رُوح القدس کے نام اور القابات کیا ہیں؟


سوال: رُوح القدس کے نام اور القابات کیا ہیں؟

جواب:
رُوح القدس بہت سے نام اور القابات سے جانا جاتا ہے جن میں سے زیادہ تر نام اُس کی خدمت کے کچھ کاموں یا پہلوؤں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بائبل رُوح القدس کےلیے جو نام اور القابات استعمال کرتی ہے اُن میں سے چند ذیل میں پیش کیے جاتے ہیں :

کلامِ مقد س کا مصنف : (2پطرس 1باب 21آیت؛ 2تیمتھیس 3باب 16آیت) بائبل مُقدس رُوح القدس کے الہام سے ہے جو تثلیث کا تیسرا اقنوم ہے ۔ رُوح القدس نے تمام 66 کتابوں کے مصنفین کو تحریک دی تھی کہ وہ اُن باتوں کو درست طور پر قلمبند کریں جو اُن کے دل و دماغ میں اُس نے ڈالی تھیں ۔ جس طرح ایک بحری جہاز اپنے بادبانوں میں ہوا کی تحریک کے باعث آگے بڑھتا ہے بائبل کے مصنفین نے بھی بالکل ایسے ہی رُوح القدس کی قوت کے زیرِ اثر کام کیا تھا ۔

مددگار/گواہ/مشیر : ( یسعیاہ 11باب 2آیت؛ یوحنا 14باب 16آیت؛ 15باب 26آیت؛ 16باب 7آیت)۔ یہ تینوں الفاط یونانی لفظ پیراکلیٹس کا ترجمہ ہیں جس سے ہمیں رُوح القدس کا ایک اور نام " پیراکلیِٹ" حاصل ہوتا ہے ۔جب یسوع آسمان پر چلا گیا تھا تو اُس کے شاگرد بہت افسردہ تھے کیونکہ وہ اُس کی تسلی بخش موجودگی سے محروم ہو چکے تھے ۔ لیکن اُس نے اُن لوگوں کی رہنمائی ، تسلی اور مدد کےلیے رُوح القدس بھیجنے کا وعدہ کیا تھا جو مسیح سے جڑے ہوئے ہیں ۔ رُوح القدس ہماری رُوحوں کے ساتھ مل کر "گواہی " دیتا ہے کہ ہم اُس سے منسلک ہیں اور اس طرح سے وہ ہمیں نجات کی یقین دہانی کراتا ہے ۔

گناہ کے بارے میں قصوروار ٹھہرانے والا :( یوحنا 16باب 7-11آیات)۔ رُوح القدس انسانی دلوں پر خدا کی سچائیوں کا اطلاق کرتا ہے تاکہ درست اور مناسب دلائل کے ذریعے اُن کو باور کرائے کہ وہ گنہگار ہیں ۔ یہ کام وہ ہمارے دلوں میں اس بات کواُجاگر کرنے کے وسیلہ سے سرانجام دیتا ہے کہ ہم پاک خدا کے حضور کھڑے ہونے کے لائق نہیں ہیں اور یہ کہ ہمیں اُس کی راستبازی کی ضرورت ہے اور یہ بھی کہ عدالت یقینی ہے جو ایک دن تمام انسانوں پر آئے گی ۔ ان سچائیوں کا انکار کرنے والے لوگ رُوح القدس کی تحریک کے خلاف سرکشی کرتے ہیں ۔

بیعانہ /مہر : ( 2کرنتھیوں 1باب 22آیت؛ 5باب 5آیت؛ افسیوں 1باب 13-14آیات)۔ رُوح القدس خدا کے لوگوں پر اُس کے اس دعوے کی مُہر ہے کہ ہم اُس کی ملکیت ہیں ۔ ایمانداروں کو دی جانے والی رُوح القدس کی نعمت ہماری اُس آسمانی میراث کی پیشگی ہے جس کا مسیح نے ہم سے وعدہ کیا ہے اور جسے صلیبی کفارے کے وسیلہ سے محفوظ کیا گیا ہے ۔ رُوح القدس نے اس لیے ہم پر مُہر کی ہے کہ ہم اپنی نجات کے بارے میں پُر یقین ہو جائیں۔ اور کوئی شخص خدا کے رُوح کی مہر کو توڑ نہیں سکتا ۔

رہنمائی کرنے والا: ( یوحنا 16باب 13آیت) سچائی کو قلمبند کرنے کےلیے رُوح القدس نے جیسے بائبل کے مصنفین کی رہنمائی کی تھی ایسے ہی وہ ایمانداروں سے وعدہ کرتا ہے کہ وہ سچائی کو جاننے اور سمجھنے میں اُن کی رہنمائی کرے گا ۔ خدا کی سچائی دنیا کےلیے " بے وقوفی" ہے کیونکہ یہ " رُوحانی طور پر پرکھی جاتی " ہے ( 1کرنتھیوں 2باب 14آیت)۔ مسیح سے منسلک لوگوں کی زندگیوں میں رُوح القدس بسیرا کرتا ہے جو رُوحانی معاملات سے متعلق اُن تمام باتوں کو جاننے میں ہماری رہنمائی کرتا ہے جن کو ہمیں جاننے کی ضرورت ہے ۔ وہ لوگ جو مسیح سے تعلق نہیں رکھتے اُن کے پاس خدا کے کلام کو جاننے اور سمجھنے میں رہنمائی کرنے کے لیے کوئی "ترجمان/مددگار" نہیں ہوتا۔

ایمانداروں کی زندگی میں بسنے والا : ( رومیوں 8باب 9-11آیات؛ افسیوں 2باب 21-22آیات؛ 1کرنتھیوں 6باب 19آیت)رُوح القدس خدا کے لوگوں کے دلوں میں بستا ہے اور رُوح القدس کا یہ قیام نئی پیدایش کے حامل شخص کی امتیازی خصوصیت ہے ۔ ایمانداروں کی زندگی میں اس قیام کے وسیلہ سے وہ ہمیں نصیحت اور رہنمائی کرنے ، تسلی دینے اور تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری زندگیوں میں رُوح کا پھل بھی پیدا کرتا ہے (گلتیوں 5باب 22-23آیات )۔ وہ خدا اور اُس کے بچّوں کےمابین گہری رفاقت قائم کرتا ہے ۔ مسیح کے تمام سچے ایمانداروں کے دل رُو ح القدس سے معمور ہوتے ہیں ۔

شفاعت کرنے والا: ( رومیوں 8باب 26آیت) شفاعت کی خدمت رُوح القدس کے سب سے زیادہ مؤثر اور راحت بخش پہلوؤں میں سے ایک ہے جو وہ اُن زندگیوں کی خاطر سر انجام دیتا ہے جن میں وہ بسا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اکثر جب ہم خدا کے حضور جاتے ہیں تو نہیں جانتے کہ کیادُعا کریں اور کیسے دُعا کریں ، مگر رُوح القدس ہمارے لیے شفاعت اور دُعا کرتا ہے ۔ وہ ہماری " آہوں " کی ترجمانی کرتا ہے لہذا جب ہم زندگی کی مشکلات اور فکروں کی وجہ سے دبے اور کچلے ہوتے ہیں تو وہ فضل کے تخت کے سامنے کھڑے ہونے اور قائم رہنے میں ہماری مدد کرتا ہے ۔

سچائی کو عیاں کرنے والا رُوح /رُوحِ حق:(یوحنا 14باب 17آیت؛ 16باب 13آیت؛ 1کرنتھیوں 2باب 12-16آیات) یسوع نے وعدہ کیا تھا کہ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعدجب رُوح القدس آئے گا تو وہ " تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا "۔ کیونکہ رُوح القدس ہمارے دلوں میں بسا ہوا ہے لہذا رُوحانی معاملات میں ہم سچائی کو اُس طرح سے سمجھنے کے قابل ہیں جس طرح سے غیر مسیحی نہیں سمجھ سکتے ۔ رُوح القدس درحقیقت جس سچائی کو ہم پر عیاں کرتا ہے وہ غیر مسیحیوں کےلیے " بے وقوفی " ہے اور وہ اِسے سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ لیکن اُس کے رُوح کے وسیلہ سے جو ہمارے اندر بسا ہوا ہے ہم مسیح کی مانند سوچتے ہیں ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
رُوح القدس کے نام اور القابات کیا ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں