یسوع کے مختلف نام اور القابات کیا ہیں؟


سوال: یسوع کے مختلف نام اور القابات کیا ہیں؟

جواب:
بائبل میں مسیح کے لگ بھگ 200 نام اور القابات پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں کچھ زیادہ معروف نام دئیے گئے ہیں جن کو تین حصوں میں ترتیب دیا گیا ہے ۔ یہ نام اور القابات مسیح کی فطرت ، خدا کےثالوث اتحاد میں اس کے مقام اور زمین پر ہماری نجات کی خاطر اُسکے خاص کام کی عکاسی کرتے ہیں۔

یسوع مسیح کے نام اور القابات- اُس کی فطرت کے لحاظ سے

کونے کے سرے کا پتھر:(افسیوں 2باب 20آیت) -یسوع اُس عمارت یعنی اپنی کلیسیا کی بنیادکےکونے کے سرے کا پتھر ہے ۔ وہ یہودی اور غیر یہودی، مرد اور عورت- تمام عمر اور تما م علاقوں کے سب مقدسین کو اس ڈھانچے میں جوڑتا ہے جومسیح پر ایمان کے وسیلہ سے بنایا گیا ہے اور جس میں سب شامل ہیں ۔

تمام مخلوقات سے پہلے مولود: (کلسیوں 1باب 15آیت)-یسوع مسیح خدا کی طرف سے تخلیق کردہ کوئی پہلی چیز یا مخلوق نہیں ہے جیسا کہ کچھ لوگ غلط طور پر دعویٰ کرتے ہیں، کیونکہ 16آیت بتاتی ہے کہ تمام چیزیں مسیح کے وسیلہ سےاور مسیح کےلیے تخلیق کی گئی تھیں ۔ بلکہ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ مسیح تمام چیزوں پر سب سے پہلے مولود ہونے والے کا عہدہ اور مقام رکھتا ہے، کہ وہ کائنات میں اعلیٰ مرتبے کو برقرار رکھتا ہے ؛ وہ دوسروں سے ہر لحاظ سے زیادہ نمایاں ہے ؛ وہ تمام چیزوں کا مالک ہے ۔

کلیسیا کا سر: ( افسیوں 1باب 22آیت؛ 4باب 15آیت؛ 5باب 23آیت)- کسی بادشاہ یا پوپ کی بجائے صرف یسوع مسیح ہی کلیسیایعنی اُن سب لوگوں کا سر ہے جن کے لیے اُس نے جان دی ہے ، وہ اُن سب کا جو اپنی نجات کے لیے صرف اور صرف یسوع پر ایمان لاتے ہیں اعلیٰ اور خود مختار حکمران ہے ۔

قدوس اور راستباز: (اعمال 3باب 14آیت؛ 16زبور 10آیت)-مسیح اپنی الوہیت اور اپنی بشریت دونوں میں ہی پاک ہے ۔ وہ اپنے لوگوں کےلیے پاکیزگی کا سر چشمہ ہے ۔ اُس کی موت کے وسیلہ سے ہم خدا کے حضور پاک اور راستباز ٹھہرائے جاتے ہیں۔

منصف: ( اعمال 10باب 42آیت؛ 2تیمتھیس 4باب 8آیت)- خدا نے مسیح یسوع کو دنیا کا منصف اور ہمیشہ کی زندگی کا اجردینے والا مقرر کیا ہے ۔

بادشاہوں کا بادشاہ اور خداوندوں کا خدا: ( 1تیمتھیس 6باب 15آیت؛ مکاشفہ 19باب 16آیت)۔یسوع دنیا میں موجود تمام حکام پر ،تمام بادشاہوں اور حکمرانوں پر اختیار رکھتا ہے اور کوئی بھی انسان اُسے اُس کے مقاصد کو سرانجام دینے سے روک نہیں سکتا ۔ وہ جس طرح چاہتا ہے اُن کو ہدایت دیتا ہے ۔

دنیا کا نور: (یوحنا 8باب 12آیت)-یسوع گناہ کے باعث تاریک دنیا میں اس لیے آیا تاکہ اپنے کام اور کلام کے ذریعے سے اس کو زندگی اور سچائی کی روشنی سے منور کرے ۔ وہ لوگ جو اُس پر ایمان لاتے ہیں یسوع کی طرف سے اُن کی آنکھیں کھولی جاتی ہیں اور وہ نور میں چلتے ہیں ۔

سلامتی کا شاہزادہ : ( یسعیاہ 9باب 6آیت)-یسوع اپنی پہلی آمد میں اِس دُنیا سے جنگ و جدل کو ختم کرتے ہوئے یہاں امن و سلامتی لانے کےلیے نہیں آیا تھا بلکہ وہ خدا اور انسان کے مابین جو کہ گناہ کی وجہ سے ایک دوسرے سے جُدا ہو گئے تھے سلامتی اور رفاقت قائم کرنے کےلیے آیا تھا ۔ وہ گنہگار لوگوں کی پاک خدا کے ساتھ صلح کروانے کےلیے دنیا میں آیا تھا ۔

خدا کا بیٹا: ( لوقا 1باب 35آیت؛ یوحنا 1باب 49آیت)-یسوع ہی " باپ کا اکلوتا بیٹا" ہے ( یوحنا 1باب 14آیت)۔ یہ جملہ نئے عہد نامے میں 42بار استعمال ہوا ہے ۔ یہ جملہ" خدا کا بیٹا " یسوع کی الوہیت کی تصدیق کرتا ہے ۔

ابنِ آدم: (یوحنا 5باب 27آیت)-"ابنِ آدم کی یہ اصطلاح مسیح کی بشریت پر زور دیتی ہے جو اُس کی الٰہی فطرت کے ساتھ موجود رہتی ہے ۔ یہ بھی موعودہ مسیحا کا ایک لقب ہے ( دانی ایل 7باب 13-14آیات؛ مرقس 14باب 63آیت)۔

کلام: ( یوحنا 1باب 1آیت؛ 1یوحنا 5باب 7-8آیات)- کلام ثالوث خدا کا تیسرا اقنوم ہے جس نے جیسا فرمایا ویسا ہو گیا تھا ۔ جس نے پہلی تخلیق میں اپنے کلام کے وسیلہ سے تمام چیزوں کو لا موجود سے پیدا کیا تھا اور جو ابتدا میں خدا باپ کے ساتھ تھا اور خدا تھا ۔ جس کے وسیلہ سے تمام چیزیں پیدا کی گئی تھیں ۔

کلامِ خدا : ( یوحنا 19باب 12آیت)-یہ مسیح کو دیا جانے والا وہ نام ہے جس سے اُس کی اپنی ذات کے علاوہ باقی سب لوگ انجان ہیں۔ یہ نام اُس کی الوہیت کے بھید کی نشاندہی کرتا ہے ۔

زندگی کا کلام: ( 1یوحنا 1باب 1آیت)- یسوع نے نہ صرف ایسا کلام کیا جو ہمیشہ کی زندگی کی جانب رہنما ئی کرتا ہے بلکہ خوشی اور اطمینان سے بھری ہمیشہ کی اُس زندگی کی طرف اشارہ بھی کرتا ہے جسے وہ مہیا کرتا ہے ۔ اس آیت کے مطابق وہ بذات خود زندگی کا کلام ہے ۔

یسوع مسیح کے نام اور القابات- تثلیث میں اُس کے مقام کے لحاظ سے

الفا اور اومیگا: (مکاشفہ 1باب 8آیت؛ 22باب 13آیت) -یسوع مسیح خود کو تمام چیزوں کی ابتدا اور انتہا قرار دیتا ہے ۔یہ ایک ایسا حوالہ ہے جو حقیقی خدا کے علاوہ کسی اور شخصیت کے بارے میں نہیں ہے ۔ ابدیت کے اِس دعوے کا اطلاق صرف اور صرف خدا کی ذات پرہو سکتا ہے ۔

عمانوایل: ( یسعیاہ 9باب 6آیت؛ متی 1باب 23آیت)-بالکل" خدا ہمارے ساتھ ہے "۔ یسعیاہ نبی اور متی رسول دونوں اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسیح جو بیت لحم میں پیدا ہوا بذات خود خدا تھا اور جو اپنے لوگوں کے درمیان رہنے کےلیے انسان کی صورت میں(مجسم ہو کر) زمین پر آیاتھا ۔

میَں ہوں: (یوحنا 8باب 58آیت؛ خروج 3باب 14آیت)-جب یسوع نے اس لقب کو اپنے آپ سے منسوب کیا تھا تو یہ یہودیوں کے مطابق کفر تھا، پس اُنہوں نے اِس وجہ سے اُسے سنگسار کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ وہ خود کو ابدی خدا یعنی پرانے عہد نامے کا لا تبدیل یہواہ خدا قرار دے رہا ہے ۔

سب کاخداوند : (اعمال 10باب 36آیت) – یسوع مسیح پوری دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں پر ، دنیا کی تمام اقوام اور بالخصوص خدا کے چنیدہ لوگوں، غیر یہودیوں اور یہودیوں پر خود مختار حکمران ہے۔

حقیقی خدا: (1یوحنا 5باب 20آیت)یہ براہ راست دعویٰ ہے کہ یسوع مسیح حقیقی خدا ہونے کےناطے نہ صرف الٰہی ذات ہے بلکہ قادرِ مطلق بھی ہے ۔ چونکہ بائبل صرف ایک خدا کے بارے میں تعلیم دیتی ہے لہذا یہ اُس کی فطرت کو ثالوث خدا کے ایک حصے کے طور پر بیان کرنا ہو سکتا ہے ۔

یسوع مسیح کے نام اورا لقابات۔ زمین پر اس کےکام کے لحاظ سے

ہمارے ایمان کا بانی اور کامل کرنے والا: (عبرانیوں 12باب 2آیت)- نجات اُس ایمان کے وسیلہ سے حاصل ہوتی ہے جو خدا کی طرف سے بخشش ہے ( افسیوں 2باب 8-9آیات)۔ اور یسوع مسیح ہمارے ایمان کا بانی اور اس کو کامل کرنے والا بھی ہے ۔ ابتدا سے انتہا تک وہی اُس ایمان کا منبع اور برقرار رکھنے والا ہے جو ہمیں نجات بخشتا ہے ۔

زندگی کی روٹی: (یوحنا 6باب 35آیت؛ 6باب 48آیت)- جسمانی اعتبار سے جس طرح روٹی زندگی کو برقرار رکھتی ہے بالکل اُسی طرح سے یسوع وہ روٹی ہے جو ہمیشہ کی زندگی بخشتی اور اُسے قائم رکھتی ہے ۔ خدا نے بیابان میں کھانے کےلیے اپنے لوگوں کو من مہیا کیا تھا اور ہمیں ابدی زندگی دینے کےلیے اُس نے یسوع مسیح کو بھیجا ہے تاکہ اُس کے بدن کے وسیلہ سے جو ہماری خاطر توڑا گیا ہے ہم ہمیشہ کی زندگی پائیں ۔

دلہا: ( متی 9باب 15آیت)- مسیح کی بطورِ دلہا اور کلیسیا کی بطورِ مسیح کی دلہن تصویر کشی اُس خاص تعلق کو ظاہر کرتی ہے جس میں ہم اُس کے ساتھ قائم ہیں ۔ ہم فضل کے اٹوٹ عہد میں ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں ۔

چھُڑانے والا: ( رومیوں 11باب 26آیت)- جس طرح بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے چھٹکارے کےلیے خدا کی ضرورت تھی بالکل اِسی طرح سے گناہ کی غلامی سے چھٹکارے کےلیے ہمیں مسیح کی ضرورت ہے ۔

اچھا چرواہا:(یوحنا 10باب 11اور 14آیت)- بائبل کے زمانے میں ایک اچھا چرواہا اپنی بھیڑوں کو شکاریوں سے بچانے کےلیے اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا تھا ۔ یسوع مسیح نے اپنی بھیڑوں کےلیے اپنی جان دی ہے ۔ وہ ہماری فکر کرتا ہے اور ہمیں پالتا اور کھلاتا ہے ۔

سردار کاہن: (عبرانیوں 2باب 17آیت) - یہودی سردار کاہن اپنے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ دینے کے لئے سال میں ایک بار ہیکل میں داخل ہوتا تھا ۔ خداوند یسوع نے اپنے لوگوں کے لیے صلیب پر ایک ہی بار اس کفارے کو اد ا کر دیا ہے ۔

خدا کا برّہ: ( یوحنا 1باب 29آیت) – خدا کی شریعت گناہ کے کفارے کےلیے ایک بے گناہ اور بے عیب برّے کا تقاضا کرتی تھی ۔ یسوع وہ برّہ بن گیا اور اپنے دُکھوں میں صبر کا اور اپنی مرضی سے جان دینے کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بڑی عاجزی سے قربان ہو گیا ۔

درمیانی :(1تیمتھیس 2باب 5آیت) – درمیانی وہ شخص ہوتا ہے جو دوفریقوں کے درمیان صلح کروانے کا کام سرانجام دیتا ہے ۔ مسیح وہ واحد اور اکیلا درمیانی ہے جو انسانوں اور خدا کے درمیان صلح کراتا ہے ۔ مریم یا مقدسین سے دُعا کرنا بُت پرستی ہے کیونکہ یہ عمل مسیح کے اہم ترین کردار کو نظر انداز کرتا اور درمیانی کے کردار کو کسی اور شخصیت سے منسوب کرتا ہے ۔

چٹان:(1کرنتھیوں 10باب 4آیت)- جس طرح بیابان میں اُس چٹان سے جس پر موسیٰ نے اپنا عصا مارا تھا زندگی بخشنے والا پانی نکل آیا تھا بالکل اُسی طرح سے یسوع ہماری وہ چٹان ہے جس سے ہمیشہ کی زندگی کا پانی مہیا ہوتا ہے ۔ یسوع وہ چٹان ہے جس پر ہم اپنے رُوحانی گھروں کو تعمیر کرتے ہیں تاکہ کوئی طوفان اُن کو ہلا نہ سکے ۔

قیامت اور زندگی : (یوحنا 11باب 25آیت)- جس طرح یسوع خود مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا ایسے ہی گنہگاروں کو ابدی زندگی کےلیے اُٹھا کھڑا کرنے کی قدرت اُس کی اپنی ذات کے اندر پائی جاتی ہے ۔ ہمارے گناہ اُس کے ساتھ دفن ہو چکے ہیں اور اب ہم نئی زندگی میں چلنے کےلیے جی اُٹھے ہیں۔

نجات دہندہ: (متی 1باب21آیت؛ لوقا 2باب 11آیت ) –اپنے لوگوں کے فدیے میں جان دینے ، اپنی قدرت کے ذریعے اُنہیں نیا بنانے کےلیے رُوح القدس بخشنے، اُن کے رُوحانی دشمنوں پر غلبہ پانے کےلیے اُنہیں قوت دینے ، آزمائشوں اور موت میں اُن کو بچائے رکھنے اور آخری دن اُن کو زندہ کرنے کےوسیلہ سے وہ اُنہیں نجات بخشتا ہے ۔

انگور کا حقیقی درخت :( یوحنا 15باب 1آیت)-انگور کا حقیقی درخت اپنی شاخوں ( ایمانداروں ) کو وہ تمام چیزیں یعنی نجات کاحیات بخش پانی اور کلام کی غذافراہم کرتا ہے جو رُوحانی پھل پیدا کرنے کےلیے اُنہیں درکا ہوتی ہیں ۔

راہ ، حق اور زندگی: ( یوحنا 14باب 6آیت)- یسوع ہی خدا تک رسائی کی واحد راہ ، جھوٹ کی دنیا میں واحد سچائی اور ہمیشہ کی زندگی کا واحد اور حقیقی ذریعہ ہے ۔ وہ عارضی لحاظ (یعنی اِس زمین پر زندگی کے دوران )اور ابدی لحاظ سے اِن تینوں چیزوں کا مظہر ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
یسوع کے مختلف نام اور القابات کیا ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں