settings icon
share icon
سوال

بیانیہ علمِ الٰہیات کیا ہے ؟

جواب


بیانیہ علم الٰہیات یا جسے بعض اوقات "پوسٹ لبرل/مابعد آزاد خیال" علم ِالٰہیات بھی کہا جاتا ہے بیسویں صدی کے آخری نصف میں ارتقاء پذیر ہوا تھا ۔اس نے ئیل ڈیونٹی سکول میں ماہرین علم الٰہیات کے ایک گروہ سے تحریک پائی تھی ۔ اس کے بانی جارج لِنڈبیک، ہانس ولہیم فری اور دیگر عالمین کارل بارتھ، تھامس ایکوائنس اور کسی حد تک نیوویل تھیولوجی، کیتھولک چرچ میں اصلاح کی تجویز دینے والے ایک مکتبہ فکر سے متاثر تھے جس کی قیادت ہنری ڈی لُوبیک جیسے فرانسیسی کیتھولک لوگوں نے کی تھیں۔

بیانیہ علم ِ الٰہیات یہ تصور ہے کہ بائبلی علم ِ الٰہیات کے مسیحی استعمال کو خود صحائف سے استدلال کی گئی تجاویز کے ایک مجموعے جسے عام طور پر "باقاعدہ علم ِ الٰہیات" کہا جاتا ہے کے ارتقاء کی بجائے ایمان کی بیانیہ نمائندگی پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ بنیادی طور پر بیانیہ علم ِ الٰہیات کافی وسیع اصطلاح ہے لیکن اکثر اوقات یہ علم الٰہیات کے بارے میں ایسا نقطہ نظر ہے جو بنیادی طور پر کہانی کے معنی کو مد نظررکھتا ہے۔ پس اِس لیے یہ مخصوص طور پر تجویزی سچائیوں سے اخذ کردہ معنی یا اس کے باقاعدہ علم ِ الٰہیات کی تردید سے جڑا ہوتا ہے ۔

دیگر مواقع پر بیانیہ علم ِ الٰہیات اس خیال سے وابستہ ہے کہ ہم نے بنیادی طور پر کتابِ مقدس سے اصول، قواعد یا قوانین نہیں سیکھنے بلکہ ہم نے سیکھنا ہے کہ ہم خدا سے کیسے تعلق قائم کریں اور اپنی نجات کے عظیم منظرنامے میں اپنا کردار کیسے ادا کریں۔ اس طرح کےعلمِ الٰہیات کے دیگر مجموعے بھی عام ہیں۔ اس وجہ سے بیانیہ یا مابعد آزاد خیال علم ِ الٰہیات پر مبنی موضوعات جن میں عدم مطابقت، فرقہ پرستی، نسبتیت اور سچائی شامل ہیں کے حوالے سے مباحثے اور ناقدین سامنے آتے رہے ہیں

بہر حال جب درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو بیانیہ علم الٰہیات منظم علم الٰہیات اور بائبلی علم الٰہیات (یعنی خدا کے بتدریج خودکو انسان پر عیاں کرنے کی تاریخ ) کے لیے بنیادی اکائیاں فراہم کر سکتا ہے۔ بیانیہ الٰہیات سکھاتا ہے کہ بائبل کو خدا کی طرف سے اپنے لوگوں کے ساتھ تعامل کی کہانی کے طور دیکھا جاتا ہے۔ بیانیہ علم ِ الٰہیات کے حامی کہتے ہیں کہ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بائبل تجویزی سچائی کے دعوے پیش نہیں کرتی بلکہ یہ کہ بائبل مقدس کا بنیادی مقصد خدا اور اُس کے لوگوں کے درمیان تعلق اور اس بات کو قلمبند کرنا ہے کہ آج ہم اس مابعد از جدید دنیا میں رہتے ہوئے اس کہانی میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں ۔ لہذا یہ باضابطہ علم ِ الٰہیات کے زیادہ درست تجزیے پر فوقیت حاصل کرنا ہے۔ بیانیہ الٰہیات کے حامی مزید دلیل دیتے ہیں کہ بیانیہ علمِ الٰہیات میں آیات کا سیاق و سباق سے ہٹ کر عقائدی موقف کی حمایت کرنے کا امکان کم ہے۔

بیانیہ علم ِ الٰہیات کے دیگر اور بھی فائدہ مند پہلو ہیں ۔ مثال کے طور پر بائبل کی کہانیاں ہمیں سچائی سکھانے کے لیے موجود ہیں؛ ہم سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم اُن سچائیوں سے سیکھیں اور اُن اسباق کااپنی زندگیوں پر اطلاق کریں ۔ اِسی وجہ سے ہمیں کتابِ مقدس کی اُن کہانیوں کی تشریح اور اطلاق مصنفین کے اصل مقاصد کے مطابق کرنا چاہیے- یہ کہانیاں اس لیے ہماری خاطر محفوظ کی گئی ہیں (دیکھیں رومیوں 15باب 4آیت)۔ بیانیہ الٰہیات کا ایک اور مثبت اثر یہ ہے کہ یہ برادری کی اہمیت کو تقویت بخشتا ہے۔ جدید دور میں لوگوں نے مسیحیت کواکثر اپنے اپنے انفرادی ایمان میں بدل دیا ہے لیکن خدا کے اپنے لوگوں کے ساتھ تعلق کی بائبلی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ برادری نہایت ضروری ہے۔

یہ بات سچ ہے کہ بائبل میں کہانی پر مبنی بڑے بڑے حصے پائے ہیں جن کا مقصد سچائی کو ہم تک پہنچانا ہے لہٰذا ہمارے لیے بیانیہ علم الٰہیات کی کسی شکل کو اختیار کرنا ضروری ہے ۔ تاہم بیانیہ الٰہیات کے اپنے مسائل بھی ہیں خصوصا ً جب اِسے غیر ذمہ داری سے استعمال کیا جاتا رہا ہے ۔ اور بغیر کسی سوال کے ایسا اُن قدامت پسند حلقوں میں بھی ہوتا ہے جو جدید خیالات کو پسند نہیں کرتے ۔ یہ خاص طور پر اُس وقت سچ ثابت ہوتا ہے جب بیانیہ علم ِ الٰہیات کے اُستاد اور مبلغین بائبل کے اصل مفہوم کے بارے میں بے فکر ہو جاتے اور اپنے ادراک یا صحائف کے بارے میں اُن کے اپنے ردعمل سے متاثر ہوتے ہیں۔ نتیجتاً بیانیہ علم ِ الٰہیات کو اکثر مضر طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔

بیانیہ علم ِ الٰہیات کاغلط استعمال بھی کیا جاتا رہا ہے جب لوگ یہ طے کر لیتے ہیں کہ کہانی میں کوئی بنیادی باضابطہ علم الٰہیات نہیں ہےیا یہ کہ کہانی کے بنیادی علم الٰہیات کو معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے معاملات میں خیال کیا جاتا ہے کہ کہانیوں کے اسباق کو متن کے اصل مصنفین کے نظریہ حیات یا متن کے مصنفین کے بغیر سمجھا جا سکتا ہے۔ بنیادی طور پر اس کا نتیجہ جھوٹی تعلیم کی صورت میں نکلتاہے جس کے باعث بیانیہ علم الٰہیات کے کچھ حامی کہانی سے براہ راست اطلاق کی طرف بڑھتے اور صحائف کے زیادہ معقول تجزیےکو مسترد کر دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ شاید بیانیہ علم ِ الٰہیات کا سب سے واضح اثر و رسوخ باضابطہ علم الٰہیات کے بے یقینی اور نسبتاً کم احترام کے ساتھ ایمرجنٹ چرچ میں پایا جاتا ہے۔

خاص طور پر ایمرجنگ چرچ میں بیانیہ علم ِ ا لہیات کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ علم ِالٰہیات ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں ہم کٹر ہو سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "اچھے" لوگ سالوں سے مختلف نتائج اخذ کرتے چلے آ رہے ہیں توپھر علمِ الٰہیات کے بارے میں حتمی بیانات دینے یا حتمی نتائج اخذ کرنے کی پریشانی کیوں اُٹھائی جائے ؟ پس اُن کے نقطہ نظر سے علم ِ الٰہیات کوئی ٹھوس، حتمی اور بااختیار چیز نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں لوگ مختلف طرح کے اعتقادات رکھتے تھےاُن میں سے کچھ صحیح تھے اور کچھ غلط۔

ان سب باتوں کے باعث ہمارے ہاں آج کچھ گرجا گھروں میں نسبتیت کا نظریہ بکثرت پھیل گیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ کوئی نہیں جاننا چاہتا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ اور سب سے بُری بات یہ ہے کہ اِس سے کسی کو کوئی سروکار بھی نہیں ۔ نتیجتاً کلیسیا بے دین آزاد خیال مابعد از جدیدیت کا شکار ہو جاتی ہےجہاں ایک شخص کے نزدیک جو بات سچ ہے ممکن ہے کہ وہ دوسرے کے نزدیک سچ نہ ہو۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کلیسیا ہر بات کو درگزر کرتی جاتی ہے اور کسی بات پر قائم نہیں رہتی ۔

جیسا کہ ایمرجنگ چرچ موومنٹ میں ہوتا ہے کہ بیانیہ علم ِ الٰہیات کے کچھ حامی منادی کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ ہو سکتا کوئی شخص اپنے ساتھیوں کے حلقے میں بیٹھ کر کسی مخصوص دن یا ہفتے کو خدا کے بارے میں ایسی باتیں بیان کرے جو وہ لوگ خدا کے بارے میں سوچتے ہیں ۔ وہ کسی ایسے صحیفے کا حوالہ بھی دے سکتا ہے جو اُس کے اس تجربے سے تعلق رکھتا ہے ۔ لیکن خدا کے کلام کے بجائے اُس کے تجربات اور احساسات مرکزی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ ایسا کرتے ہوئے لوگ کوئی کہانی بیان کرتے یا کلام مقدس کا کوئی حوالہ پڑھتے ہیں اور پھر رک جاتے ہیں۔ نصیحت ، ملامت یا اطلاق کے لیے کہنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ یہ کلامِ مقدس کے مستند بیان کی تعمیل کرنے کے بارے میں نہیں بلکہ اس تجربے کی جسمانی خواہشات کی حمایت کے لیے کلامِ مقدس کا استعمال کرنا ہے جو وہ اپنی مرضی سے اختیار کرتے ہیں۔

کلیسیا کو سچائی کا ستون اور حامی سمجھا جاتا ہے (1 تیمتھیس 3باب 15آیت ) اور جیسا کہ بائبل میں یسوع مسیح کی شخصیت کے ذریعے بیان کیا گیا ہے کہ سچائی عقیدے کا ایک مجموعہ ہے ۔ جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اگرچہ بیانیہ علم ِ الٰہیات کے مختلف لحاظ سے اپنے فوائد ہیں لیکن یہ اُن مابعد جدیدیت پسندوں کو اُکسانے کا رجحان رکھتا ہے جو اپنے مذہب اور اپنے "خدا" کے متعلق تصورات کواُن احساسات کی بنیاد پر تشکیل دینا چاہتے ہیں جو وہ کسی مخصوص دن یا کلامِ مقدس کے کسی حوالے کے بارے میں محسوس کرتے ہیں ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

بیانیہ علمِ الٰہیات کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries