settings icon
share icon
سوال

علم الاسرار کیا ہے؟

جواب


علم الاسرار کے لیے انگریزی اصطلاح Occult استعمال کی جاتی ہے جس کا لغت کے مطابق ترجمہ ہے "چھپا ہوا، مخفی اور پُر اسرار، خصوصی طور پر مافوق الفطرت کی حامل کوئی چیز۔" علم الاسرار کی مثالیں علم النجوم، جادوٹونہ فسوں گری (وِکا) ، سیاہ فنون، قسمت کا حال بتانا، جادو (بشمول کالا اور سفید)، اویجا بورڈ، ٹاروٹ کارڈز، رُوح پرستی، پیرا سائیکولوجی (ماورائی نفسیات)اور علمِ شیطانیت ہیں۔ بنی نو ع انسان قدیم زمانے سے لیکر آج کے دِن تک پُر اسرار علوم میں بہت زیادہ دلچسپی لیتا رہا ہے۔ پُر اسرار علوم کی مشق اور نفسیاتی مظاہر نے پوری دُنیا کے اندر کئی ملین لوگوں کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، اور یہ صرف جاہل اور اَن پڑھ لوگوں تک ہی محدود نہیں ہے۔ ایسے بہت سارے حقائق ہیں جو ہماری تمام ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کے باوجود ہر کسی انسان کے لیے پُر اسرار علوم کے اندر دلچسپی کے حامل ہوتے ہیں۔

‏ایک بات تو یہ ہے کہ پُر اسرار اور غیر مرئی طریقے اور مشقیں ہمارے اندر فطری تجسس کو پسند کرتی ہیں۔ بہت سارے لوگ جو پُرا اسرار علوم میں دلچسپی لیتے ہیں وہ کچھ بے ضرر قسم کی مشقوں جیسے کہ ‏‏اویجا بورڈ‏‏ کے ساتھ کھیلنے سے" شروع ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ جنہوں نے اس طرح کے تجربات کئے ہیں انہوں نے ہمیشہ ہی خود کو پُر اسرار علوم کے حوالے سے ہر دفعہ مزید گہرائی میں ہی جاتے ہوئے پایا ہے۔ بدقسمتی سے اس قسم کی شمولیت ایک دلدل جیسی ہوتی ہے جس میں داخل ہونا آسان ہے لیکن اُس میں سے نکلنا مشکل بہت ہے۔ علم الاسرار کی ایک اور کشش یہ ہے کہ یہ زندگی کے سوالات کے فوری اور آسان جوابات پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ نجومی بڑی خوشی سے آپ کے مستقبل کا خلاصہ پیش کرتا ہے۔ اویجا بورڈ اور ٹاروٹ کارڈز آپ کی کسی نہ کسی سمت میں رہنمائی کرتے ہیں، رُوحیت پرست نفسیاتی ڈاکٹر آپ کو کسی آنٹی آستر جیسی شخصیت کے ساتھ ملواتا ہے جو آپ کو بتاتی ہے کہ آخرت میں سب کچھ ٹھیک ہی ہوگا۔ علمِ الاسرار پر عموماً بد ارواح کا کنٹرول ہوتا ہے، جو اپنے متاثرین کو صرف اُتنی سی معلومات مہیا کرتی ہیں جو اُن کے تجسس کو برقرار رکھتی ہے، جبکہ وہ ہر گزرنے والے لمحے کے ساتھ اُن کے بھولے بھالے دلوں اور ذہنوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے قابو میں کرتی رہتی ہیں۔

علمِ الاسرار کو عمل میں لانے کے خطرات کے حوالے سے کسی بھی طرح کی مبالغہ آمیزی کو استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ خُدا نے بنی اسرائیل کو بڑی سختی کے ساتھ کسی بھی طرح کے پُرا سرار علوم میں دلچسپی لینے سے منع کیا تھا (احبار 20باب6آیت)۔ اسرائیل کے چاروں طرف جو غیر اقوام آباد تھیں وہ سبھی فالگیری، جادوگری، فسوں گری /جادو ٹونے اور رُوح پرستی جیسی سرگرمیوں میں بہت گہرے طور پر ملوث تھیں اور بہت ساری وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی تھی جس کی بدولت خُدا نے اپنے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ اُن اقوام کو اپنے درمیان سے نکال باہر کریں (استثنا 18باب9-14آیات)۔ نیا عہد نامہ بیان کرتا ہے کہ لوگوں میں علمِ الاسرار کے اندر دلچسپی لینے کی شرح کا بڑھنا اخیر زمانے کی نشانیوں میں سے ایک ہے: "لیکن رُوح صاف فرماتا ہے کہ آیندہ زمانوں میں بعض لوگ گمراہ کرنے والی رُوحوں اور شیاطین کی تعلیم کی طرف مُتوجّہ ہو کر اِیمان سے برگشتہ ہو جائیں گے " (1 تیمتھیس 4 باب1آیت)۔

ہم کس طرح سے علم الاسرار اور اُس کو بڑھاوہ دینے والے لوگوں کی پہچان کر سکتے ہیں؟ابتدائی کلیسیا میں وقوع پذیر ہونے والا ایک واقع ہمارے لیے اچھی مثال ہے جو پولس اور برنباس کے ساتھ پیش آیا تھا۔ وہ "تمام ٹاپو میں سے ہوتے ہوئے پافس تک پہنچے۔ وہاں اُنہیں ایک یہودی جادوگر اور جھوٹا نبی بریسو ع نام ملا۔وہ سرِگیُس پَولُس صُوبہ دار کے ساتھ تھا جو صاحِبِ تمیز آدمی تھا ۔ اِس نے برنباس اور ساؤُؔل کو بُلا کر خُدا کا کلام سُننا چاہا۔مگر الیما س جادُوگر نے (کہ یہی اِس کے نام کا تَرجمہ ہے) اُن کی مُخالفت کی اور صُوبہ دار کو اِیمان لانے سے روکنا چاہا۔اور ساؤُؔل نے جس کا نام پَولُس بھی ہے رُوح القدس سے بھر کر اُس پر غور سے نظر کی۔اور کہا کہ اَے اِبلیس کے فرزند! تُو جو تمام مکّاری اور شرارت سے بھرا ہوا اور ہر طرح کی نیکی کا دُشمن ہے کیا خُداوند کی سیدھی راہوں کو بگاڑنے سے باز نہ آئے گا؟(اعمال 13باب6-10آیات)۔

اِس بیان کے اندر ہم ایسے لوگوں کی کئی ایک خصوصیات دیکھتے ہیں جو کسی نہ کسی طرح سے علمِ الاسرار میں ملوث ہوتے ہیں۔ وہ جھوٹے نبی ہیں (6 آیت)، جو مسیحیت کے بنیادی عقائد کا انکار کرتے ہیں جیسے کہ : مسیح یسوع کی الوہیت، انسان کا گناہ میں گرنا، آسمان، جہنم، نجات اور صلیب پر یسوع مسیح کی کفارہ بخش قربانی۔ دوسرے نمبر پر وہ دوسرے لوگوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں، خاص طور پر اُن لوگوں پر جن کے پاس اختیار ہوتا ہے تاکہ اُنہیں ایمان لانے سے باز رکھ سکیں (6-7آیات)۔ تیسرے نمبر پر وہ مسیح کی سچی انجیل کی منادی کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، اور انجیل کی منادی کرنے والے کی ہر ایک موڑ پر مخالفت کرتے ہیں (8 آیت)۔ جب بھی انجیل کی سچائی میں کسی بھی طرح کی کمی کی جاتی ہے، اُس کی منادی بے فائدہ جاتی ہے یا پھر اُسے واضح طور پر رَد کر دیا جاتا ہے تو ایسے میں شیطان اور اُس کی بد اَرواح خوشی مناتی ہیں۔

اِس حقیقت کے بار ےمیں قطعی طو رپر غلطی نہیں کی جانی چاہیے کہ علم الاسرار کی ہر ایک ممکنہ قسم سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔ ہمیں کلام میں یہ حکم دیا گیا ہے "تم ہوشیار اور بیدار رہو ۔ تمہارا مخالِف اِبلیس گرجنے والے شیرِ ببر کی طرح ڈُھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے " (1 پطرس 5باب 8 آیت)۔ ہوشیار اور بیدار رہنے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم شیطان کی سب چالوں کے حوالے سے عقلمندی کا مظاہر کرتے ہوئے آگاہ رہیں، لیکن علمِ الاسرار کی تفصیلات میں دلچسپی نہ لیں اور اُس کی کسی بھی طرح کی مشق یا مظاہرے کا حصہ مت بنیں۔ ہمیں ابلیس کے حتمی مقصد کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ مقصد–رُوحوں کی ہلاکت –ہے، لہذا ہمیں خُدا کے سب ہتھیار باندھ لینے کی ضرورت ہے (افسیوں 6باب10-18آیات)۔ صرف اُسی صورت میں ہم مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہ سکتے اور ابلیس کے سب "جلتے تیروں" کو بجھا سکتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

علم الاسرار کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries