settings icon
share icon
سوال

خُدا کے وجود کے بارے میں وجودیاتی دلیل کیا ہے؟

جواب


خدا کی موجودگی کے بارےمیں وجودیاتی دلیل مشاہد ے کی بجائے منطقی بنیاد پر پیدا ہونے والے چند دلائل میں سے ایک ہے ۔ مثال کے طور پر ِ غائی اور کائناتی دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ خدا کی موجودگی کیسے بالترتیب فطرت میں پائے جانے والے واضح ڈئزاین/ نمونہ سازی اور سببیت سے واضح ہوتی ہے ۔ اس کے برعکس وجودیاتی دلیل خالصاً استدلال پر انحصار کرتی ہے ۔ یہ د لیل خوبیوں اور خامیوں دونوں پر مشتمل ہے ۔ حتیٰ کہ مسیحی ایمانداروں میں بھی بہت کم لوگ وجودیاتی دلیل کو قائل کرنے والی دلیل سمجھتے ہیں ۔ تاہم اس پر احتیاط سے غور و خوص کرنا اُن تصورات کی جانب رہنمائی کرتا ہے جو خدا کی موجودگی کی بھر پور حمایت کرتے ہیں

وجودیاتی دلیل کو کئی طرح سے بیان کیا جاتا رہا ہے ۔ اس کا سب سے مشہور ترین بیان گیارھویں صد ی کے راہب انسلم کی طرف سے پیش کیا جا تا ہے ۔ انسلم کے موقف کا بنیادی نقطہ ِ نظر یہ ہے کہ " خدا ایک ایسی ذات ہے جس سے زیادہ عظیم ذات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا "۔ انسلم کے مطابق "موجودگی غیر موجودگی " سے زیادہ" اہم " ہے ؛ لہذا خدا کو اُس سے بھی" عظیم تر " ذات کے طور پر موجود ہونا چاہیے جس کاکوئی شخص تصور کر سکتا ہے۔ اگر کسی حد تک سادہ الفاظ میں کہا جائے تو انسلم نے تجویز دی تھی کہ ممکنہ طور پر خدا کی ذات سب سے " عظیم تر " ذات ہے اور موجود ہونا غیر موجود ہونے سے " بہتر" ہے ؛ پس خدا کی موجودگی ضرور ی ہے ۔

وجودیاتی دلیل کا پہلی بار سامنا کرنے والے لوگ عام طور پر دو میں سے ایک ردّ عمل ظاہر کرتے ہیں ۔ کچھ لوگوں کے نزدیک یہ اتنی مختصر ہے کہ اس سے کچھ مطلب نہیں لیا جا سکتا ۔ دیگر زیادہ تر لوگوں کو یہ غیر معقول معلوم ہوتی ہے چاہے وہ اس کے بارے میں کوئی خاص وجہ بیان کر سکتے ہوں یا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بہت کم لوگ گہرے مطالعہ کےبعد اسے زبردست پائیں مگر یہ ایک عام ردّ عمل نہیں ہے ۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو اس دلیل کو مسترد کرتے ہیں اُنہیں بھی اس بات کی وضاحت کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے کہ یہ غلط کیوں ہے ۔

وجودیاتی دلیل کا بنیادی عیب اس کا منطقی ہونا ہے: کیونکہ یہ واضح نہیں کہ "عظیم تر" اور " موجودگی" جیسے تصورات کا مکمل طور پر منطقی پسِ منظر میں اطلاق کیسے ہوتا ہے ۔ محض یہ کہنا کہ " خدا بلاشبہ ہمیشہ سے موجود ہے ؛ لہذا وہ موجود ہے " بالکل ایک ہی دائرے میں گھومنے والااور غیر منطقی بیان ہوگا۔ یہاں تک کہ اس شرط کا اِس میں اضافہ کرنا بھی کہ خدا "ممکنہ طور پر سب سے عظیم تر" ہے اِس کے ایک ہی دائرے میں گھومنے کی خاصیت کو ختم نہیں کر سکتا۔ مزید برآں جھوٹ پر مبنی تضادات جیسے مسائل سے یہ ثابت ہوتا ہے منطق غیرمناسب گمان کو تشکیل دے سکتا ہے :ایسے بیانات جو خود پر انحصار کرتے ہیں اور حقیقت میں با معنی نہیں ہوتے ۔

بہت سے لوگ جو وجودیاتی دلیل کو مسترد کرتے ہیں وہ اسی وجہ سے ایسا کرتے ہیں کیونکہ وہ یہ بیان نہیں کرسکتے کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں ۔ یہ عموماً غلط "محسوس " ہوتا ہے ؛ہمارے فطری رجحانات محض کسی چیز کی موجودگی کی وضاحت کرنے کے تصور کے خلاف رد عمل کا اظہار کرتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگوں اور بالخصوص غیر ایمانداروں کےلیے وجودیاتی دلیل بہت کم اثر رکھتی ہے ۔

اور اس کے باوجود وجودیاتی دلیل مکمل طور پر ختم اور غائب نہیں ہوئی ۔جزوی طور پر اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص اس دلیل کی اصطلاحات کوجتنی گہرائی سے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے اُتنی ہی زیادہ بائبل کے مطابق خدا کی ذات واضح ہوتی جاتی ہے ۔ دو نکات (1)خدا کی صفات اور(2) حتمی سچائی کاتصور اس بات کا خلاصہ پیش کرتے ہیں کہ ایسا معاملہ کیوں ہے ۔

وجودیاتی دلیل کو بے نقاب کرنے کی کوششوں میں بعض اوقات اس کا اطلاق کسی مختلف مقصد یا تصور کے لیے کیا جاتا ہے تا کہ واضح کیا جاسکے کہ اس کی شاخت بے معنی ہے ۔ اس کی ایک عا م مثال " کامل جزیرے " کا تصور کرنا ہے : چونکہ موجودگی غیر موجودگی سے کہیں زیادہ " کامل ہو گی لہذا اس جزیرے کو یقیناً کسی جگہ موجود ہونا چاہیے ۔ عملی لحاظ سے یہ واضح طور پر درست نہیں ہے لیکن اُن مفروضات کی وجہ سے نہیں جنہیں ایک متشکک فرض کر لیتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جزیرے کی اصطلاح بذات خود حدود کا اظہار کرتی ہے ۔ " جزیرہ " کہلائی جانے والی کوئی بھی چیزفانی اورکسی حد بندی کی حامل ہونی چاہیے ۔ جلد یا بدیر " کامل " یا " لامحدود وسعت " جیسے تصورات کسی چیز کو " جزیرہ " کہنے کے تقاضوں کی تردید کرتے ہیں ۔

البتہ خدا " قطعی عظیم " یا " قطعی کامل" ہونے کی تعریف پر پورا اُترنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی تمام صفات بھی یکساں طور پر کامل ہیں ۔ تعریف کے لحاظ سے کوئی جزیرہ علیم ِ کُل نہیں ہو سکتا ہے مگر خدا ہو سکتا ہے - اس لیے کہ وہ قادرِ مطلق اور ہر جگہ حاضر و ناظر بھی ہے۔ اگر ہم جزیرے کی تعریف کو اس حد تک لے جائیں تو یہ اس طرح کامل بن سکتا ہے جس طرح کوئی بھی چیز ہو سکتی ہے پس اس کے نتیجے میں یہ تمام قوت کا مالک ، علیم کل اور ہر جگہ حاضر و ناظر بن جائے گا جس کا مطلب ہے کہ یہ خدا ہو گا ۔ وجودیاتی دلیل کو بے نقاب کرنے کی کوشش میں کوئی بھی شخص اس بات کو دُہراتے ہوئے نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ تعریف کے لحاظ سے سب سے بڑی قابلِ فہم ذات کا وجود ہونا چاہیے ۔

حتمی سچائی کا تصور ایک اور وجہ ہےجو یہ بیان کرتی ہے کہ وجودیاتی دلیل زندگی سے جُڑی ہوئی ہے ۔ طاقت علم ، بھلائی اور اس طرح کے تصورات یہ فرض کرتے ہیں کہ ان نظریات کا تعین کرنے کےلیے کوئی معیار موجود ہے ۔ ہم فاصلے یا وزن کی پیمائش " لامحدود فاصلے " یا " لامحدود وزن " کے تناسب میں نہیں کرتے کیونکہ لامحدودیت بنیادی طور پر موجود نہیں ہے اور اگر یہ موجود ہوتی تو بھی ہمارے پاس لامحدودیت کے تناسب میں کسی چیز کی پیمائش کرنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے ۔ اس کےباوجود ہم فطری طور پر سمجھتے ہیں کہ طاقت اور اخلاقیات جیسی چیزیں حقیقی ہیں اور صرف ایک حتمی معیار کے تناسب سے سمجھ میں آتی ہیں ۔ اس کے برعکس دعویٰ کرنا خودغارتی ہے :" نسبتی اخلاقیات" قریباًعملی طور پر ایک تضاد ہے ۔ ہم پر اِن تصورات کےلیے حتمی معیاروں کی موجودگی کو تسلیم کرنے کی خاطر ناگزیر دباؤ ڈالا جاتا ہے ۔

تاہم غور کریں کہ اس بیان کا منطقی نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔ اگر بھلائی کا حتمی معیار موجود ہے تو پھر نامناسب صرف و نحو کو معاف کریں کیونکہ" سب سے اچھا" جیسی کسی چیز کو موجود ہونا چاہیے ۔ اسی طرح سے یہ بات طاقت ، علم اور دیگر چیزوں کےلیے بھی درست ہے ۔ ایک بار پھر یہ وجودیاتی دلیل کے بیانِ مکرر کی صورت اختیار کرلیتی ہے :کسی ایسی ذات کی موجودگی ضروری ہے جس سے بڑی یا جس سے زیادہ کامل ذات کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ بیان کہ ہمارے پاس اخلاقیات وغیرہ کے معیار موجودہیں کسی ایسی چیز کی تجویز دیتا ہے جو وجودیاتی دلیل کے مفروضات کے بہت قریب تر ہے ۔ بہر حال اس سےیہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ صرف ایک ہی ذات ہے جس کے حق میں یہ دلیل کام کرے گی : ایک ایسی ذات جو ممکنہ طور پر ہر لحاظ سے کامل ہے – اور وہ ذات خدا ہے ۔

نظریات اپنی انتہا کی حد سے جس قدر تجویز پیش کر سکتے ہیں وجودیاتی دلیل نہ تو اتنی طاقتور ہے اور نہ ہی اتنی بیکار ہے ۔ خصوصاً متشکک یا غیر ایمانداروں کےلیے اس کی عملی قدر بہت کم ہے ۔پاسکلز ویجز کی طرح وجودیاتی دلیل کو کبھی کبھار تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے :عام طور یہ دعویٰ نہیں کیا جا رہا کہ کسی چیز کو " سمجھنا" اسے حقیقی بنانے کےلیے کافی ہے ۔ تاہم کوئی شخص جتنا اس دلیل کو سلجھانے کی کوشش کرتا ہے یہ اُتنی زیادہ گہری ہوتی جاتی ہے اور غلط ثابت ہونے کے خلاف مزاحمت کرتی ہے ۔

یہ کہنا قدرے آسان ہے کہ "وجودیاتی دلیل میرے نزدیک کسی کام کی نہیں " برعکس اِس کے کہ "وجودیاتی دلیل غلط ہے " – کیونکہ یہ خُدا کے موجود ہونے کی ایک بہت ہی دلچسپ مثال پیش کرتی ہے جو کہ بہت زیادہ اہم ہے اگرچہ بہت سارے لوگ اِس کو اتنا اہم خیال نہیں کرتے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کے وجود کے بارے میں وجودیاتی دلیل کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries