تھی کہ یہ واقع ہو گی۔

اوپن تھی ازم کی مخالفت میں، زبور 139 آیت 4اور آیت 16 بیان کرتی ہیں، "دیکھ میری زُبان پر کوئی ایسی بات نہیں جِسے تُو اے خُداوند! پورے طور پر نہ جانتا ہو۔تیری آنکھوں نے میرے بے ترتیب مادے کو دیکھا اور جو ایّام میرے لئے مقرر تھے وہ سب تیری کتاب میں لکھے تھے جب کہ ایک بھی وجود میں نہ آیا تھا"۔ اگر خُدا مستقبل کے بارے میں نہیں جانتا تو وہ پرانے عہد نامہ میں یسوع مسیح کے بارے میں اتنی پچیدہ تفصیلی پیشن گوئیاں کیسے کر سکتا تھا؟ اگر خُدا کو معلوم نہیں کہ مستقبل میں کیا ہو گا تو وہ ہماری ابدی نجات کی ضمانت کسی بھی طور پر کیسے دے سکتا ہے؟

اوپن تھی ازم آخر کار اِس بات میں ناکام ہو جاتی ہے کہ یہ خُدا کے علم سابق اور انسان کی آزاد مرضی کے درمیان ناقابلِ بیان تعلق کو بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جیسے کیلون ازم کی انتہا پسند شکل اِس بات میں ناکام ہو جاتی ہے ، وہ انسان کو پہلے سے پروگریمڈ روبوٹ سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتی ، ویسے ہی اوپن تھی از اِس بات میں ناکام ہو جاتی ہے کہ یہ خُدا کے علمِ کُل اور حقیقی حاکمیت کو ردّ کرتے ہیں۔ خُدا کو ایمان کے وسیلہ سے سمجھنا چاہیے کیونکہ "بغیر ایمان کے خُدا کو پسند آنا ناممکن ہے" (عبرانیوں باب 11 آیت 6)۔ لہذہ، اوپن تھی ازم بائبل کے مطابق نہیں ہے۔ یہ صرف محدود انسان کے لئے لامحدود خُدا کو سمجھنے کی کوشش کا ایک طریقہ ہے۔ اوپن تھی ازم مسیح کے پیروکاروں کی طرف سے مسترد ہونی چاہیے۔ اگرچہ اوپن تھی ازم خُدا کے علم سابق اور انسان کی آزاد مرضی کے درمیان پائے جانے والے تعلق کی ایک وضاحت ہے، لیکن یہ وضاحت بائبل کے مطابق نہیں ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



اوپن تھی ازم کیا ہے؟