settings icon
share icon
سوال

نیو ایج موومنٹ کیا ہے؟

جواب


"نیو ایج " کا نام اور تاثر 1970 اور 1980 کی دہائی میں میں سامنے آیا تھا ۔ اسے نیو ایج روزنامے کی گردش اور مارک سیٹن کی New Age Politics نامی ایک کتاب سے تشہیر ملی۔ میرلین فرگوسن کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب Aquarian Conspiracy نیو ایج کے سماجی ایجنڈے اور فلسفیانہ وژن کا تعارف تھی۔ فرگوسن کی تحریر نے اس تحریک کی غیر رسمی تصنیف کی حیثیت حاصل کرلی۔ جیسا کہ لاس اینجلس ٹائمز کے مصنف رسل چینڈلر نے Understanding the New Age میں لکھا ہے کہ "اگر فرگوسن نے نیو ایج' بائبل' لکھی ہے تو شِرلی میک لین اس کی سردار کاہنہ ہے۔"

شِرلی میک لین کی کتاب ، Out on a Limb ، اس کی نیو ایج نظریے کو قبول کرنے کی ہچکچاہٹ کی تاریخ کو بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب اس کے سفر اور مطالعے کی وضاحت کرتی ہے ، جس میں سائنس فکشن جیسی وسعت ،مافوقِ الفطرت سفر ، خارج ِ الارض ہستیوں سے رابطہ ، "جادوئی ابلاغ"(جّن کی آشنا کی مدد سے مُردہ لوگوں کی رُوح سے رابطہ کرنا ) اور غیب کی دنیا کا "منظم سفر" شامل ہیں۔ میک لین کی دوسری کتاب ، Dancing in the Light اُس کی یوگا کی دنیا تک رسائی ، دوبارہ جنم ، کرسٹل پاور ، ہندو منتروں اور ماضی کی زندگی کے تجربات کے بارے میں بتاتی ہے۔ اُس کی رہنما رُوح نے اُسے آگاہ کیا کہ ہر انسان خدا ہے اور اس نے "حکمت" کے ساتھ مزید بتایا کہ انسان لامحدود ہے۔ کسی بھی انسان کو صرف اِس کا ادراک حاصل کرنا ہے (چینڈلر ، صفحہ 6-2)۔

نیو ایج فلسفے کی جڑیں مشرقی تصّوف میں ہیں جو ذہن کو نظرانداز کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ شعور کا ایک نیا عضو - تیسری آنکھ – ہے جو رُوحانی روشنی بخشتی ہے۔ کسی بھی شخص کو محض اپنے آپ کو ذہن سے آنے والے پیغامات کو نظر انداز کرنے کی تربیت دے کر یا یہ دیکھنے کے لیے کہ دماغ دراصل "کائناتی شعور" حاصل کر رہا ہے "تصّوفی شخصیت" حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ذہن اُسکی حقیقت پیدا کر سکتا ہے۔

نیل اینڈرسن اپنی کتاب ، Walking Through the Darkness میں یہ لکھتا ہے کہ : "نیو ایج موومنٹ کو ایک مذہب کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ یہ حقیقت کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔ یہ اُس عام آدمی کے لیے بہت پرکشش ہے جو منظم مذہب اور مغربی عقلیت پسندی سے مایوس ہو چکا ہے۔ وہ رُوحانی سچائی کو پسند کرتا ہے لیکن مادیت کو ترک نہیں کرنا چاہتا ، اپنے اخلاقی مسائل سے نمٹنا چاہتا ہے ، یا کسی کےاختیار میں نہیں آنا چاہتا (صفحہ 22)۔ اینڈرسن نیو ایج سوچ (صفحات 22–24) کا خلاصہ کچھ یوں بیان کرتا ہے :

1) یہ نظریہ واحدیت ہے۔ یہ عقیدہ کہ سب کچھ ایک ہے اور ایک ہی سب کچھ ہے ۔ تاریخ نسل ِ انسانی کے گناہ میں مبتلا ہونے اور خدا کے نجات بخش فضل سے اس کی بحالی کی کہانی نہیں ہے۔ بلکہ یہ انسانیت کے جہالت میں مبتلا ہونا اور بتدریج روشن خیالی کی طرف ترقی کرنا ہے۔

2) سب کچھ خدا ہے۔ بشمول خدا کے اگر سب کچھ ایک ہی ہے تو ایک انسان کو یہ نتیجہ اخذ کرنا ہوگا کہ سب خدا ہے۔ یہ نظر یہ مظاہر پر ستی ہے - درخت ، گھونگھے ، کتابیں اور لوگ سب ایک الٰہی جوہرسے ہیں۔ ایک شخصی خدا کو جس نے خود کو بائبل اور یسوع مسیح میں ظاہر کیا ہے مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔ چونکہ خدا غیر شخصی ذات ہے اِس لیے نیو ایج کے ماننے والوں کو اس کی خدمت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ خدا ایک "طاقت " ہے "شخصیت" نہیں۔

3) شعور کے اندر تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم خدا ہیں تو ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ہم خدا ہیں۔ ہمیں قانونِ قدرت کی رُو سے با شعور ، روشن خیال ، یا کائناتی شعور سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ بعض لوگ جو اس روشن خیالی کا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں وہ "نئے سرے سے پیدا ہونے" کا دعویٰ کریں گے – جو کہ بائبلی تبدیلی کی نقل ہے ۔ ضروری یہ نہیں ہے کہ آیا ہم یقین یا مراقبہ کریں بلکہ ضروری یہ ہے کہ ہم کس پر یقین رکھتے ہیں اور کس کے بارے میں مراقبہ کرتے ہیں۔ مسیح حقیقی ، شخصی ، ہمہ گیر سچائی ہے جیسا کہ اس نے فرمایا ہے کہ وہ راہ اور حق اور زندگی ہے اور کوئی اُس کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا (یوحنا 14باب 6آیت)۔

4) اس میں کائناتی ارتقائی رجائیت پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ایک نیا دور آنے والا ہے۔ اُس وقت نیا عالمی نظام ہوگا، نئی عالمی حکومت ہو گی۔ نیو ایج کے حامیوں کا ماننا کہ آخرکار عالمی شعور کا ایک ترقی پسند اتحاد ہوگا۔ بائبل کے مطابق یہ ایک جعلی بادشاہی ہے جس کی قیادت خود شیطان کرتا ہے۔ مسیح کی بادشاہت حقیقی ہے اور وہ ایک دن زمین پر امن کے ساتھ ان سب کے لیے حکومت کرے گا جو اسے نجات دہندہ اور بادشاہ مانتے ہیں (مکاشفہ 5باب 13آیت)۔

5) نیو ایج موومنٹ کے پیروکار اپنی حقیقت خود تشکیل دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ جو کچھ مانتے ہیں اس سے حقیقت پیدا کرسکتے ہیں اور جو وہ مانتے ہیں اسے تبدیل کرنے کے وسیلہ سے حقیقت کو تبدیل سکتے ہیں۔ تمام اخلاقی حدود کو ختم کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی چیز مطلق نہیں ہے کیونکہ اچھائی اور برائی میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کچھ بھی حقیقی نہیں جب تک کوئی یہ نہ کہے کہ یہ حقیقت ہے یا یہ کہے کہ فلاں چیز سچ ہے۔ اگر محدود انسان سچائی پیدا کر سکتا ہے تو ہم اپنے معاشرے میں شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ اگر ابدی خدا کی طرف سے ابدی مطلق قدریں طے نہیں ہوتی تو انسان بالآخر اپنی تباہی میں ہی رہے گا ۔

6) نیو ایج کے پیروکار تاریکی کی بادشاہی سے تعلق قائم کرتے ہیں۔ وسیلے " درمیانی" اور ایک بد رُوح یعنی " رہنما رُوح " کو پکارنااس حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا کہ وہ کون ہیں ۔ یہ تاریکی کی بادشاہت سے تعلق رکھتے ہیں جس کا حاکم شیطان ہے۔ اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث افراد ایسی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں جو بائبل کے اُس خدا کے خلاف ہے جو یسوع مسیح میں ہم پر عیاں ہوا ہے اور جس نے شیطان کو شکست دی ہے (متی 4باب 1-11آیات؛ کلسیوں 2باب 15آیت؛ عبرانیوں 2باب 14-18آیات)۔

نیو ایج موومنٹ ایک جعلی فلسفہ ہے جو افراد کے جذبات کو متاثر کرتا ہے جس کے باعث وہ یہ سوچتے ہیں کہ وہ خدا ہیں اور اپنی شخصیت کے ذریعے اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم پیدا ہوتے ہیں ، جوان ہوتےہیں اور اس سیارے زمین پر کچھ وقت زندگی بسر کرنے کے بعد مر جاتے ہیں ۔ انسان محدود ہیں۔ ہم کبھی خدا نہیں بن سکتے۔ ہمیں ایک ایسی ہستی کی ضرورت ہے جو ہم سےبرتر ہے اور ہمیں معافی اور ہمیشہ کی زندگی مہیا کر سکتی ہے ۔ مجسم خدا یسوع مسیح کےلیے خداوند کا شکر ہو جس نے اپنی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلے ہمارے لیے خدا سے گناہوں کی معافی ،ایک با مقصد اور با معنی زندگی اور قبر سےآگے تک ہمیشہ کی زندگی کو جیت لیا ہے جس کی ہمیں اشد ضرورت ہے ۔ اِس بات کو نظر انداز نہ کریں کہ یسوع مسیح کون ہے اور اُس نے آپ کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔ یوحنا 3باب کا مطالعہ کیجئے۔ مسیح سے التجا کریں کہ وہ آپ کا نجات دہندہ بنے ۔ آپ کی زندگی بدل جائے گی اور آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ کون ہیں ، آپ یہاں کیوں ہیں اور آپ کہا ں جا رہے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نیو ایج موومنٹ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries