شادی میں ایک تن ہونے کا کیا مطلب ہے؟



سوال: شادی میں ایک تن ہونے کا کیا مطلب ہے؟

جواب:
اصطلاح"ایک تن" پیدائش کی کتاب میں موجود حوا کی تخلیق کی تفصیل سے اخذ ہوتی ہے۔ پیدائش باب 2 آیات 21 تا 24 ایک عمل کو بیان کرتی ہیں جِس سے خُدا نے حوا کو آدم کے پہلو سے لی گئی ایک پسلی سے بنایا جب وہ سو رہا تھا۔ آدم نے پہچان لیا کہ حوا اُس کا اپنا ہی ایک حصہ ہے، درحقیقت وہ "ایک تن" تھے۔ اصطلاح "ایک تن" کا مطلب ہے کہ جیسے ہمارے اجسام ایک مکمل وجود ہیں اور حصوں میں تقسیم نہیں ہو سکتے اور ابھی بھی مکمل ہیں، اِسی طرح خُدا نے اِرادہ کیا کہ ایسا شادی کے تعلق کے ساتھ ہو۔ اب دو وجود (دو افراد) نہیں رہے، بلکہ اب ایک وجود (ایک شادی شُدہ جوڑا) ہے۔ اِس نئے اتحاد کے بہت سے پہلو ہیں۔

جہاں تک جذباتی وابستگی کا تعلق ہے، نئی وحدت تمام سابقہ اور مستقبل کے تعلقات پر سبقت رکھتی ہے (پیدائش باب 2 آیت 24)۔ بعض جیون ساتھی نئے ساتھی کے مقابلے میں والدین کے ساتھ تعلقات پر زیادہ دھیان دینا جاری رکھتے ہیں۔ یہ شادی میں تباہی کی ایک ترکیب ، اور "چھوڑنے اور ملے رہنے" کے لئے خُدا کے اصل ارادے کی ایک تحریف ہے۔ ایک ملتا جُلتا مسلہ اُس وقت پروان چڑھ سکتا ہے جب ایک شریکِ حیات جذباتی ضروریات کو پورا کرنے کے لئےاپنے جیون ساتھی کی بجائے بچے کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا شروع کرتا ہے۔

جذباتی، روحانی، ذہنی، مالی طور پر اور ہر دوسرے طریقے سے شادی شُدہ جوڑے کو ایک بننا ہے۔ یہاں تک کہ جسم کا ایک حصہ جسم کے دوسرے حصہ کا خیال رکھتا ہے (معدہ جسم کے لئے خوراک ہضم کرتا ہے، دماغ ہر طرح کی بھلائی کے لئے جسم کو ہدایت کرتا ہے، ہاتھ جسم کی خاطر کام کرتے ہیں وغیرہ)، لہذہ، شادی میں ہر شریکِ حیات کو دوسرے ساتھی کا خیال رکھنا ہے۔ ہر شریکِ حیات کو چاہیے کہ وہ اپنی کمائی جانے والی رقم کو "میری" رقم کے طور پر دیکھنے کی بجائے "ہماری" رقم کے طور پر دیکھے۔ افسیوں باب 5 آیات 22 تا 33 اور امثال باب 31 آیات 10تا 31 اِس "وحدت" کا شوہر اور بیوی کے کردار پر اطلاق فراہم کرتی ہیں۔

جسمانی طور پر وہ ایک تن ہوتے ہیں، اور اِس ایک تن ہونے کا نتیجہ بچوں میں پایا جاتا ہے جو اُن کے اتحاد سے پیدا ہوتے ہیں، یہ بچے اب اُن کے اتحاد کے مطابق خاص جنیاتی روپ رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کے تعلقات کے جنسی پہلو میں، شوہر اور بیوی کے اپنے اجسام اُن کے اپنے اجسام نہیں سمجھے جاتے ، بلکہ اُن کے اجسام اُن کے جیون ساتھی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں (1 کرنتھیوں باب 7 آیات 3 تا 5)۔ اور نہ ہی اُنہیں اپنی اپنی خوشی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے ، بلکہ اپنے شریکِ حیات کو خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہنا چاہیے۔

یہ واحدت اور ایک دوسرے کے فائدے کے لئے خواہش ، خاص طور پر انسان کے گناہ میں گِرنے کے بعد خود کار نہیں رہی ۔ پیدائش باب 2 آیت 24 میں مرد کو اپنی بیوی سے "ملے رہنے" کو کہا گیا ہے۔ اِس لفظ کے پیچھے دو خیال پائے جاتے ہیں۔ پہلا اپنی بیوی کے ساتھ "چپکے"رہنے کا خیال، جو کہ اِس بات کی تصویر ہے کہ شادی کے بندن کوکتنا مضبوط ہونا چاہیے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ شوہر "بیوی کا سختی سے پیچھا" کرے۔ یہ "سختی سے پیچھا " شادی تک لانے والے اظہار عشق سے کہیں بڑھ کر ہے، اور اِسے پوری شادی شُدہ زندگی میں جاری رکھنا ہے۔ جسمانی رُجحان یہ سمجھنے کی بجائے کہ شریک حیات کو کِس چیز سے فائدہ پہنچے گا "وہ کرنا ہے جو مجھے اچھا لگتا ہے"۔ اور یہ خود مرکز پرستی وہ موجیں ہے جِس میں شادیاں عام طور پر گر جاتی ہیں جب "ہنی مُون" ختم ہو جاتا ہے۔ ہر شریکِ حیات کو چاہیے کہ وہ اپنی ضروریات کے پورا نہ ہونے پر توبہ دینے کی بجائے اپنے شریکِ حیات کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دے۔

دو اشخاص کا ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے اکٹھے رہنا جتنا اچھا ہو، اُتنی ہی بُلند نظربُلاہٹ خُدا شادی کے لئے رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ جیسے وہ شادی سے پہلے اپنی زندگیوں کے ساتھ مسیح کی خدمت کر رہے تھے (رومیوں باب 12 پہلی دو آیات)، اب اُنہیں ایک اکائی کے طور پر اکٹھے یسوع کی خدمت کرنی چاہیے اور اپنے بچوں کی ایسی پرورش کرنی چاہیے کہ وہ بھی خُدا کی خدمت کریں (1کرنتھیوں باب 7آیات 29 تا 34؛ ملاکی باب 2 آیت 15؛ افسیوں باب 6 آیت 4)۔ اعمال باب 18 میں پرسکلہ اور اکوِلہ اِس بات کے لئے اچھی مثالیں ہیں۔ جیسے ایک جوڑا مسیح کی خدمت کرنے کے لئے پیروی کرتا ہے، تو خوشی جو روح القدس کا پھل ہے اُن کی شادی کو معمور کر دیتی ہے (گلتیوں باب 5 آیات 22 تا 23)۔ باغِ عدن میں تین موجود تھے (آدم، حوا، اور خُدا)، اور وہاں خوشی تھی۔ لہذہ، اگر آج کی شادی میں بھی خُدا کو مرکزی حثییت دی جائے، تو خوشی نصیب ہو گی۔ خُدا کے بغیر ایک حقیقی اور کامل واحدت ہونا ناممکن ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



شادی میں ایک تن ہونے کا کیا مطلب ہے؟