settings icon
share icon
سوال

نیا عہد کیا ہے؟

جواب


نیا عہد (یا نیا عہد نامہ) وہ وعدہ ہے جو خدا بنی نو ع انسان کے ساتھ کرتا ہے کہ وہ گناہ کو معاف کر کے اُن لوگوں کے ساتھ رفاقت بحال کرے گا جن کے دل اُس کی طرف متوجہ ہونگے ۔ یسوع مسیح نئے عہد کا ثالثی ہے اور اُس کی صلیبی موت اِس وعدے کی بنیاد ہے (لوقا 22باب 20آیت)۔ نئے عہد کی پیشین گوئی اُس وقت کی گئی تھی جب پرانا عہد ابھی نافذ العمل تھا- موسیٰ، یرمیاہ، اور حزقی ایل سب نئے عہد کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

خدا نے اپنے لوگوں کے ساتھ جو پرانا عہد باندھا تھا وہ موسوی شریعت کی سخت پیروی کا تقاضا کرتا تھا ۔ کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6باب 23آیت) لہذا شریعت کا تقاضا تھا کہ اسرائیل گناہ کا کفارہ دینے کے لیے ہر روزقربانیاں گزرانے۔ لیکن موسیٰ بھی،جس کے وسیلہ سے خُدا نے پرانے عہد کو قائم کیا تھا نئے عہد کا منتظر تھا۔ بنی اسرائیل سے اپنے ایک آخری وعظ میں موسیٰ ایک ایسے وقت کی توقع کرتاہے جب بنی اسرائیل کو سمجھنے والا دل عطا کیا جائے گا (استثنا 29باب 4آیت)۔ موسیٰ پیشین گوئی کرتا ہے کہ بنی اسرائیل پرانے عہد کی پیروی کرنے میں ناکام رہیں گے (22-28آیات) مگر پھر وہ بحالی کے وقت کا تصور کرتا ہے (30باب 1-5آیات)۔ تب موسیٰ فرماتا ہے کہ" خُداوند تیرا خُدا تیرے اور تیری اَولاد کے دِل کا ختنہ کرے گا تاکہ تُو خُداوند اپنے خُدا سے اپنے سارے دِل اور اپنی ساری جان سے مُحبّت رکھّے اور جیتا رہے"( 6آیت)۔ نئے عہد میں دل کی مکمل تبدیلی شامل ہے پس یوں خُدا کے لوگ فطری طور پر اُس میں خوش ہیں۔

یرمیاہ نبی نے بھی نئے عہد کی پیشین گوئی کی تھی۔ "دیکھ وہ دِن آتے ہیں خُداوند فرماتا ہے جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہُوداؔہ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندُھوں گا۔۔۔۔ بلکہ یہ وہ عہد ہے جو مَیں اُن دِنوں کے بعد اِسرائیل کے گھرانے سے باندھوں گا۔ خُداوند فرماتا ہے مَیں اپنی شرِیعت اُن کے باطِن میں رکُھّوں گا اور اُن کے دِل پر اُسے لکھوں گا اور مَیں اُن کا خُدا ہُوں گا اور وہ میرے لوگ ہوں گے"(یرمیاہ 31باب 31، 33آیات)۔ یسوع مسیح موسوی شریعت کو پورا کرنے (متی 5باب 17آیت) اور خدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان نئے عہد کو قائم کرنے کے لیے آیا تھا۔ پرانا عہد پتھر کی لوحوں پر لکھا گیا تھا لیکن نیا عہد ہمارے دلوں پر لکھا گیا ہے۔ نئے عہد میں داخل ہونا صرف مسیح پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ممکن ہوا ہے جس نے دنیا کے گناہوں کو دُور کرنے کے لیے اپنا خون بہایا ہے (یوحنا 1باب 29آیت)۔ لوقا 22باب 20آیت بتاتی ہے کہ کسی طر ح خُداوند یسوع آخری فسح کے موقع پر پیالہ لیتا اور فرماتا ہے کہ " یہ پیالہ میرے اُس خُون میں نیا عہد ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔"

نئے عہد کا حزقی ایل 36باب 26-27آیات میں بھی ذکر کیا گیا ہے"مَیں تم کو نیا دِل بخشوں گا اور نئی رُوح تمہارے باطِن میں ڈالُوں گا اور تمہارے جسم میں سے سنگین دِل کو نِکال ڈالُوں گا اور گوشتِین دِل تم کو عِنایت کرُوں گا۔ اور مَیں اپنی رُوح تمہارے باطِن میں ڈالُوں گا اور تم سے اپنے آئِین کی پیرَوی کراؤں گا اور تُم میرے احکام پر عمل کرو گے اور اُن کو بجا لاؤ گے۔"حزقی ایل یہاں نئے عہد کے کئی پہلوؤں کی فہرست پیش کرتا ہے: ایک نیا دل، ایک نئی روح، زندگیوں میں بسنے والا رُوح القدس اور حقیقی پاکیزگی۔ موسوی شریعت اِن میں سے کوئی چیز عطا نہیں کر سکتی تھی (دیکھیں رومیوں 3باب 20آیت)۔

نیا عہد اصل میں اسرائیل کو دیا گیا تھا اور اس میں موعودہ سر زمین میں فراوانی ، برکات اور پُر امن قیام کا وعدہ شامل ہے۔ حزقی ایل 36باب 28-30آیات میں خدا فرماتا ہے کہ " اور تم اُس مُلک میں جو مَیں نے تمہارے باپ دادا کو دِیا سکُونت کرو گے اور تم میرے لوگ ہو گے اور مَیں تمہارا خُدا ہُوں گا۔ اور مَیں تم کو تمہاری تمام ناپاکی سے چُھڑاؤں گا اور اناج منگواؤں گا اور اِفراط بخشوں گا اور تم پر قحط نہ بھیجوں گا۔ اور مَیں درخت کے پھلوں میں اور کھیت کے حاصل میں افزایش بخشوں گا یہاں تک کہ تم آیندہ کو قَوموں کے درمِیان قحط کے سبب سے ملامت نہ اُٹھاؤ گے۔" استثنا 30باب 1-5آیات نئے عہد کے تحت اسرائیل کے حوالے سے ایسے ہی وعدوں پر مشتمل ہے۔ مسیح کے جی اٹھنے کے بعدغیر قوموں کو بھی نئے عہد کی برکت میں شامل کیا گیا (اعمال 10باب ؛ افسیوں 2باب 13-14آیات)۔ نئے عہد کی تکمیل دو موقعوں پر نظر آئے گی: زمین پر ہزار سالہ بادشاہی کے دوران؛ اور فردوس میں ابد تک۔

ہم اب شریعت کے نہیں بلکہ فضل کے ما تحت ہیں (رومیوں 6باب 14-15آیات)۔ پرانے عہد نے اپنے مقصد کو پورا کیا ہے اور اُس کی جگہ "ایک بہتر عہد" نے لے لی ہے (عبرانیوں 7باب 22آیت)۔ " مگر اب اُس نے اِس قدر بہتر خِدمت پائی جس قدر اُس بہتر عہد کا درمِیانی ٹھہرا جو بہتر وعدوں کی بُنیاد پر قائِم کِیا گیا ہے"(عبرانیوں 8باب 6آیت)۔

نئے عہد کے تحت ہمیں مفت تحفے کے طور پر نجات حاصل کرنے کا موقع دیا گیا ہے (افسیوں 2باب 8-9آیات)۔ مسیح جس نے ہماری خاطر شریعت کو پورا کیا اور اپنی کفارہ بخش موت کے وسیلے شریعت کی قربانیوں کو ختم کیا اُس پر ایمان لانا اب ہماری ذمہ داری ہے ۔ زندگی بخشنے والے رُوح القدس کے وسیلہ سے جو تمام ایمانداروں کے دلوں میں بستاہے (رومیوں 8باب 9-11آیات) ہم مسیح کی میراث کے وارث بنتے اور خدا کے ساتھ ایک مستقل اورا ٹوٹ بندھن سے لطف اندوز ہوتے ہیں (عبرانیوں 9باب 15آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نیا عہد کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries