میں کیا کروں کہ جہنم میں نہ جاؤں؟



سوال: میں کیا کروں کہ جہنم میں نہ جاؤں؟

جواب:
جہنم سے بچنا آپ کی سوچ سے بھی آسان ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ جہنم سے بچنے کے لیے اُنہیں اپنی ساری زندگی دس احکام پر عمل کرنا ہو گا۔ کچھ لوگوں کا ایمان ہے کہ جہنم سے بچنے کے لیے اُنہیں رسم و رواجوں پر عمل کرنا ہو گا۔ کچھ لوگوں کا اعتقاد ہے کہ کوئی ایسا طریقہ نہیں کہ ہم یقین سے کہہ سکیں کہ جہنم میں جائیں گے یا نہ جائیں گے۔ اِن میں سے کوئی بھی خیال درست نہیں ہے۔ بائبل واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ کیسے ایک شخص موت کے بعد جہنم جانے سے بچ سکتا ہے۔

بائبل بیان کرتی ہے کہ جہنم ایک خوفناک اور بھیانک جگہ ہے۔ جہنم کو ابدی آگ (متی۴۱:۲۵)، کبھی نہ بجھنے والی آگ (متی ۱۲:۳)، رسوائی اور ذلتِ ابدی کی جگہ(دانی ایل۲:۱۲)،ایسی جگہ جہاں آگ نہیں بجھتی(مرقس۴۴:۹۔۴۹)،اور ابدی ہلاکت (۲۔تھسلینیکیوں۹:۱) کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مکاشفہ۱۰:۲۰ میں مرقوم ہے کہ جہنم ’’آگ اور گندھک ک جھیل‘‘ہے جہاں بدکار دن اور رات ابدُالآبادعذاب میں رہیں گے۔ صریحاً، جہنم ایسی جگہ ہے جہاں سے ہمیں بچنے کی ضرورت ہے۔

جہنم کا وجود کیوں ہے؟ خُدا کیوں کچھ لوگوں کو وہاں بھیجتا ہے؟ بائبل ہمیں بتا تی ہے کہ خُدا نے جہنم ابلیس اور گرائے گئے فرشتوں کے لیے اُن کی بغاوت کے بعد تیار کی (متی۴۱:۲۵)۔ جو لوگ خُدا کی پیش کردہ معافی کو ردّ کرتے ہیں ابلیس اور گرائے گئے فرشتوں کی اِس ابدی ہلاکت میں مُبتلا ہوں گے۔

آخر جہنم ہی کیوں ضروری ہے؟ تمام گناہ قطعی طور پر خُدا کے خلاف ہوتے ہیں (زبور۴:۵۱)، اور چونکہ خُدا لامحدود اور ابدی وجود رکھتا ہے، تو سزا بھی لامحدود اور ابدی ہو گی۔ جہنم ہی ایسی جگہ ہے جہاں خُدا کے انصاف کے پاک اور راست تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ جہنم وہ جگہ ہے جہاں خُدا اُن تمام لوگوں کو جو اُسے ردّ کرتے ہیں اُن کے گناہ کی سزا دیتا ہے۔ بائبل واضح کرتی ہے کہ ہم سب نے گناہ کیا (واعظ۲۰:۷؛رومیوں۱۰:۳۔۲۳)، اور نتیجہ کے طور پر جہنم میں جانے کے مستحق ہیں۔

لہذہ، ہم کیا کریں کہ جہنم میں نہ جائیں؟ چونکہ ہم سب لامحدود اور ابدی سزا کے لائق ہیں تو ایک لامحدود اور ابدی قیمت ہی ادا کرنی پڑے گی۔ خُدا یسوع مسیح کی شخصیت میں انسان بنا (یوحنا۱:۱؛۱۴:۱)۔ مسیح یسوع میں خُدا ہمارے ساتھ رہا، ہمیں سکھاتا رہا، اور ہمیں شِفا دیتا رہا۔ لیکن یہ سب کچھ اُسکا اصل مقصد نہیں تھا۔ خُدا انسان بنا تاکہ وہ ہماری خاطر مرے۔ یسوع انسانی جسم میں خُدا تھا جو صلیب پر مرا۔ خُدا کے طور پر اُس کی موت کی قدر لامحدود اور ابدی اور گناہ کی مکمل قیمت ادا کرنے کے قابل تھی (۱۔یوحنا۲:۲)۔ خُدا ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کریں،اور ایمان لائیں کہ اُس کی موت ہمارے گناہوں کی مکمل ادائیگی ہے۔ خُدا وعدہ کرتا ہے کہ جو کوئی یسوع پر ایمان لائے (یوحنا۱۶:۳)، بھروسہ رکھے کہ صرف وہی اُس کا نجات دہندہ ہے(یوحنا۶:۱۴)، وہ نجات پائے گا،اور وہ جہنم میں ہرگز نہیں جائے گا۔

خُدا نہیں چاہتا کہ کوئی جہنم میں جائے (۲۔پطرس۹:۳)۔ اِس لیے خُدا نے ہماری خاطرحتمی،کامِل اور لائق قُربانی ادا کی۔ اگر آپ جہنم میں نہیں جانا چاہتے تو یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کریں۔ ہمارے لیے یہی آسان ہے۔ خُدا سے کہیے کہ آپ پہچان گئے ہیں کہ آپ گنہگار ہیں اور جہنم میں جانے کے مستحق ۔ خُدا کے سامنے اعلان کریں آپ یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کررہے ہیں۔ خُدا تیرا شکر ادا کرتے ہیں کہ تُو نے جہنم سے رہائی اور نجات فراہم کی۔ آپ کا سادہ ایمان، اور یسوع نجات دہندہ پر بھروسہ ہی آپ کو جہنم سے بچا سکتا ہے!

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں کیا کروں کہ جہنم میں نہ جاؤں؟