settings icon
share icon
سوال

مسیحی بننے سے کوئی کس طرح نیا انسان بن جاتا ہے ؟

جواب


خُداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ مسیحی بننے کے لیے ہمیں" نئے سرے "سے پیدا ہونا ضرور ہے ( یوحنا 3باب 3آیت)۔ اس فقرے کا اشارہ یہ ہے کہ ہم اپنی موجودہ زندگیوں کو محض از سر نو تشکیل نہیں دے سکتے۔ ہمیں نئے طور سے شروع کرنا ہوگا۔ دوسرا کرنتھیوں 5باب 15 اور 17 آیات اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ جب ہم یسوع پر اپنے نجات دہندہ اور خداوند کی حیثیت سے ایمان لاتے ہیں تو کیا ہوتا ہے: "اور وہ اِس لئے سب کے واسطے مُؤا کہ جو جیتے ہیں وہ آگے کو اپنے لئے نہ جئیں بلکہ اُس کے لئے جو اُن کے واسطے مُؤا اور پھر جی اُٹھا۔ اِس لئے اگر کوئی مسیح میں ہے تو وہ نیا مخلوق ہے۔ پُرانی چیزیں جاتی رہیں۔ دیکھو وہ نئی ہو گئیں "۔

خُداوند یسوع نے پیدایش کی مثال کا استعمال کیا کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ جب کوئی بچّہ پیدا ہوتا ہے تو ایک نیا ء مخلو ق ظاہر ہوتا ہے۔ براہ راست پیدایش کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ شیر خواری سے بلوغت تک تبدیلی آتی جاتی ہے۔ جب ہم رُوح میں نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں تو ہم جو "اپنے قصوروں اور گُناہوں کے سبب سے مُردہ تھے" (افسیوں 2باب 1آیت؛ رومیوں 6باب 18آیت) ہمیں زندہ کیا جاتا ہے۔ ہم مسیح میں ایک "نئی تخلیق" ہیں (2 کرنتھیوں 5باب 17آیت )۔ جب ہم خود پرستی سے خدا پرستی کی طرف آتے ہیں تو خُدا ہماری خواہشات، نقطہ نظر اور توجہ کو تبدیل کر دیتا ہے۔

بہت سے لوگ ملکیت کی اِس منتقلی کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتے اور اِس کی بجائے اپنے ظاہری رویے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ایک مسیحی کی طرح محسوس کرنے کی کوشش میں گرجا گھر جانا شروع کر دیتے ہیں۔ تاہم قوتِ ارادی ہمیں محض یہاں تک لاسکتی ہے۔ خُداوند یسوع ہمارے گناہ آلود بدن کی اصلاح کے لیے نہیں آیا تھا؛ وہ اُسے ختم کرنے آیا تھا (لوقا 9باب 23آیت ؛ رومیوں 6باب 6-7آیات)۔ پرانی اور نئی انسانیت ایک ساتھ کام نہیں کر سکتیں اور نہ ہی وہ امن کے ساتھ باہمی طور پر رہ سکتی ہیں (رومیوں 8باب 12-14آیات)۔ اس سے پہلے کہ ہم اس نئی زندگی کا تجربہ کر سکیں جوخُداوند یسوع ہمیں پیش کرتا ہے ہمیں اپنی خودی کو ختم کرنے کی ضرورت ہے (2 کرنتھیوں 5باب 15آیت)۔

ہر انسان جسم، جان اور رُوح پر مشتمل ہے (1 تھسلنیکیوں 5باب 23آیت)۔ ہمارے نئے سرے سے پیدا ہونے کے وسیلہ سے خدا کے ساتھ تعلق قائم کرنے سےقبل ہم بنیادی طور پر اپنی جان اور بدن کے ماتحت ہوتے ہیں۔ رُوح ہمارے اندر ہوا کے بغیر غبارے کی طرح غیر فعال حالت میں ہوتی ہے۔ جب ہم اپنی زندگیوں کی ملکیت کو یسوع مسیح کی حاکمیت میں منتقل کرتے ہیں تو وہ ہماری پست رُوحوں کی تجدید کے لیے اپنے رُوح القدس کو بھیجتا ہے ۔ رُوح القدس کو ہوا سے تشبیہ دی جاتی ہے (یوحنا 3باب 8آیت ؛ اعمال 2باب 2آیت )۔ نجات کے موقع پر وہ ہمارے دلوں میں داخل ہوتا اور ہماری رُوح کو بھرتا ہے اور یوں اب ہم خدا کے ساتھ رابطہ رکھ سکتے ہیں ۔ جبکہ وہ شخص جو پہلے گناہ آلود فطرت کی رہنمائی میں چلتا تھا اب وہ اُس رُوح القدس کی رہنمائی میں چل سکتا ہے جو ہمیں مسیح کے ہمشکل بنانے کے لیے کام کرتا ہے (رومیوں 8باب 29آیت )۔

ہمیں اپنے بدنوں کو زندہ قربانی کے طور پر پیش کرنا اور اپنی عقلوں کو نیا بنانا ہے تاکہ ہم خدا کی مرضی کے مطابق سوچنا شروع کر یں ( رومیوں 12 باب 1-2آیات) ۔ جب ہم خُدا کو جاننے، اُس کے کلام کو پڑھنےاور ہر دن خود کو رُوح القدس کے حوالے کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں تو ہمارے انتخابات بدل جاتے ہیں۔ ہماری تفریحات، ترجیحات اور جذبات بدل جاتے ہیں۔ جہاں کبھی صرف جسم کے کام تھے (گلتیوں 5باب 19-21 آیات) وہاں روح القدس کا پھل (گلتیوں 5باب 22-23آیات) اب نمایاں ہو جاتا ہے ۔ نئے سرے سے پیدا ہونے کا تجربہ صرف آغاز ہے۔ ہمیں اپنے حضور مقدس لوگوں کی طرح پیش کرنے کے لیے خدا اُس دن تک مسلسل ہمار ی زندگیوں میں کام کرتا رہتا ہے جب ہم اُسے روبرو دیکھیں گے (فلپیوں 1 باب 6آیت ؛ 2باب 13آیت؛2کرنتھیوں 11باب 2آیت ؛ افسیوں 5باب 27آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی بننے سے کوئی کس طرح نیا انسان بن جاتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries