settings icon
share icon
سوال

نیو آرتھوڈوکسی کیا ہے ؟

جواب


نیوآرتھوڈوکسی جس کا ترجمہ نو راسخ الاعتقادی کیا جا سکتا ہے ایک مذہبی تحریک ہے جو پہلی جنگِ عظیم کے بعد آزاد خیال/لبرل پروٹسٹنٹ ازم کے ناکام تصورات کے خلاف رِدعمل کے طور پر شروع ہوئی۔ اِسے بنیادی طور پر سوئس عالمِ الٰہیات کارل بارتھ اور ایمل برونر نے تشکیل دیا۔ دوسرے لوگوں نے اِسے "neo-orthodoxy" کہا کیونکہ وہ اِسے پرانی مصلح الٰہیات کے احیاء کے طور پر دیکھتے تھے۔ نیو آرتھوڈوکسی خُدا کے کلام اور گناہ کے بارے میں اپنے خیالات کی بناء پر قدیم آرتھوڈوکسی سے مختلف ہے۔

آرتھوڈوکسی/راسخ الاعتقادی یہ ہے کہ بائبل خُدا کا الہامی کلام ہے جو خُدا کی طرف سے تحریک کی بدولت قلمبند کیا گیا۔ یہ تحریک زبانی اور میکانکی دونوں ہی طرح کی تھی۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ بائبل میں مرقوم کلامِ مُقدس کو قلمبند کرنے والوں پر رُوح القدس کو مکمل اختیار حاصل تھا اور رُوح القدس یا تو اُس کے لکھنے والے کو سب کچھ اپنی مرضی سے لکھوا رہا تھا یا پھر وہ اُنہیں ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہا تھا۔ الہام کا یہ نظریہ اِس منطقی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اصل مسودات کسی بھی طرح کی غلطی یا تضاد کے بغیر ہیں۔ بائبل خُدا کا مکمل اور کافی الہام ہے۔ اِس نقطہ نظر کی تائید کلامِ مُقدس کے دو حوالہ جات 2 تیمتھیس 3باب16-17آیات اور 2 پطرس 1باب 20-21 آیات کرتے ہیں۔

نیو آرتھوڈوکسی خُدا کےکلام کو یسوع (یوحنا 1باب 1 آیت) سے تعبیر کرتی ہے اور کہتی ہےکہ بائبل انسان کی طرف سے اصل کلام کے اعمال کی تشریح ہے۔ پس اِس بناء پر بائبل خُدا کا الہام نہیں اور چونکہ یہ انسانوں کی طرف سے تیار کردہ دستاویز ہے اِس لیے اِس کے مختلف حصے سچے نہیں ہو سکتے۔ خُدا نے پہلے "نجات بخش تاریخ" کے ذریعے سے کلام کیا ، اور اب جب لوگوں کی ملاقات/ سامنا "یسوع" کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ اُس وقت کلام کرتا ہے، لیکن بائبل بذات ِ خود حتمی سچائی نہیں ہے۔

نیو آرتھوڈوکسی /نئی راسخ الاعتقادی یہ تعلیم دیتی ہے کہ بائبل خُدا کے اصل مکاشفے کا ایک ذریعہ ہے۔ جبکہ حقیقی راسخ الاعتقادی کا یہ ماننا ہے کہ بائبل خُدا کا الہام ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ نیور آرتھوڈوکسی کے عالمِ الٰہیات کے نزدیک مکاشفے کا انحصار کسی شخص کے ذاتی تجربے (یا ذاتی تشریح و تفسیر) پر ہوتا ہے۔ بائبل بس اُسی وقت خُدا کا کلام بنتی ہے جب خُدا کسی شخص کی رہنمائی مسیح تک کرنے کے لیے اِسے استعمال کرتا ہے۔ بائبل کی تفصیلات اِس قدر اہم نہیں ہیں جس قدر یسوع مسیح کے ساتھ زندگی کو تبدیل کرنے والی ملاقات اہم ہے۔ یوں سچائی ایک پُراسرار تجربہ بن جاتی ہے جسے بائبل میں قطعی طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

گناہ کے بارے میں نیو آرتھوڈوکسی کایہ نظریہ ہے کہ اپنے ساتھی انسانوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی اپنی ذمہ داری کو مسترد کرنا گناہ ہے۔ گناہ کا نتیجہ انسانی خصائل کو سُلب کرنے کی صورت میں نکلتا ہے جس کے ساتھ بے رحمی،معاف نہ کرنا ، تنہائی اور بے شمار معاشرتی خرابیاں شامل ہوتی ہیں۔ نجات صرف وہی لوگ پا سکتے ہیں جو شخصی طور پر مسیح کے ساتھ ملتے ہیں – اُس کے لیے سچائی پر مبنی کسی طرح کے تعلیمی مجموعے کو قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ نیو آرتھوڈوکسی سماجی کاموں اور دوسروں کے ساتھ محبت کرنے کی ہماری اخلاقی ذمہ داری پر زور دیتی ہے۔

نیو آرتھوڈوکسی نے امریکہ میں کم قدامت پسند پریسبٹرین اور لوتھرن کلیسیاؤں کے ساتھ ساتھ دیگر بہت سارے فرقوں کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ اِس کا اصل مقصد یعنی لبرل ازم کے متبادل کے طور پر بائبل کو پیش کرنا ہے جسے کئی جگہوں پر قابلِ ستائش سمجھا جاتا ہے لیکن اِس کے باوجو نیو آرتھوڈوکسی کی تعلیمات میں کچھ فطری خطرات موجود ہیں۔ جب بھی سچائی کا تعین میرے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کیا جاتا ہے تو اُس صورت میں نسبتیت پرستی کا واضح امکان موجود ہوتا ہے۔ کوئی بھی ایسا نظریہ جو بائبل مُقدس کو غلطیوں پر مشتمل مکمل انسانی دستاویز کے طور پر دیکھتا ہے وہ مسیحیت کی بائبلی بنیادوں کو ختم کرتا ہے۔

ہم بائبل میں پیش کردہ کچھ حقائق پر یقین کئے بغیر یسوع کے ساتھ زندگی کو حقیقی طو رپر تبدیل کرنے والی ملاقات نہیں کر سکتے۔ "پس اِیمان سُننے سے پیدا ہوتا ہے اور سننا مسیح کے کلام سے " (رومیوں 10باب14 آیت)۔ ہمارے ایمان کی اصل بنیاد مسیح یسوع کی صلیبی موت اور اُس کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ہے (1 کرنتھیوں 15باب3-4 آیات)۔

لوقا 24 باب کے اندر شاگردوں کی مسیح کے ساتھ ایک واضح ملاقات ہوئی۔ اور ابتدائی طو رپر تو شاگردوں نے اُس واقعے کی غلط تشریح کی: " مگر اُنہوں نے گھبرا کر اور خَوف کھا کر یہ سمجھا کہ کسی رُوح کو دیکھتے ہیں " (37 آیت)۔ اور جب تک یسوع نے اُنہیں اِس سچائی سے آگاہ نہ کیا کہ وہ جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے وہ اُس صورتحال کی اصل حقیقت کو جان نہ سکے۔ دوسرے الفاظ میں ہمیں یسوع کے ساتھ ملاقات کرنے کی ضرورت ہے، لیکن ہمیں اِس ملاقات کی تشریح خُدا کے کلام کی روشنی میں کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر ہمارا شخصی تجربہ ہمیں گمراہ کر سکتا ہے۔

یہوداہ ہمیں نصیحت کی ہے کہ " اُس اِیمان کے واسطے جان فشانی کرو جو مُقدّسوں کو ایک ہی بار سَونپا گیا تھا۔ " ایمان ہمیں بائبل کے ذریعے سے سونپا گیا ہےجو کہ خُدا کا لکھا ہوا کلام ہے۔ ہمیں اِس سچائی پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے کہ خُدا نے اپنے کام میں سب کچھ پورے طور پر کہا ہے اوراُس کا کلام لاخطا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

نیو آرتھوڈوکسی کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries