settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


تنگ دروازے کو سکڑا راستہ بھی کہا جاتا ہے اور اِ س کا ذکر خداوند یسوع کی طرف متی 7باب 13-14آیات اور لوقا 13باب 23-24آیات میں ذکر کیا ہے۔ یسوع تنگ دروازے کا موازنہ اُس "کشادہ راستے " سے کرتا ہے جو تباہی (جہنم) کی طرف جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اُس راستے سے جانے والے "بہت " ہوں گے۔ اس کے برعکس یسوع فرماتا ہے کہ " وہ دروازہ تنگ ہے اور وہ راستہ سُکڑا ہے جو زِندگی کو پہنچاتا ہے اور اُس کے پانے والے تھوڑے ہیں" ۔ اصل میں اِس سے کیا مراد ہے؟ "بہت "سے کتنے زیادہ ہیں اور "تھوڑے " سے کتنے کم لوگ مراد ہیں؟

سب سے پہلے ہمیں اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یسوع وہ دروازہ ہے جس میں سے ابدی زندگی میں داخل ہونے کے لیے سب کے لیے گزرنا ضروری ہے ۔ اُس کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے کیونکہ وہ اکیلا ہی " راہ اورحق اور زندگی" ہے (یوحنا 14باب 6آیت)۔ ابدی زندگی کا راستہ صرف ایک راہ یعنی مسیح تک محدود ہے۔ راستہ اس لحاظ سے سکڑا ہے کہ یہی واحد راستہ ہےاور نسبتاً کم لوگ تنگ دروازے سے گزریں گے۔ بہت سے لوگ خدا کے مقابلے متبادل راستہ تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ انسانوں کے بنائے ہوئے اصول و ضوابط، جھوٹے مذہب یا ذاتی کوشش کے ذریعے وہاں پہنچنے کی کوشش کریں گے۔ وہ لوگ جن کی تعدا"بہت " زیادہ ہے اس کشادہ راستے کی پیروی کریں گے جو ابدی ہلاکت کی طرف لے جاتا ہے جبکہ بھیڑیں اچھے چرواہے کی آواز سنیں گی اور ہمیشہ کی زندگی کے سکڑے راستے پر اُس کی پیروی کریں گی (یوحنا 10باب 7-11آیات)۔

اگرچہ کشادہ راستے پر جانے والے بہت سے لوگوں کے مقابلے میں تنگ دروازے سے گزرنے والے نسبتاً کم ہوں گے لیکن اِس کے باوجود اُن لوگوں کی ایک بڑی بھیڑ ہو گی جو اچھے چرواہے کی پیروی کریں گے۔ یوحنا رسول نے اس بھیڑ کو مکاشفہ کی کتاب میں اپنی رویا میں دیکھا تھا :"اِن باتوں کے بعد جو مَیں نے نگاہ کی تو کیا دیکھتا ہُوں کہ ہر ایک قَوم اور قبیلہ اور اُمّت اور اہلِ زُبان کی ایک اَیسی بڑی بھیڑ جسے کوئی شمار نہیں کر سکتا سفید جامے پہنے اور کھجور کی ڈالِیاں اپنے ہاتھوں میں لئے ہُوئے تخت اور برّہ کے آگے کھڑی ہے۔ اور بڑی آواز سے چِلاّ چِلاّ کر کہتی ہے کہ نجات ہمارے خُدا کی طرف سے ہے جو تخت پر بیٹھا ہے اور برّہ کی طرف سے"(مکاشفہ 7باب 9-10آیات)۔

تنگ دروازے سے داخل ہونا آسان نہیں ہے۔ جب یسوع نے اپنے پیروکاروں کو تنگ دروازے سے داخل ہونے کے لیے "جانفشانی" کرنے کی ہدایت کی تو اُس نےاُن کے سامنے اِس بات کو واضح کیا ۔ agonizomai (ایگونیزومائی) وہ یونانی لفظ ہے جس کا ترجمہ "جانفشانی " کیا گیا ہے جس سے ہمیں انگریزی لفظ agonize (اذِیَّت ناک ،تکلیف دہ)حاصل ہوتا ہے۔ یہاں اِس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ تنگ دروازے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں انہیں جیت کے نشان کی طرف دوڑتے ہوئے کھلاڑی کی طرح جانفشانی اور جدوجہد کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے جو اس کوشش میں اپنے تمام پٹھوں اور قوت کو بروئے کار لاتا ہے ۔ لیکن یہاں اِس چیز کو ہمارے لیے واضح رہنا چاہیے کہ ہماری کوئی بھی کوشش ہمیں نجات نہیں دےسکتی۔ نجات خُدا کے فضل سے ایمان کے وسیلے خُدا کی خاص بخشش ہے (افسیوں 2باب 8-9آیات)۔ کوئی بھی شخص کبھی کوشش کرکے فردوس نہیں کما پائے گا۔ لیکن گناہ سے ہمارے فطری لگاؤ، انسانی تکبر کی مزاحمت ، شیطان کی طرف سے مخالفت اور دنیا کے شیطان کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے تنگ دروازے سے داخل ہونا اب بھی مشکل ہے۔ ابدیت کی تلاش میں یہ سب ہمارے خلاف حالتِ جنگ میں ہیں۔

تنگ دروازے سے داخل ہونے کے لیے جانفشانی کرنے کی نصیحت اصل میں توبہ کر کے دروازے سے داخل ہو نے کا حکم ہے نہ کہ محض کھڑے ہو کر اُسے دیکھتے رہنا، اس کے بارے میں سوچنا، یہ شکایت کرنا کہ یہ بہت سکڑا ہے یا بہت مشکل یا بے حد تنگ ہے۔ ہمیں یہ سوال نہیں کرنا چاہیے کہ دوسرے کیوں داخل نہیں ہو رہے ہیں؛ ہمیں بہانے یا تاخیر کا سہارا نہیں لینا چاہیے ۔ ہمیں اُس تعداد کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے کہ کون داخل ہوگا یا کون نہیں ۔ ہمیں آگے بڑھ کر اُس میں داخل ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ! اس کے بعد ہمیں دوسروں کو نصیحت کرنی ہے کہ وہ بھی داخل ہونے کی کوشش کریں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries