settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


اگرچہ اِس بارے میں بے شمار نظریات موجود ہیں کہ نجات کے حوالے سے بُلائے /چُنے ہوؤں کا اصل میں کیا مطلب ہے ۔ مگر یہ حقیقت ناقابل تردید ہے کہ ایماندار بُلائےہوئے/برگزیدہ ہیں (رومیوں 8باب 29-30آیات؛ افسیوں 1باب 4-5، 11آیات؛ 1تھسلنیکیوں 1باب 4آیت)۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو بُلائے ہوؤں کا عقیدہ یہ ہے کہ خُدا چُنتا /برگزیدہ کرتا /بلاتا/پہلے ہی سے فیصلہ کرتا ہے کہ کون نجات پائے گا۔ اِس کا بات تعین کرنا اس مضمون کے دائرہ کار میں شامل نہیں کہ برگزیدگی کا عمل کیسے کام کرتا ہے ۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ "مَیں یہ کیسے جان سکتا ہوں کہ چُنے ہوؤں میں سے ایک ہوں ؟" جواب بہت آسان ہے: ایمان لائیں!

بائبل کہیں پر بھی بُلائے ہوؤں بمقابلہ ردّ کئے ہوؤں کے طور پر ہماری حیثیت کے بارے میں فکر مند رہنے کی نصیحت نہیں کرتی ہے۔ بلکہ خُدا ہمیں ایمان کے وسیلے فضل ہی سے یسوع مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے کے لیے بلاتا ہے (یوحنا 3باب 16آیت ؛ افسیوں 2باب 8-9آیات)۔ اگر کوئی شخص نجات کے لیے صرف یسوع پر حقیقی اعتقاد رکھتا ہے تو وہ شخص بُلائے ہوؤں/برگزیدوں میں سے ایک ہے۔ آیا ایمان لانا برگزید گی کا یا برگزید گی ایمان لانے کا باعث بنتی ہے - یہ ایک اور بحث ہے۔ لیکن جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ ایمان لانا برگزیدگی کا ثبوت ہے ۔ کوئی بھی انسان یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول نہیں کر سکتا جب تک کہ خدا اُسے اپنی طرف کھینچ نہیں لیتا(یوحنا 6باب 44آیت)۔ خُدا اُن لوگوں کو بلاتا/ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے جن کو اُس نے پہلے ہی سے مُقرر/منتخب کیا ہے (رومیوں 8باب 29-30آیات)۔ نجات بخش ایمان الٰہی چناؤ کے بغیر ممکن نہیں۔ پس نجات بخش ایمان بُلائے جانے کا ثبوت ہے۔

بائبل کے نزدیک ایسے شخص کا تصور بالکل اجنبی ہے جو نجات پانا چاہتا ہے لیکن برگزیدوں میں سے نہ ہونے کے باعث ایسا کرنے سے قاصر ہے ۔ کوئی بھی انسان اپنی مرضی سے خدا کے نجات کے منصوبے کی تلاش نہیں کرتا (رومیوں 3باب 10-18آیات)۔ جو لوگ مسیح سے دُور ہیں وہ اپنی نجات کی ضرورت کے حوالے سے اندھے ہیں (2 کرنتھیوں 4باب 4آیت) ۔ یہ حالت صرف تب ہی بدلتی ہے جب خُدا کسی شخص کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔ یہ خدا ہی ہے جو آنکھیں کھولتا اور یسوع مسیح کی بطور نجات دہندہ ضرورت کے لیے ذہنوں کو روشن کرتا ہے۔ کوئی انسان تب تک توبہ (گناہ اور نجات کی ضرورت کے بارے میں سوچ کو تبدیل ) نہیں کر سکتا جب تک خدا توبہ کی توفیق نہ دے (اعمال 11باب 18آیت) ۔ لہذا اگر آپ خدا کے نجات کے منصوبے کو سمجھتے ہیں، اپنے لیے اُس کی ضرورت کو پہچانتے ہیں اور یسوع مسیح کو اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنے کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں تو ایمان لائیں اور آپ نجات یافتہ ہونگے ۔

اگر آپ نے نجات کے لیے صرف یسوع مسیح پر بھروسہ کرتے اور یہ مانتے ہوئے اُسے اپنے نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا ہے کہ اُس کی کفارہ بخش موت آپ کے گناہوں کی مکمل ادائیگی ہے تو مبارک ہو!آپ بُلائے/چُنے ہوؤں-برگزیدوں میں سے سے ایک ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries